اسلم چوک مدھوبنی احتجاج

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Aslam Chowk Madhubani Protest
Part of شہریت (ترمیم) بل کے خلاف مظاہرے
تاریخ
19فروری 2020 سے جاری
(2 سال، 343 دن)
مقام
اسلم چوک، نظرا رانیپور، بینی پٹی ، مدھوبنی، بہار
وجہشہریت ترمیمی بل 2019ء کی منظوری ، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پولیس کی مداخلت اورشاہین باغ احتجاج
طریقہ کاراحتجاج، دھرنا، احتجاجی مارچ، سول نافرمانی، فن (Graffitiشاعری
صورتحالجاری
مرکزی رہنما
اقبال حسن، تسفیر عالم سجاد، , شہباذ ، محمد عامل ، محمد کامران، عنایت اللہ ندوی ، وقار رانیپوری بہار پولیس، مرکزی بی جے پی حکومت

اسلم چوک مدھوبنی احتجاج شہریت (ترمیم)ایکٹ کے خلاف مظاہروں کی ایک کڑی ہے۔ یہ احتجاج بہار کے شہر مدھوبنی میں واقع اسلم چوک، نظرا، رانی پور میں 19 فروری 2020 سے جاری ہے۔[1]

پس منظر[ترمیم]

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بربریت کے واقعات اور شاہین باغ احتجاج سے اثر لیکر اسلم چوک کی خواتین سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کی تردید میں اسلم چوک، نظرا، رانی پور میں 19 فروری 2020 کو دھرنے پہ بیٹھ گئی۔

اہم واقعات[ترمیم]

احتجاج میں شامل ہونے والی شخصیات[ترمیم]

