وفیات پاکستانی اہل قلم علما

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

تعارف کتاب[ترمیم]

'وفیات پاکستانی اہل قلم علما' خالد مصطفٰی کی تازہ تحقیقی کاوش ہے جوستمبر 2018 میں شائع ہوئی۔اس سے قبل وفیات نگاری پر ان کی دو کتب شائع ہو چکی ہیں۔ پہلی کتاب'وفیات اہل قلم عساکر پاکستان' اگست 2014 میں شائع ہوئی اور دوسری کتاب 'وفیات پاکستانی اہل قلم خواتین' کے نام سے اگست 2016 میں شائع ہوئی۔

'وفیات پاکستانی اہل قلم علما' میں 14 اگست 1947 سے لے کر 31 مارچ 2018 تک وفات پانے والے 647 پاکستانی اہل قلم علما کے مختصر سوانحی اعداد و شمار درج ہیں۔ کتاب میں ایسے پاکستانی اہل قلم علما کو شامل کیا گیا ہے جنھوں نے اپنا علمی ذخیرہ مجتمع کر کے اسے کتابی صورت دی یا بعد از مرگ ان کے لواحقین نے ایسا کیا۔ علما کی فہرست مرتب کرتے وقت الف بائی ترتیب کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ حالات زندگی کا اندراج تاریخ ولادت ، تایخ وفات ، ولدیت ، کتب ، اعزازات جیسے عنوانات کے تحت کیا گیا تا کہ کم سے کم الفاظ میں قارئین کو زیادہ سے زیادہ معلومات فراہم کی جا سکیں۔ کوائف کے آخر میں مآخذ درج کیے گئے ہیں۔

کتاب میں تمام مکاتب فکر کے علما کو جگہ دی گئی ہے۔ مولانا مودودی ، ڈاکٹر اسرار ، ثناءاللہ امرتسری ، عبیداللہ سندھی ، احتشام الحق تھانوی ، احسان الہی ظہیر ، جعفر شاہ پھلواروی ، صفدر حسین نجفی ، ضیا الحسن موسوی اور کرم شاہ الازہری جیسے اکابرین کے سوانحی اعداد و شمار اور ان کے علمی کارنامے کتاب میں درج ہیں۔

دیگر معلومات[ترمیم]

اس کتاب کو 'اردو اصناف' پبلی کیشنز نے شائع کیا۔ قیمت 500 روپے ہے اور کتاب جامعہ عربیہ جی ٹی روڈ گوجرانوالہ ، بک کارنر جہلم اور فکشن ہاوس لاہور پر دستیاب ہے۔

تاثرات[ترمیم]

علمائے اسلام امت ِ محمدیہ علی الصلاۃ والسلام کے لیے بالخصوص اور پوری دنیا کے لیے بالعموم مینارۂ ہائے نور اور پہاڑی کے چراغ ہیں۔ ان کی بقاء کے ساتھ ہی اس جہاں کی بقاء ہے ۔ ان کا تذکر ہ باعث خیر و برکت اوررشد وہدایت ہے۔محترم جناب لیفٹیننٹ کرنل (ر) خالد مصطفی نے 'وفیات پاکستانی اہل قلم علما' کے نام سے جو کتاب مرتب کی ہے یہ دریا بکوزہ کا صحیح مصداق ہے ۔ انتہائی مختصر اورجامع انداز میں متوفی پاکستانی اہل قلم علما کا تعار ف کرایا گیا ہے۔یہ کتاب اہل تحقیق کے لیے بیش بہا خزینہ ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس کتاب کو نافع اور مفید بنائے اورمحترم جناب خالدمصطفی اوران کے والدین کے لیے باعث اجر اور ذخیرۂ آخرت بنائے ۔ آمین ! مولانامحمد عارف شیخ الحدیث، جامعہ عربیہ، گوجرانوالہ 13/اگست 2018ء

