ژاک دریدا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
Derrida-by-Pablo-Secca.jpg

ژاک دریدا (انگریزی: Jaques Derrida۔) (15 جولائی 1930ء - 9 اکتوبر 2004ء) ایک فرانسیسی فلسفی تھے جنہوں نے 1971ء میں ایک مقالہ لکھا تھا ۔ جس میں انہوں نے "ردتشکیلت" (DECONSTRUCTION) کو متعارف کروایا تھا۔ انھوں نے فکری اور نظری کارنامے میں افلاطون، ہوسرل فرایڈ، ہیدیگر وغیرہ جیسے عظیم مفکرین اور ادبا کے مابعدالطعبیاتی نظام فکر کے تصورات، تضادات اور افتراقات پر فکری نقد لکھا۔ انہوں نے کہا کہ روحانی یا مابعد الطعبیاتی نظام کو سرے سے مسترد کر دیا ، کیونکہ ان کا خیال تھا کہ یہ نظام فکر کبھی مکمل نہیں ۔ ان کے خیال میں مغربی فکر روایتی طور پر مابعدالطبیاتی جڑی ھوئی ہے۔ اس سے کئی فکری ابہام پیدا ہوئے۔ جس کو تقریر ہی محفوظ رکھ سکتی ہے۔ زبان سے بولے جانے والا لفظ کیونکہ بلاواسطہ ہوتا ہے۔ اس لیے یہ تصور لیا جاتا ہے کہ تقریر کے ذریعے مطلق صداقت، اور ایک مقررہ معنی، ایک فیصلہ بنیاد جو صداقت یا معنی کے اصل بھی تصور کئے جاتے ہیں، جس میں جوہر یا مرکز تک رسائی حاصل کرنا ممکن ھو پاتا ہے۔ ان کے کیال میں ایک معنی دوسرے معنی کو مسترد کرتا ہے۔

رد تشکیلیت[ترمیم]

فلسفہ چونکہ متن ہی نہیں سارے آفاق کو صداقت اور معنی سے خالی قرار دیتا ہے۔ اس لیے لفظ قدر بھی اس کے لیے ایک جز و زائد کا حکم کا درجہ اختیار کر جاتا ہے۔ ان کے خیال میں متن کے معنی قاری کے نظریہ حیات (آئیڈیالوجی) کے درمیان میں بین العمل پر مبنی ہوتے ہیں ۔ اور متن کے لفظوں میں آئیڈیالوجی کا رنگ چڑھا ہوتا ہے۔ دریدا کا "رد تشکیلیت" کا نظریہ خاصا پیچیدہ اور الجھا ہوا ہے لہذا اس کی حتمی تعریف نہیں کی جاسکتی ۔ یہ ایک مبہم فلسفیانہ اصطلاح ہے۔ یہ جزوی طور پر نئی تشریحات کے ذریعے پرانے متں نئی زندگی تلاش کی جاتی ہے اور نئے تناظر میں متنوں کے پوشیدہ رموز کی نئے معنی، نئی تشریحات اور تفہیمات تلاش کی جاتی ہے۔ وہ معنی، پس معنی اور معنی در معنی کو الٹا کر رد معنی میں تبدیل کردیتا ہے۔ دریدا کا خیال ہے کہ کلام اور گفتار کے جڑیں تشکیک اور اعتباطی نوعیت کی ہوتی ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے۔ متن کے متعین معنی نہیں ہوتے۔ کیونکہ کئی موضوعی عناصر متن کی معنویت تبدیل کردیتے ہیں۔ دریدا نے اکثر متن کی معنویت کو تباہ کرنے کے لیے جو کچھ لکھا وہ اس کی معنویت کو خود بھی نہیں سمجھ پائے۔ دریدا کی ردتشکیلیت کا نظریہ ادب اور متن اور ادبی تنقید میں کا نظریہ رد بھی کیا گیا اور اس کی توسیع بھی ہوئی۔ اب "پس ردتشکیل" کا تازہ نظریہ موضوع بحث ہے۔


حوالہ جات[ترمیم]