پنجاب مسلح بغاوت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
پنجاب مسلح بغاوت
بسلسلہ تحریک خالصتان
تاریخ1970ء کی دہائی سے 1990ء تک
مقامریاست پنجاب
حیثیت سرد
محارب
معاون:
Flag of مملکت متحدہ خصوصی فضائی سروس[1][2]
سکھ عسکریت پسند[3][4][5]
کمانڈر اور رہنما
Flag of Indian Army.svg میجر جرنل کلدیپ سنگھ برار
لیفٹنینٹ جرنل رنجیت سنگھ دیال [6]
لیفٹنینٹ جرنل کرشناسوامی سندراجی
سنت جرنیل سنگھ بنڈراںوالے 
بھائی امرک سنگھ 
شائبگ سنگھ 
طاقت
10,000 مسلح فوجی نویں ڈویژن کے, نیشنل سیکورٹی گارڈ 175 پیراشوٹ رجمنٹ اور توپ خانہ یونٹس
700 جوان سی آر پی ایف چوتھی بٹالین کے اور بی ایس ایف ساتویں بٹالین
150 جوان پنجاب مسلح پولیس کے اور ہرمیندر پولیس اسٹیشن کے افسران۔ یہ تعداد (آپریشن بلیو سٹار کی ہے)
175 تا 200 یہ تعداد (آپریشن بلیو سٹار کی ہے)
ہلاکتیں اور نقصانات
136 آپریشن بلیو سٹار میں کل جانی نقصان[7] 140–200 جنگجو قتل (یہ تعداد آپریشن بلیو سٹار کی ہے)
492–5,000[8] شہری قتل (یہ آپریشن بلیو سٹار کی تعداد ہے)

بھارتی پنجاب میں سکھوں کی مسلح تحریک سنہ 70 کی دہائی میں شروع ہوئی جب کچھ سکھوں نے بشمول تحریک خالصتان مسلح بغاوت کا راستہ اختیار کیا۔ گو کہ اس تحریک کی وجوہات پیچیدہ ہیں تاہم 1947ء سے بھارت کی زیر اقتدار جماعت انڈین نیشنل کانگریس کا خطہ پنجاب، سکھ مت اور پنجابی زبان کے تئیں غلط رویہ اس مسلح تحریک کا بنیادی سبب بنا۔ پنجاب کے ایسے اسکولیں جو پنجابی بچوں کو ہندی زبان پڑھاتے ہیں، سکھ رہنماؤں اور بچوں کے والدین کی نگاہ میں مشکوک قرار پائے۔[9]

اس ضمن میں پنجاب میں پنجابی صوبہ نامی عوامی تحریک چلائی گئی جس کا مقصد ہندی زبان کو ہٹا کر اس کی جگہ پنجابی زبان کو صوبہ پنجاب کی دفتری زبان قرار دینا تھا۔ 14 اپریل 1955ء میں حکومت نے اس پر پابندی عائد کی۔65[10] اس دوران میں سکھوں کو کڑی آزمائشوں سے گزرنا پڑا، ان کے پرامن مظاہروں اور بے گناہ زائرین پر لاٹھیاں برسائی گئیں، حوالہ زندان کیا گیا اور ان کی بہت سی عبادت گاہوں پر حملے بھی کیے گئے۔[11] پاک بھارت جنگ 1965ء کے بعد سنہ 1966ء پنجابی زبان کو پنجاب کی دفتری زبان قرار دیا گیا، نیز اس وقت پنجاب کو تقسیم کر کے پماچل پردیش، ہریانہ اور پنجاب تین علاحدہ صوبے بنا دیے گئے۔[12]

لیکن اس سے مسائل حل نہیں ہو سکے اور سکھوں نے آنندپور صاحب سفارش پیش کی۔[13] جس میں بہت سے مذہبی اور سیاسی مسائل اور مشکلات کا ذکر کیا گیا، ان میں ایک سفارش یہ تھی کہ بھارت کے تمام صوبوں میں سکھ مت کو بطور مذہب قبول کیا جائے۔[13] لیکن مرکزی حکومت نے اس سفارش کو نامنظور کر دیا۔ نتیجتاً سکھوں کے ایک مذہبی رہنما جرنیل سنگھ بنڈراںوالے سنہ 1982ء میں اکالی دل میں شامل ہوئے دھرم یدھ مورچے کا اعلان کیا، یہ ایک پرامن مورچا تھا جو آنندپور صاحب سفارش کو منظور کرانے کے لیے نکالا گیا۔ اس میں ہزاروں لوگ شامل ہوئے، کانگریس حکومت نے بزور اس مارچ کو روکنے کی کوشش کی اور حفاظتی دستوں نے ڈھائی مہینے میں تیس ہزار سے زائدافراد کو گرفتار کیا،[14] جب کہ سینکڑوں افراد پولیس کی گولیوں کا نشانہ بن گئے۔[15] اس وقت بنڈراں والا نے کہا کہ اگر حکومت یوں ہی مسئلہ حل کرنا چاہتی ہے تو حالات مسلح تحریک تک ہی جائیں گے۔[حوالہ درکار]

