ازنیق

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(ازنیق (ضلع)، بورصہ سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
ازنیق
(یونانی میں: Νίκαια)
(ترکی میں: İznik ویکی ڈیٹا پر باضابطہ نام (P1448) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Iznik 989a.jpg 

انتظامی تقسیم
ملک Flag of Turkey.svg ترکی (صدی 20–)  ویکی ڈیٹا پر ملک (P17) کی خاصیت میں تبدیلی کریں[1]
دارالحکومت برائے
تقسیم اعلیٰ بورصہ صوبہ  ویکی ڈیٹا پر انتظامی تقسیم میں مقام (P131) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جغرافیائی خصوصیات
متناسقات 40°25′44″N 29°43′10″E / 40.428888888889°N 29.719444444444°E / 40.428888888889; 29.719444444444  ویکی ڈیٹا پر متناسقاتی مقام (P625) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رقبہ 753 مربع کلومیٹر  ویکی ڈیٹا پر رقبہ (P2046) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آبادی
کل آبادی 43330 (Address Based Population Registration System) (2018)  ویکی ڈیٹا پر آبادی (P1082) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مزید معلومات
اوقات 00، متناسق عالمی وقت+03:00  ویکی ڈیٹا پر منطقہ وقت (P421) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رمزِ ڈاک
16x  ویکی ڈیٹا پر ڈاک رمز (P281) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
باضابطہ ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر باضابطہ ویب سائٹ (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جیو رمز {{#اگرخطا:745026  ویکی ڈیٹا پر جیونیمز شناخت (P1566) کی خاصیت میں تبدیلی کریں|}}
نحوی غلطی

ازنیق (İznik) (قدیم نام نیقیہ (Nicaea)) ترکی کا ایک شہر ہے جو جھیل ازنیق کے کنارے زرخیز علاقے میں واقع ہے۔ یہ یونانی عہد کا ایک قدیم شہر ہے جو دو کلیسائی مجلسوں کے لیے معروف ہے۔ اس کے علاوہ یہ سلطنت نیقیہ کا دار الحکومت بھی رہا ہے اور چوتھی صلیبی جنگ کے بعد 1204ء سے 1261ء تک بازنطینی سلطنت کا بھی دار الحکومت رہا۔ 1331ء میں عثمانیوں کی جانب سے فتح کیے جانے کے بعد کچھ عرصہ ان کا دار الحکومت رہا۔ 1930ء سے یہ جمہوریہ ترکی کے صوبہ بورصہ کا حصہ ہے۔

تاریخ[ترمیم]

ازنیق کا قدیم نام نیقیہ (Nicaea) ہے۔ یہ قدیم عثمانی دار الحکومت بورصہ سے تقریبا 80 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے۔ نیقیہ دو کلیسائی مجلسوں کے لیے مشہور ہے۔ ایک 325ء کی نیقیہ مجلس، جس میں اسکندریہ کے پادری ایریس (Arius) کے اس نظریے کو رد کیا کہ عیسیٰ خدا نہیں اور اس کی بجائے "نظریۂ نیقیہ" یعنی الوہیتِ مسیح کا نظریہ مسیحیت کی بنیاد قرار پایا۔[2]

دوسری نیقیہ مجلس 787ء میں بت شکن عیسائیوں (Iconoclasts) کی مذمت کر کے بت پرستی کو جزو مسیحیت بنا گیا۔[3]

عربوں نے 717ء اور 725ء میں نیقیہ کے ناکام محاصرے کیے۔ 1081ء میں شہر سلیمان بن قتلمش سلجوقی کے قبضے میں آ گیا۔ 1096ء میں سلیمان کے بیٹے اور جانشیں الپ ارسلان نے نیقیہ کے سامنے صلیبیوں کو شکست فاش دی مگر آیندہ سال 20 جون 1097ء کو یہ شہر گوڈفرے کی سرکردگی میں حملہ آور صلیبیوں کا مقابلہ نہ کر سکا اور اس نے اطاعت قبول کر لی۔ عثمانی سلطان اورخان اول نے طویل محاصرے کے بعد 1331ء میں نیقیہ پر قبضہ کیا اور کچھ دنوں کے لیے اسے اپنا دار الحکومت بنایا۔ 1402ء میں تیمور لنگ کی فوج کے ایک دستے نے اس شہر پر قبضہ کر کے اسے ویران کر دیا۔

عثمانی سلطنت کی دوبارہ بحالی کے بعد اس شہر نے اپنی خوبصورت چینی کے کام کی وجہ سے عالمی سطح شہرت سمیٹی۔ یہاں تیار ہونے والی چینی کی سلیں (ٹائلیں) استنبول اور ملک کے دیگر بڑے شہروں کی مساجد میں استعمال ہوئیں اور انہیں مشہور عثمانی معمار سنان پاشا نے بھی اپنی تعمیرات میں استعمال کیا۔ سلیں تیار کرنے کی یہاں کی صنعت ازنیق چینی کہلاتی ہے

حوالہ جات[ترمیم]

  1.   ویکی ڈیٹا پر جیونیمز شناخت (P1566) کی خاصیت میں تبدیلی کریں"صفحہ ازنیق في GeoNames ID"۔ GeoNames ID۔ اخذ شدہ بتاریخ 5 دسمبر 2019۔
  2. اردو دائرۂ معارف اسلامیہ:508,507/2
  3. آکسفرڈ انگلش ریفرنس ڈکشنری، ص 979