کرنل (ر) خالد مصطفی صاحب السیف تو رہے ہیں صاحب القلم بھی ہیں اور مختلف موضوعات پر مسلسل لکھتے آ رہے ہیں۔ادب و شعر کے ساتھ ساتھ شخصیات کا تعارف ان کا خصوصی ذوق ہے اور دیگر شعبوں کے علاوہ علما کرام کے بارے میں بھی ان کا خاصا کام ہمارے سامنے ہے۔مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علما کرام میں جو اصحابِ قلم ان کے زیر مطالعہ رہے ہیں، انھوں نے ان کا مختصر تعارف اور ان کے بارے میں ضروری معلومات مرتب کی ہیں جو ان کی زیر نظر تصنیف کی صورت میں ہمارے لیے استفادہ کا باعث بنی ہے اور اس سے بہت سی معلومات میں اضافہ ہوا ہے۔قومی زندگی کے مختلف شعبوں کی نمایاں شخصیات کو تاریخ کے صفحات میں محفوظ کر دینا اور نئی نسل کو ان سے واقف کرانے کی کوشش کرنا بجائے خود ایک اہم قومی خدمت ہے جو حسنِ ذوق کی علامت ہے۔بلاشبہ ان کی یہ کاوش علم و قلم سے تعلق رکھنے والے حضرات کے لیے گراں قدر تحفہ ہے۔دعا گو ہوں کہ اللہ رب العزت ان کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبولیت عطا فرمائیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے نفع بخش بنائیں۔آمین یا رب العالمین۔ ابو عمار زاہدالراشدی ڈائریکٹر الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ 2 ستمبر 2018ء

لیفٹیننٹ کرنل خالد محمود (ر) کی کتاب 'وفیات پاکستانی اہلِ قلم علما' کے سوانحی اعداد و شمار کا مسودہ ملا۔ اس سے پہلے موصوف اسی موضوع پر دو کتب 'وفیات اہلِ قلم عساکر پاکستان' اور 'وفیات پاکستانی اہلِ قلم خواتین' لکھ چکے ہیں۔ اب ان کی تازہ تالیف کا مسودہ میرے سامنے ہے۔ اس میں 600 سے زائدمتوفی پاکستانی اہلِ قلم علما کے 1عداد و شمار نہایت محنت اور سلیقے سے پیش کیے گئے ہیں۔ ان کی یہ کوشش بھی قابلِ قدر اور قابلِ تحسین ہے۔کتاب میں مدارس دینیہ کے فاضل اہلِ قلم علما کے علاوہ عربی و اسلامیات کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے فاضل پروفیسر صاحبان کے اعداد و شمار بھی شامل ہیں۔ اچھا ہوتا کہ خالص علمائے دین کے لیے الگ اور پروفیسر حضرات کے لیے الگ باب بنا دیے جاتے تاکہ قارئین کو مطالعہ کے دوران جن کے اعداد و شمار مطلوب ہوں وہ ان سے بآسانی استفادہ کرسکتے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی اس علمی خدمت کو قبول فرمائے اور شائقین کو اس سے بھر پور استفادہ کی توفیق بخشے۔آمین۔ بریگیڈیئر ڈاکٹر حافظ قاری فیوض الرحمن , کراچی 27 ربیع الاول 1439ھ 16 دسمبر 2018ء

وفیات نگاری کے ضمن میں خالد مصطفی کی پہلی کتاب 'وفیات اہل قلم عساکر پاکستان' کے نام سے منظر عام پر آئی تھی۔بعد ازاں انھوں نے 'وفیات پاکستانی اہل قلم خواتین' کے نام سے بھی ایک کتاب ترتیب دی جسے علمی ادبی حلقوں نے قدر کی نگاہ سے دیکھا۔حال ہی میں ان کی ایک اور اہم کتاب'وفیات ِپاکستانی اہل ِقلم علما' کے نام سے شائع ہوئی ہے۔یہ کام اہم بھی تھا اور مشکل بھی کہ ایک طرف تو ایسے علما کا تذکرہ تھا جنھوں نے امت کے لیے بے بہا علمی کتب تصینف کیں ،دوسری طرف قرآن و حدیث ، سیرت ، تاریخ ، منطق ، صرف و نحواور دیگر علوم کاوسیع ذخیرہ جمع کرنے والوں کے کوائف کی جمع آوری تھی۔لیکن خالد مصطفی کے ہمت و حوصلے کی داد دینا پڑتی ہے کی انھوں نے اس مشکل کو سر کر لیا اور قریباً دو سال کی شبانہ روز محنت سے یہ کتاب ترتیب دے کر اہلِ علم کی خدمت میں پیش کردی۔اس کتاب میں 647 علما کا تذکرہ موجود ہے۔ترتیب الف بائی رکھی گئی تاکہ قاری کو دشواری نہ ہو۔ہر مذکور شخصیت کے سوانحی خاکہ کے ساتھ ماخذ بھی درج ہیں تاکہ محققین کو سہولت رہے۔اس کتاب کا ایک اور پہلو بھی اہمیت کا حامل ہے اور وہ یہ کہ اس میں کسی قسم کا تعصب راہ نہیں پاسکا۔اس کا واضح ثبوت غلام احمد پرویز اور عنایت اللہ مشرقی جیسے ناموں کی اس کتاب میں موجودگی ہے۔خالد مصطفی نے ہر اس اہل علم کے کوائف یہاں شامل کر دیے ہیں جس نے اپنے نقطہء نظر کے مطابق تحریری خدمات انجام دی ہیں۔اس کتاب کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ علمائے دین اور مدارس کے وابستگان نے کس قدر علمی خدمات انجام دی ہیں اور کس قدر کتب تحریر کر کے علم کے متلاشیوں کے لیے آسانیاں پیدا کی ہیں۔اس کتاب کے مصنف یقیناً داد و تحسین کے حق دار ہیں کہ انھوں واقعی نہایت دل جمعی اور محنت سے یہ کام مکمل کیا. مجھے امید ہے کہ یہ علمی دستاویز کا جہاں ہر لائبریری کا حصہ بنے گی وہیں مجھے یہ یقین بھی ہے کہ اس اہم کتاب کو علم وفکر سے متعلق ہر فورم پر قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ خورشید ربانی اسلام آباد 7 فروری 2019ء