6 جون 1984ء کو آپریشن بلیو سٹار کے وقت گولڈن ٹمپل امرتسر میں جو سکھوں کا ایک مقدس مقام ہے، بنڈراں والا کو ماردیا گیا۔ اور 31 اکتوبر 1984ء کو اندرا گاندھی کو ان کے سکھ محافظ ستونت سنگھ اور بینت سنگھ (قاتل) بینت سنگھ نے قتل کر دیا۔ ان دو حادثوں نے سکھ اور سکھ مخالف تشدد کو پھیلانے میں زبردست کردار ادا کیا، تشدد کی یہ فضا 1990ء کی دہائے کے آغاز تک برقرار رہی۔[16]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Nicholas Watt, Jason Burke and Jason Deans (14 جنوری 2014)۔ "Cameron orders inquiry into claims of British role in 1984 Amritsar attack"۔ دی گارڈین۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 31 جنوری 2014۔
  2. Praveen Swami (16 جنوری 2014)۔ "RAW chief consulted MI6 in build-up to Operation Bluestar"۔ Chennai, India: The Hindu۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 31 جنوری 2014۔
  3. K.S. Brar (July 1993). Operation Blue Star: the true story. UBS Publishers' Distributors. pp. 56–57. ISBN 978-81-85944-29-6. Retrieved 9 August 2013.
  4. Dogra, Cander Suta. "Operation Blue Star – the Untold Story". The Hindu, 10 June 2013. Web. 9 Aug 2013.
  5. Cynthia Keppley Mahmood (1 January 2011). Fighting for Faith and Nation: Dialogues with Sikh Militants. University of Pennsylvania Press. pp. Title, 91, 21, 200, 77, 19. ISBN 978-0-8122-0017-1. Retrieved 9 August 2013
  6. "Temple Raid: Army's Order was Restraint"۔ نیو یارک ٹائمز۔ 15 جون 1984۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 فروری 2012۔
  7. http://indianarmy.nic.in/Site/martyrs/home.aspx
  8. Ram Kumar۔ Reduced to Ashes: The Insurgency and Human Rights in Punjab : Final Report, Volume 1۔ Committee for Coordination on Disappearances in Punjab۔ صفحہ 38۔ آئی ایس بی این 9789993353577۔
  9. Jayanta Ray۔ Aspects of India's International Relations, 1700 to 2000: South Asia and the World۔ India: Pearson Education India۔ صفحہ 507۔ آئی ایس بی این 9788131708347۔
  10. Ajit Sarhadi۔ Punjabi Suba۔ U. C. Kapur۔ صفحہ 246۔
  11. Ajit Sarhadi۔ Punjabi Suba (The Story of The Struggle)۔ Delhi: U. C. Kapur & Sons۔ صفحہ 248۔
  12. Atamjit Singh۔ "The Language Divide in Punjab"۔ South Asian Graduate Research Journal, Volume 4, No. 1, Spring 1997۔ Apna۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 اپریل 2013۔
  13. ^ ا ب Khushwant Singh۔ "The Anandpur Sahib Resolution and Other Akali Demands"۔ oxfordscholarship.com/۔ Oxford University Press۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 5 اپریل 2013۔
  14. Harnik Deol (2000). Religion and nationalism in India: the case of the Punjab. Routledge. pp. 102–106. ISBN 978-0-415-20108-7.
  15. Akshayakumar Ramanlal Desai (1 January 1991). Expanding Governmental Lawlessness and Organized Struggles. Popular Prakashan. pp. 64–66. ISBN 978-81-7154-529-2.
  16. Documentation, Information and Research Branch, Immigration and Refugee Board, DIRB-IRB. India: Information from four specialists on the Punjab, Response to Information Request #IND26376.EX, 17 February 1997 (Ottawa, Canada).