وائی ایس راجشیکھر ریڈی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
وائی ایس راجشیکھر ریڈی
Y. S. Rajasekhara Reddy, 2008.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 8 جولا‎ئی 1949  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پلیویندلہ  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 2 ستمبر 2009 (60 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آندھرا پردیش  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت انڈین نیشنل کانگریس  ویکی ڈیٹا پر سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد وائی ایس جگن موہن ریڈی  ویکی ڈیٹا پر اولاد (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
وزیر اعلیٰ آندھرا پردیش   ویکی ڈیٹا پر منصب (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دفتر میں
14 مئی 2004  – 2 ستمبر 2009 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png چندر بابو نائڈو 
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ سری وینکٹیشورا  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان تیلگو  ویکی ڈیٹا پر مادری زبان (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان تیلگو، ہندی، انگریزی  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ڈاکٹر وائی۔ ایس۔ راج شیکھر ریڈی : Yeduguri Sandinti Rajasekhara Reddy (جولائی 8، 1949 - 2 ستمبر 2009 ) : بھارت کی ریاست آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں۔ ان کا تعلق کانگریس پارٹی سے ہے۔ شہرہ یافتہ راجشیکھر ریڈی عوامی دوست اور کسان دوست کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ بالخصوص یہ مسلم دوست اور اردو نواز رہ چکے ہیں۔ کڈپہ ضلع کے گاؤں “پلی ویندلہ“ سے تعلق رکھتے ہیں۔

انتقال[ترمیم]

2 ستمبر 2009،صبح 9:35 بجے شہر حیدرآباد دکن سے ہیلی کاپٹر سے چتور ضلع روانہ ہوئے۔ مگر راستے میں کرنول ضلع کے ایک گاؤں ردراکونڈا کی پہاڑیوں میں ہیلی کاپٹر حادثہ کا شکار ہو گیا، اس حادثے میں ان کے ساتھ موجود چار افراد بھی مارے گئے۔ یہ پہاڑیاں نلہ ملا پہاڑیاں ہیں۔[2][3]. اس علاقے میں شدید بارش ہونے کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا اور ان کا حال 24 گھنٹوں تک معلوم نہ ہو سکا۔ چوبیس گھنٹے کی تلاشی کے بعد ہی اس حادثہ کی خبر ملی۔ یہ تلاشی آپریشن بھارت کا سب سے بڑا تلاشی آپریشن مانا جا رہا ہے۔ جس میں انڈین ایرفورس، ملٹری، سی۔ آر۔ پی۔ ایف، گرے ہونڈس اور علاقائی پولس شامل رہے۔[4][5]

خدمات - عہدے[ترمیم]

  • وزیر برائے ترقی قصبات (1980-82)
  • وزیر برائے ایکسائز (1982)
  • وزیر برائے تعلیمات (1982-83)
  • وزیر اعلیٰ (2004–2009)

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://articles.timesofindia.indiatimes.com/2009-09-03/india/28065464_1_ysr-reddy-helicopter-crash-y-s-rajasekhara-reddy
  2. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ ht_2aug09 نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  3. "Panic, anxiety grips YSR's followers"۔ دی ٹائمز آف انڈیا۔ 2009-09-02۔ مورخہ 2009-09-06 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2009-09-02۔
  4. 5000 CRPF personnel involved in search for Andhra CM - Indian Express
  5. "Andhra CM's fate uncertain, IAF deploys Sukhoi to locate YSR's chopper"۔ The Economic Times۔ 2009-09-02۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2009-09-02۔

بیرونی روابط[ترمیم]

وائی یس راجشیکھر ریڈی