ٹوپاک شکور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ٹوپاک شکور
Tupac Shakur

معلومات شخصیت
پیدائشی نام (انگریزی میں: Lesane Parish Crooks خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیدائشی نام (P1477) ویکی ڈیٹا پر
پیدائش 16 جون 1971[1][2][3][4][5][6][7]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
وفات 13 ستمبر 1996 (25 سال)[1][2][3][4][5][6][7]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
رہائش لاس اینجلس
مینہیٹن
لاس ویگاس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of the United States.svg ریاستہائے متحدہ امریکا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ اداکار،  گلو کار،  شاعر،  غنائی شاعر،  نغمہ نگار،  منظر نویس،  رقاص،  نغمہ ساز  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
مادری زبان انگریزی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مادری زبان (P103) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان انگریزی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
دور فعالیت 1987–1996
دستخط
Tupac Shakur signature (1995-05-06).jpg 
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

ٹوپاک امارو شکور(Tupac Amaru Shakur) (سابقہ شہرت بطور لیسین پیریش کروکس(Lesane Parish Crooks) (/ˈtpɑːk ʃəˈkʊər/ TOO-pahk shə-KOOR;[8] جون 16, 1971 – ستمبر 13, 1996), کو اپنے سٹیج کےناموں 2Pac اور (مختصراً) Makaveli سے بھی جانا جاتا ہے، مشہور امریکی ریپ گلوکار اور اداکار تھا۔ اپنے گیتوں سے مشہور اور جھگڑوں کے لیے بدنام ٹوپاک شکور ’ٹھگ لائف‘ گروپ کا حصہ تھے نیویارک شہرمیں سولہ جون 1971کو ٹوپاک شکور نے اس عورت کے یہاں جنم لیا جو صرف ایک ماہ قبل جیل سے رہا ہوکر آئی تھی، اس پر ایک سو پچاس الزامات عائد کیے گئے تھے جن میں امریکی حکومت کے خلاف سازش کا مقدمہ بھی تھا۔

ٹوپاک کی ماں سمیت اس کا پورا خاندان بلیک پینتھر نامی اس پارٹی کا رکن تھاجو ابتدا میں کالی رنگت والوں کے حقوق کے لیے قائم کی گئی مگر بدنامی اٹھانے کے بعد اس جماعت کو سوشلسٹ انقلاب کے لیے استعمال میں لانے کی کوشش ہوئی۔ ٹوپاک نے جس ماحول میں آنکھ کھولی تھی امریکی نظام، سرکار اور اس کے اداروں سے نفرت شاید اس کے مزاج کا حصہ بن گئی تھی۔ ڈئیر ماما( پیاری ماں) جیسے گیت گانے والے نے اسی وجہ سے ’می اگینسٹ دی ورلڈ‘ ( میں دنیا کے خلاف) جیسے نغمے لکھے جس نے پرجوش نوجوانوں کو اس کے میوزک اور باغیانہ شاعری کا دیوانہ بنادیا۔ اور پھر وہ امریکی سماج میں ایک ایسا نام بن گیا کہ جس سے لوگ محبت بھری نفرت کرنے لگے۔ ٹوپاک شکور کا ہر گیت امریکی نظام اور معاشرے میں چھپے دوغلے پن کو ننگا کرنے لگا، اس نے صرف کالوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو موضوع نہیں بنایا بلکہ عدالتوں سے لے کر میڈیاتک میں موجود استعمار کی ذہنیت کو اپنے گیتوں کے ذریعے گالیاں دیں۔

جب ٹوپاک نے اپنے گانوں میں انگریزی کے چار حرفی لفظ (ایف ،یو،سی ، کے) کا استعمال شروع کیا تھاتو اس پر سخت ردعمل سامنے آیا۔ٹوپاک شکور نے کسی تنقید کی پروا نہیں کی ۔ اس نے ’آل آئیز آن می‘(سب کی نظریں مجھ پر) جیسا نغمہ گایااور یہ میوزک البم بھی سپر ہٹ رہا۔ ٹوپاک شکور کے کیسٹ ستر لاکھ لوگوں نے خریدے۔ٹوپاک نے اپنے گانوں میں صرف اپنی موت کی پیش گوئی ہی نہیں کی تھی بلکہ ہر وہ بات کی جو اس نے سوچی۔ ’اف آئی ڈائی ینگ‘ (اگرمیں جوانی میں مرا) اس کا ایک خوبصورت گیت ہے تو ’ورڈز آف وزڈم‘(دانائی کے الفاظ) والے گانے میں بھی اس نے امریکا کو نہیں بخشا۔وہ گاتا ہے کہ ’یہ ہمیں ایک ایک کرکے قتل کر رہے ہیں، ایک یا دوسرے طریقے سے، یہ امریکا کے مسائل کو ایک ایک کرکے اسی طرح ختم کریں گے‘۔

