آقا بزرگ تہرانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search


آقا بزرگ تہرانی
Aqabozorg.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 7 اپریل 1876  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تہران، قاجار خاندان  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 20 فروری 1970 (94 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نجف  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Iran.svg ایران
Flag of Iraq.svg عراق  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ کتابیات ساز  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

آیت اللہ العظمیٰ آقا بزرگ تہرانی یا محمد محسن بن علی تہرانی منزوی (پیدائش: 7 اپریل 1876ء— وفات: 20 فروری 1970ء) نجف کے حوزہ علمیہ سے تعلق رکھنے والے شیعی مرجع تھے۔آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی اور آیت اللہ العظمیٰ محمد حسین نجفی اُن کے شاگردوں میں سے ہیں۔ اُن کی وجہ شہرت اُن کی تصانیف طبقات اعلام الشیعہ اور الذریعۃ الی تصانیف الشیعۃ ہیں۔

سوانح[ترمیم]

بزرگ تہرانی 11 ربیع الاول 1293ھ مطابق 7 اپریل 1876ء کو تہران میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد اور داد اِسی شہر کے علمائے دین میں سے تھے ۔ پردادا حاج محسن تاجر تھے جنہوں نے منوچہر خان معتمد الدولہ گرجی کی معاونت سے ایران میں سب سے پہلا چھاپہ خانے کا سنگ بنیاد رکھا۔ آپ نے دو شادیاں کیں جن سے 5 بیٹے اور 4 بیٹیاں پیدا ہوئیں۔علی نقی منزوی اور احمد منزوی ان بیٹوں میں سے ہیں جنہوں نے الذریعہ کی تالیف میں باپ کی مدد کی۔

تحصیل علم[ترمیم]

ابتدائی تعلیم کا آغاز مدرسہ دانگی سے ہوا، پھر مدرسہ پامنار اور مدرسہ فخریہ (مروی) سے علم حاصل کیا۔ عربی ادبیات شیخ محمد حسین خراسانی اور شیخ محمدباقر معزالدولہ ، منطق مرزا محمد تقی، علم اصول سیدعبدالکریم مدرسی، سیدمحمد تقی گرکانی اور شیخ علی نور ایلکائی کے پاس پڑھا۔ ریاضی کا کچھ حصہ مرزا ابراہیم زنجانی کے پاس پڑھا۔ اِسی طرح تاریخ ادبیات اور رجال حدیث کا علم حاصل کیا ۔ 10 جمادی الثانی 1315ھ مطابق 6 نومبر 1897ء کو مزید تعلیم کے حصول کی لیے نجف گئے اور وہاں 1329ھ مطابق 1911ء تک وہاں رہے۔ یہاں حاج مرزا حسین نوری طبرسی، شیخ محمدطہٰ نجف، سید مرتضی کشمیری، حاج مرزاحسین میرزا خلیل، آخوند ملا محمّد کاظم خراسانی، سید احمد حائری تہرانی، مرزا محمدعلی چہاردہی، سید محمد کاظم یزدی اور شیخ الشریعہ اصفہانی کے دروس میں شرکت کی ۔

وفات[ترمیم]

آقا بزرگ تہرانی کی آخری آرام گاہ۔ (نجف)

طویل علالت کے بعد 94 سال کی عمر میں 13 ذوالحجہ 1389ھ مطابق 20 فروری 1970ء کو نجف میں فوت ہوئے۔ اپنی وصیت کے مطابق اپنے کتب خانہ میں مدفون ہوئے کہ جسے علما اور طلاب کے عمومی استفادے کے لیے وقف کیا تھا۔

تالیفات و تصانیف[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]