نگہت داد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
نگہت داد
Nighat Dad.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1981 (عمر 37–38 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
لاہور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
تعداد اولاد 1   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعداد اولاد (P1971) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ پنجاب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ وکیل،  سماجی کارکن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
انسانی حقوق کا ٹیولپ ایوارڈ (2016)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر

نکہت داد پاکستانی وکیل اور انٹرنیٹ کی سرگرم کارکن[1][2][3][4] ہیں جو ایک غیر منافع بخش تنظیم ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن چلاتی ہیں۔[5][6][7] آئی ٹی سیکورٹی کے شعبہ میں کام کرنے کی وجہ سے وہ کئی بین الاقوامی اعزازات حاصل کر چکی ہیں۔[8]

ابتدائی زندگی اور تعلیم[ترمیم]

نکہت سنہ 1981ء میں لاہور میں پیدا ہوئیں۔[9] ان کا تعلق جھنگ، پنجاب کے ایک گاؤں سے ہے۔[10] انہوں نے تعلیم لاہور کی پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی، یہیں سے انہوں نے قانون میں ماسٹر کی سند حاصل کی۔[9]

کام[ترمیم]

نکہت پیشے کے لحاظ سے ایک وکیل ہیں[11] اور وہ فوجداری و عائلی قوانین کی ماہر ہیں۔[7]

سنہ 2012ء میں انہوں نے ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن قائم کیا جس کا مقصد ہراساں یا بلیک میل ہونے والے پاکستانیوں خصوصاً خواتین کو مفت قانونی مدد فراہم کرنا ہے۔[7][12] انہیں پاکستانی نوجوان نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کو ٹیکنالوجی ٹریننگ دینے کا بھی اعزاز حاصل ہے، ملالہ نے سنہ 2011ء میں نکہت کی ورکشاپوں میں حصہ لیا تھا۔[13]

نکہت نے پاکستان میں آن لائن آزادیِ اظہار رائے کے تحفظ کی تحریکوں ساتھ ہی ساتھ ایسے قوانین کے خلاف تحریکوں کی قیادت کی جو حکومت کو لوگوں کی آن لائن کڑی نگرانی کے وسیع اختیارات دیتے ہیں، سب سے قابل ذکر امتناعِ الیکٹرانک جرائم بل 2015ء تھا۔[14][12] انہوں نے امتناعِ تیزاب بل 2010ء اور امتناعِ گھریلو تشدد بل کے مسودے کی تیاری میں بھی حصہ لیا ہے۔[15]

پاکستانی خواتین کو آن لائن ہراساں ہونے سے بچنے میں مدد کرنے کے لیے، سنہ 2015ء میں امریکی جریدے ٹائم نے انہیں اگلی نسل کے رہنماؤں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔[14][12][16]

سنہ 2016ء میں اٹلانٹک کونسل کی جانب سے انہیں فریڈم ایوارڈ[17] اور ہالینڈ کی حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کے ٹیولپ ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔[18]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Study finds Pakistan's online space increasingly 'not free'"۔ ایکسپریس ٹریبیون۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 جون 2015۔
  2. "PML-N's stock taking"۔ پاکستان ٹوڈے۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 جون 2015۔
  3. "'No safeguards to protect people from govt snooping'"۔ ڈان۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 جون 2015۔
  4. "Pakistan Taliban suicide bombing in Lahore leaves several dead"۔ گارڈین۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 جون 2015۔
  5. "Surveillance by UK, US sets bad precedent for privacy, freedom efforts in Pakistan: activist"۔ ایکسپریس ٹریبیون۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 جون 2015۔
  6. "Know your rights: Internet users"۔ ایکسپریس ٹریبیون۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 جون 2015۔
  7. ^ ا ب پ "Nighat Dad named TIME's next generation leader"۔ ڈان (انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 اپریل 2017۔
  8. "Pakistani women: Between glory and misery | Wo+men | DW.COM | 19.04.2017"۔ ڈوئچے ویلے (انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 اپریل 2017۔
  9. ^ ا ب "Vrouwen zijn online vogelvrij – OneWorld"۔ ون ورلڈ (ولندیزی زبان میں)۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 جنوری 2018۔
  10. "ڈیجیٹل حقوق کی جنگ میں سرگرم پاکستانی، 'نگہت داد'"۔ وائس آف امریکہ اردو۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 جون 2015۔
  11. "Nighat Dad's award"۔ ڈان (انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 اپریل 2017۔
  12. ^ ا ب پ "Pakistani digital rights activist Nighat Dad among Time's Next Generation Leaders"۔ ایکسپریس ٹریبیون۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 جون 2015۔
  13. "Pakistani Nighat Dad featured in Time's list of Next Generation Leaders"۔ اے آر وائے۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 جون 2015۔
  14. ^ ا ب "Pak activist among Time's Next Generation Leaders"۔ دی نیشن۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 جون 2015۔
  15. "Nighat Dad"۔ دی نیوز۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 جون 2015۔
  16. "Helping Pakistani Women Fight Online Harassment"۔ ٹائم۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 جون 2015۔
  17. "Pakistani activist presented Atlantic Council award - The Express Tribune"۔ ایکسپریس ٹریبیون۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 نومبر 2016۔
  18. "Pakistani digital rights activist Nighat Dad awarded 2016 Human Rights Tulip award"۔ ڈان۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 نومبر 2016۔