ارشمیدس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ارشمیدس
(قدیم یونانی میں: Ἀρχιμήδηςخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Domenico-Fetti Archimedes 1620.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 287 ق م  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
سرقوسہ، صقلیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 212 ق م  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
سرقوسہ، صقلیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات قتل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
رہائش سرقوسہ، صقلیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ ریاضی دان،طبیعیات دان،ماہر فلکیات،موجد،مہندس،مصنف،فلسفی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان قدیم یونانی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل ہندسہ،ریاضی،میکانیات،ہندسیات،فلکیات  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر

ارشمیدس (Archimedes) یونانی ریاضی دان جس نے میکانیات اور علم مائعات کے اصول وضع کی اور اجرام فلکی کی حرکات معلوم کرنے کا ایک آلہ تیار کیا۔ ایسا آتشی شیشہ بنایا جس کی حرارت دور سے دور کی چیزیں جل اُٹھیں۔ علم جر ثقیل کا ماہر تھا۔ اس کی ایجاد کردہ توپیں اس قدر مضبوط تھیں کہ سیراکیوز کامحاصرہ کرنے والے جنرل کلاڈیس کو شہر پر قبضہ کرنے میں پورے تین سال لگے۔ سیراکیوز پر قبضہ کرنے کے بعد کلاڈیس نے ارشمیدس کومعاف کرنے کا حکم جاری کیا۔ لیکن ایک سپاہی نے اُسے غلطی سے قتل کر دیا۔

ارشمیدس کا قانون[ترمیم]

ارشمیدس نے یہ قانون بھی دریافت کیا کہ کسی ٹھوس شے کو کسی مائع کے اندر پورے طور پر ڈبو دیا جائے تو اس شے کے وزن میں کمی آجاتی ہے اور یہ کمی اس شے کے مساوی الحجم مائع کے وزن کے برابر ہوتی ہے۔ حکیم ارشمیدس نے اس قانون کی مدد سے شاہ ہیرو کے سونے کے تاج کا معما حل کیا تھا۔ اسے یہ خیال پیدا ہوا تھا کہ اگر شاہی تاج کوپانی میں ڈبویا جائے تو اس کے وزن میں کمی پیدا ہوگی اور اگر تاج کے ہم وزن سونے کی ڈلی لے کر اسے پانی میں ڈبویا جائے تو اس کا وزن کم ہو جائے گا۔ اگر دونوں صورتوں میں وزن کی یہ کمی برابر ہوئی تو اس کا مطلب ہوگا کہ تاج خالص سونے کا ہے۔ تجربہ کرنے پر اس نے معلوم کر لیا کہ جوہری نے تاج میں کھوٹ ملائی تھی۔ ارشمیدس نے اس موضوع پر ایک مکمل کتاب لکھی۔ کتاب کا نام’’ تیرنے والے اجسام ‘‘ ہے۔ جو دنیا میں ماسکونیات پر پہلی تصنیف ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]