1984ء کے سکھ مخالف فسادات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
1984ء کے سکھ مخالف فسادات
سکھ آدمی کو گھیر کر پیٹا جا رہا ہے۔
ایک سکھ کو ہجوم گھیر کر پیٹ رہا ہے۔
تاریخ 31اکتوبر 1984 − 3 نومبر 1984
نشانہ سکھ
ہلاکتیں تقریباً 2800۔[1]

1984 کے سکھ مخالف فسادات یا 1984ء کے سکھ قتل عام کئی فسادات کے واقعات تہے، جو سکھ مخالف ہجوم بالخصوص کانگریس پارٹی کے لوگوں نے سکھوں کے خلاف شروع کیے۔ اس کی وجہ اندرا گاندھی کا ان کے سکھ محافظوں کے ہاتھوں قتل تھا۔ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم کمیٹی نے پولیس اور مرکزی حکومت کے بعض اہلکاروں کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ راجیو گاندھی جب وزیر اعظم بنے تب اس حوالے سے پوچہے گئے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ جب ایک بڑا درخت گرتا ہے تو زمین کانپتی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]