آچے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
آچے
Aceh
صوبہ
بیت الرحمان جامع مسجد
بیت الرحمان جامع مسجد
آچےAceh کا پرچم
پرچم
آچےAceh کی دفتری مہر
مہر
آچےAceh کا قومی نشان
قومی نشان
Motto: "Udép Beu Saré, Maté Beu Sajan"(آچی),[1]
"موت تک ایک دوسرے کے ساتھ مساوات کے لیے جدوجہد"
Map indicating the location of Aceh in Indonesia
آچے (سبز) انڈونیشیا میں (خاکستری).
ملک انڈونیشیا
دار الحکومت باندا آچے
حکومت
 • گورنر زینی عبداللہ
رقبہ
 • کل 58,375.83 کلو میٹر2 (22,539.03 مربع میل)
آبادی (2010)[2]
 • کل 5.046.000
 • کثافت 8.6×10−5/کلو میٹر2 (0.00022/مربع میل)
آبادیات[3][4]
 • نسلی گروہ 79% آچی
7% گایو لوط
5% گایو لوویز
4% الاس
3% سنگکل
2% سیمیولے
 • مذیب 98.19% مسلم
1.12% پروٹسٹنٹ
0.07% رومن کیتھولک
0.16% بدھ
0.08% ہندو
 • زبانیں انڈونیشیائی (سرکاری)
آچی
منطقۂ وقت انڈونیشیا معیاری وقت (UTC+7)
ویب سائٹ acehprov.go.id

آچے (انڈونیشیائی: Aceh, آچیائی: Acèh) انڈونیشیا کے ایک خاص علاقے، سماٹرا کے شمالی سرے پر واقع ہے۔ یہ بھارت کے انڈمان اور نکوبار جزائر کے قریب ہے اور انڈمان سمندر کی طرف سے ان سے الگ ہے۔ آچے سب سے پہلے آچے دار السلام (1511-1959) کے طور پر جانا جاتا تھا اور پھر ڈیرہ استعما آچے (1959-2001)، ننگرو آچے دار السلام(2001-2009) اور آچے (2009 موجودہ) کے طور پر، بعد میں آچے کے ماضی کے ہجے آتچے اور آچن شامل ہیں۔ آچے صوبہ انڈونیشیا میں مسلمانوں کا سب سے زیادہ تناسب والا صوبہ ہے، بنیادی طور پر یہاں کے باشندے شریعت کے رسوم و رواج اور قوانین کے مطابق رہتے ہیں۔

آچے کے متعلق یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہاں جنوبی ایشیا میں سب سے پہلے اسلام کے قدم پہنچے۔ سترہویں صدی کے اوائل میں آچے کی سلطنت ملککا آبنائے علاقے میں سب سے زیادہ امیر، طاقتور اور زراعت پیشہ ریاست تھی۔

ایلیمینٹری اسکول[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

سلطنت آچے

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Singa dan Burak menghiasi lambang Aceh dalam rancangan Qanun (Lion and براق decorate the coat of arms of Aceh in the Draft Regulation) Atjeh Post, 19 November 2012.
  2. سانچہ:Id Central Bureau of Statistics: Census 2010, retrieved 17 January 2011.
  3. "INDONESIA: Population and Administrative Divisions"۔ The Permanent Committee on Geographical Names۔ 2003۔ 
  4. Indonesia's Population: Ethnicity and Religion in a Changing Political Landscape۔ Institute of Southeast Asian Studies۔ 2003۔