موت[ترمیم]

ٹوپاک کو 7ستمبر 1996کوگولیوں سے چھلنی کر دیا گیا۔ ٹوپاک ہسپتال کے بستر پر چھ دن پڑا رہا جہاں ڈاکٹروں نے اس کوبچانے کی ہر کوشش کی،مشین کے سہارے دھڑکتے دل میں زندہ رہنے کی کوئی آرزو نہ ابھری تو اس کی ماں نے ہسپتا ل کے عملے کو جانے والے کی مشکل آسان کرنے کے لیے کہہ دیا۔

آخری الفاظ[ترمیم]

ٹوپاک نے گولی کھانے کے بعد ایمولینس میں لیٹتے ہوئے وہاں موجود پولیس آٖفیسر کو اپنے آخری الفاظ کہے۔ جو پولیس والے نے کسی کو نہیں بتائے۔پولیس افسر کرس کیرول نے انٹرویو میں کہا ہے کہ اس نے ٹوپاک کے آخری الفاظ کے بارے میں کسی کو اس لیے نہیں بتایاکہ کیس ابھی حل نہیں ہوا، دوسری وجہ یہ تھی کہ آخری الفاظ بارے پتہ چلتا تو ’لیو فاسٹ، ڈائی ینگ‘ والے ’لے جنڈ ‘ ریپرکو مزید شہرت حاصل ہوتی،وہ کہتا ہے کہ’ میں نہیں چاہتا تھا کہ ٹوپاک کو شہید کے طورپر یاد کیاجائے یا وہ ہیروقرار پائے‘۔ میں یہ نہیں چاہتا تھاکہ لوگ کہیں کہ جب وہ مر رہا تھا، اس کی سانس اکھڑ رہی تھی،اس کی نبض ڈوبنے کو تھی تب بھی وہ پولیس والوں سے بات کرنا پسند نہیں کررہاتھا،میں اسی وجہ سے اس کو ہیرو بنانا نہیں چاہتا تھا، مگر اب بہت وقت گزرگیاہے اوروہ بہرحال شہید ہے، لوگ اسے ہیرو قرار دے چکے ہیں، اس موقع پر میرا خاموش رہنا کہانی پر کوئی اثر نہیں ڈال سکتا۔ سات ستمبر1996کے اس حادثے کو یاد کرتے ہوئے سابق پولیس افسر کرس کیرول نے کہاکہ میرے بار بار پوچھنے پرٹوپاک نے مجھ پر نظر ڈالی،ایک سانس لی تاکہ الفاظ باہر آسکیں اور پھر منہ کھولا۔پولیس افسر کہتے ہیں کہ اس نے سوچا بل آخراسے کچھ تعاون حاصل ہورہاہے اور وہ اب حملہ آور کا نام سن سکے گا مگر جب اس نے سنا تو ٹوپاک شکور کہہ رہاتھا وہی چار حروفی لفظ جو اس نے پوری زندگی پولیس اور امریکی نظام کے لیے استعمال کیا تھا، فاک ۔۔ یو۔[9]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب اجازت نامہ: CC0
  2. ^ ا ب دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Tupac-Shakur — بنام: 2Pac — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  3. ^ ا ب ایس این اے سی آرک آئی ڈی: http://snaccooperative.org/ark:/99166/w6dr3rbv — بنام: Tupac Shakur — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. ^ ا ب انٹرنیٹ بروڈوے ڈیٹا بیس پرسن آئی ڈی: https://www.ibdb.com/person.php?id=496055 — بنام: Tupac Amaru Shakur — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. ^ ا ب انٹرنیٹ بروڈوے ڈیٹا بیس پرسن آئی ڈی: https://www.ibdb.com/person.php?id=497338 — بنام: Tupac Shakur — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  6. ^ ا ب فائنڈ اے گریو میموریل شناخت کنندہ: https://www.findagrave.com/cgi-bin/fg.cgi?page=gr&GRid=3735 — بنام: Tupac Amaru Shakur — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  7. ^ ا ب بنام: 2 Pac — فلم پورٹل آئی ڈی: http://www.filmportal.de/168706c5635f43e68547d48b412c4afd — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  8. "ٹوپاک شکور خود اپنے الفاظ میں" MTV News 1997. MTV News. http://www.youtube.com/watch?v=tHOrL-qcwRU[ٹوپاک خود اپنے نام کا تلفظ ادا کرتے ہوئے 2:29 پر.] 
  9. کالم اے وحید مراد

بیرونی روابط[ترمیم]

سانچہ:Tupac Shakur سانچہ:Outlawz

سانچہ:Digital Underground