کرنل خالد مصطفی 'وفیات اہل قلم عساکر پاکستان ' اور 'وفیات پاکستانی اہل قلم خواتین'کے بعد اب جس ادق کام کو کرنے کا تہیہ لے کر اُٹھے ہیں وہ 'وفیات پاکستانی اہل قلم علما'ہے۔جناب خالد مصطفی جس عزم اور حوصلے سے اس فن کو صنفِ ادب کی جانب لے کر آگے بڑھ رہے ہیں وہ اس صنف کی زندگی کی ضمانت تو ہے ہی وہ خالد مصطفی کی بعد از مرگ حیات کی بھی ضامن ہے۔قبل ازیں کرنل خالد مصطفی وفیات نگاری میں پیرا گراف اور مضمون کی صورت میں تحریر کو لے کر چل رہے تھے مگر اس بار انہوں نے پیٹرن بدل دیا اور اسے اپنے پیشرو ڈاکٹر منیر احمد سلیچ کے طرز بیان میں لے کر سامنے آئے ہیں جو نثر کے برعکس ایک شعر یا شاعری کا انداز ہے۔جیسے ایک شعر یا مصرعے میں وہ سارا کچھ بیان کر دیا جاتا ہے جسے نثر کے کئی صفحات بیان کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ علما کرام پر اس طرز کی غالباََ یہ پہلی کتاب ہے۔اگرچہ قبل ازیں علما کرام کے حالات زندگی،ان کے فضائل اور ان کی خدمات کے حوالے سے ان گنت کتابیں اور تذکرے لکھے گئے لیکن اتنی مختصر ، مستند ، موزوں اور جامع تالیف یا تحقیق میرے مطالعے میں نہیں آئی۔کرنل خالد مصطفی مبارک باد کے مستحق ہیں کہ سیکولرازم کے پرچار کے اس دور میں جہاں تدریسی اداروں میں پلے گروپ سے لے کریونی ورسٹی کی اعلی تعلیم تک علم کی توہین کا سلسلہ جاری ہے اور علمائے دین کی تحسین تو بجا ان پر ایک مثبت لفظ کہنا بھی جرم قرار دیا جاتا ہے وہاں ببانگِ دہل انھوں نے علما کے علم کا اعتراف کیا جو ایک بہت بڑا جہاد ہے۔کرنل خالد مصطفی اس لیے بھی تحسین کے مستحق ہیں کہ انھوں نے بلا تفریق ِ فرقہ و مسلک اس کتاب میں ان تمام 647 متوفی علما کو شامل کیا ہے جنھوں نے حصول علم اور فروغ علم میں اپنا حصہ ڈالا۔میں کرنل خالد مصطفی کے لیے دعا گو ہوں کہ ان کا قلم اسی طرح رواں رہے اور آنے والے وقت میں بھی ان کی تالیفات کا سلسلہ اسی طرح جاری و ساری رہے۔ پروفیسر شاکر کنڈان ، سرگودھا 17/اگست 2018ء

[1]


حوالہ جات[ترمیم]

  1. روزنامہ پاکستان اسلام آباد 7 فروری 2019ء
Midori Extension.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