ارشمیدس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ارشمیدس

دور: 277۔212 ق م

ارشمیدس (Archimedes) یونانی ریاضی دان جس نے آلاتیات اور علم مائعات کے اصول وضع کی اور اجرام فلکی کی حرکات معلوم کرنے کا ایک آلہ تیار کیا۔ ایسا آتشی شیشہ بنایا جس کی حرارت دور سے دور کی چیزیں جل اُٹھیں۔ علم جر ثقیل کا ماہر تھا۔ اس کی ایجاد کردہ توپیں اس قدر مضبوط تھیں کہ سیراکیوز کامحاصرہ کرنے والے جنرل کلاڈیس کو شہر پر قبضہ کرنے میں پورے تین سال لگے۔ سیراکیوز پر قبضہ کرنے کے بعد کلاڈیس نے ارشمیدس کومعاف کرنے کا حکم جاری کیا۔ لیکن ایک سپاہی نے اُسے غلطی سے قتل کر دیا۔


ارشمیدس کا قانون[ترمیم]

ارشمیدس نے یہ قانون بھی دریافت کیا کہ کسی ٹھوس شے کو کسی مائع کے اندر پورے طور پر ڈبو دیا جائے تو اس شے کے وزن میں کمی آجاتی ہے اور یہ کمی اس شے کے مساوی الحجم مائع کے وزن کے برابر ہوتی ہے ۔ حکیم ارشمیدس نے اس قانون کی مدد سے شاہ ہیرو کے سونے کے تاج کا معما حل کیا تھا۔ اسے یہ خیال پیدا ہوا تھا کہ اگر شاہی تاج کوپانی میں ڈبویا جائے تو اس کے وزن میں کمی پیدا ہوگی اور اگر تاج کے ہم وزن سونے کی ڈلی لے کر اسے پانی میں ڈبویا جائے تو اس کا وزن کم ہوجائے گا۔ اگر دونوں صورتوں میں وزن کی یہ کمی برابر ہوئی تو اس کا مطلب ہوگا کہ تاج خالص سونے کا ہے۔ تجربہ کرنے پر اس نے معلوم کر لیا کہ جوہری نے تاج میں کھوٹ ملائی تھی۔ ارشمیدس نے اس موضوع پر ایک مکمل کتاب لکھی۔ کتاب کا نام’’ تیرنے والے اجسام ‘‘ ہے۔ جو دنیا میں ماسکونیات پر پہلی تصنیف ہے۔