  • 14 مارچ 2020 کو سپریم کوٹ کے وکیل بھانو پرتاپسنگھ نے دھرنے میں شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملک کو جس راستے کی طرف لے جانا چاہتی ہے وہ نہایت خطرناک ہے اس لئے ہم اسے اس راستے پر چلنے کی اجازت نہیں دے سکتے کیونکہ اس صورت میں نہ صرف ملک ٹوٹ جائے گا بلکہ عالمی سطح پر ہندوستان کی پہچان متاثر ہوگی، لیکن اگر حکومت تعصب کی بنیاد پر عوامی مزاج کے خلاف چلتے ہوئے آئین کی خلاف ورزی کرتی رہی تو ہم پوری قوت کے ساتھ جمہوری حق کے مطابق اپنی آواز اٹھائیں گے اور سی اے اے کے خلاف اپنی آخری سانس تک لڑتے رہیں گے،تاکہ ملک کا جمہوری اقتدار سلامت رہ سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ قانون صرف مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے بلکہ تمام کمزور طبقات کے خلاف ہے اور حکومت صرف تین ملکوں کا نام لے کر گمراہ کرنے کی کوشش کررہی ہے، اس لئے حکومت جب تک اس قانون کو واپس نہیں لے لیتی ہے تب تک ہمارا یہ احتجاجی مظاہرہ جاری رہے گا۔
  • جناب ضیاء القمر فلاحی نے اپنے خطاب میں کہا کہ سی اے اے بالواسطہ طور پر مسلمانوں کو ہدف بنانے کے لئے لایا گیا ہے اور ایسا صرف ان کی مذہب کی بنیاد پر کیا جارہا ہے۔ مزید انہوں نے کہا کہ یہ سی اے اے ہندوستانی گنگا جمنی تہذیب کوزک پہنچانے اور ہندو۔مسلم کے درمیان تفریق ڈال کر نفرت کی گہری کھائی پیدا کرنے کے لئے ایک منظم سازش ہے، آخر میں انہوں نے کہا کہ سی اے اے کے خلاف احتجاج کو ایک خاص کمیونٹی کا احتجاج ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن ہمارے احتجاج میں ہر طبقے کے لوگ شامل ہیں _
  • پرویز حسن دانش سابق امیدوار حلقہ بسفی نے مرکزی حکومت کے اس قدم کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے تین طلاق کے موضوع پر جب وہ مسلم خواتین اور بہنوں کے فکر مند تھے تو ایسے سی اے اے کے خلاف اٹھنے والی بہنوں کی آواز کو وہ سن لیں اور اسے واپس لے، مزید انہوں نے کہا کہ اس قانون کے ذریعہ ہندو مسلم کو بانٹا جارہا ہے ساتھ ہی کہا کہ ہمارے آباؤ اجداد نے ملک ہندوستان کی آزادی کے لئے قربانیاں پیش کی ہیں اس کے باوجود ہم سے ہندوستانی ہونے کا ثبوت مانگا جارہا ہے، انہوں نے کہا کہ اس قانون کے خلاف پورے ملک میں احتجاج ہو رہا ہے ایسے میں حکومت کو سمجھنا چاہئے -_
  • صحافی حسان سلفی نے کہا کہ ہم ہندوستانی ہیں اور ہمیں کسی کو اپنی وطن پرستی کا ثبوت دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ بی جے پی حکومت سی اے اے این آر سی کے ذریعہ مسلم سماج کو ہراساں کررہی ہے تو وہیں اس دھرنے میں شریک سماجی کارکن کامل حسین نے کہا کہ سی اے اے این آر سی اوراین پی ار ایک غیر قانونی پیکج ہے جو بطور خاص غریبوں، پسماندہ طبقوں، دلتوں، لسانی اور مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بناتا ہے اوراین پی ار ہی این آر سی کی بنیاد ہے۔
  • جاوید عالم مدھوبنی نے خطاب کے ذریعے خواتین کے جوش اور جذبے کو مہمیز کیا، اور غیر معینہ مدت تک احتجاج کو جاری رکھنے کی اپیل کی اس کے بعد حکومت کی دوہری اور غلط پالیسی کو مختصرا بیان کیا-
  • قمر الہدی ( تمنا ) نے اپنی تقریر کے ذریعے سامعین کا دل جیت لیا آئین ہند کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے کہا کے دستور ہمیں آزادی کے ساتھ جینے کا حق دیتا ہے ہم کسی بھی حال میں میں اس ملک سے باہر جانے کے لیے تیار نہیں ہیں
  • کانگریس کے لیڈر جناب سید تنویر انور نے کہا کہ یہ سی اے اے ہمارے ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیگا اور آپسی اتحاد کو تہس نہس کر دیگا یہ سی اے اے ہمارے ملک کے گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنے والا اور ہمارے بھائی چارے پر داغ لگانے والا قانون ہے مودی سرکار ملک کے سمپتی کو ایک ایک کرکے بیچ رہی ہے اور نوجوانوں کو بے روزگار بنانے کا کام کر رہی ہے ملک ایک بار پھر بھوک مری اور غریبی سے جھونج رہا ہے کسان روز خود کشی کر رہے ہیں مگر اس سرکار کو عوام کی کوئی فکر نہیں. اس لئے جس طرح دھلی کی عوام نے ناکار دیا اسی طرح بہار کی عوام بھی انہیں آئندہ انتخابات میں سبق سیکھادیگی.
  • شبیر احمد سابقف امیدوار ہرلاکھی حلقہ نے کہا کہ مودی سرکار جب تک اس قانون کو واپس نہیں لیتی اس وقت تک لڑائی جاری رہے گی اور آخری سانس تک ہم لوگ آپسی بھائی چارے کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتے رہیں گے یہ حکومت ہمارے ملک میں نفرت پھیلانے کا کام کر رہی ہے مگر ان کی ناپاک عزائم کو ہم جنتا کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے انہوں نے کہا کہ ملک کے وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ ہم این آر سی پر ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے مگر شاہین باغ کی شاہینوں نے اسے مجبور کر دیا اور بیان دینے پر مجبور ہوئے ابھی تو پیچھے ہٹنے کی شروعات ہے آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا کیا-
  • سماجی کارکن جناب غلام مذکر خان نے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تکبرکرنے والے کا غرور ایک نہ ایک دن ٹوٹ ہی جاتاہے فرعون نے بھی اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھا اور اس کا بھی زوال ہوگیا اور آج کے دور کے وقت کا فرعون جوبنابیٹھاہے وہ بھی غروب ہوگا اور حق کی ہمیشہ جیت ہوئی ہے اور ہم حق کی لڑائی لڑرہے ہیں اور ہمیں امید قوی ہیکہ جیت ہماری ہوگی-
  • 19 مارچ مولانا انوار اللہ فلک نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ مرکزی حکومت سی اے اے، این آر سی اوراین پی ار لا کر آپس میں تفریق پیدا کررہی ہے۔ لوگوں کو تقسیم کرنے کے لئے کام کر رہی ہے۔ یہ سی اے اے ہندوستان کے عام شہریوں کے لئے ایک مسئلہ ہے۔ ہندوستان میں شہریت دینے کا قانون پہلے سے تھا۔ اس میں ترمیم کرنا بھیم راؤ رام جی امبیڈکر کے بنائے ہوئے آئین کے منافی ہے۔ ان کی نیت اچھی نہیں ہے۔ یہ لوگ دلت معاشرے کے بنائے ہوئے آئین کو ہضم کرنے سے قاصر ہیں۔ وزیر داخلہ کہتے ہیں کہ شہریت دینے کا قانون لینے کانہیں۔ لیکن یہ حقیقت نہیں ہے، پہلے این آر سی کے نام پر ہم سےیہ شہریت لیں گے۔ جیسا کہ آسام میں ہوا، 19 لاکھ افراد کو این آر سی کی فہرست میں چھوڑ دیا گیا، جس میں 13 لاکھ افراد کا تعلق ہندو معاشرے سے تھا۔ شہریت جانےکے بعد وہ سیکنڈ کلاس کےشہری بن جائیں گے۔اس میں بھی پاکستان، افغانستان اوربنگلہ دیش کے مظلومین کو دینے کو کہتے ہیں۔ بودھ لوگ جو تبت سے آئے ہیں ان کا کیا ہوگا۔مسلم تو بہانا ہے۔ اس کے آڑ میں یہ عام لوگوں کو پریشان کرنے کا طریقہ ہے۔ این پی ار میں باپ اور ماں کی جائے پیدائش اور تاریخ پوچھی جائے گی۔ ماں ،باپ کے پیدائش کی تاریخ بتانا ممکن نہیں ہے۔ این پی ار ، این آرسی کا پہلا قدم ہے۔ ہمیں ان کے جھوٹ اور فریب کو سمجھنا ہے۔ انگریز وں نےجس طرح پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو کی پالیسی اپنائی تھی وہی کام یہ حکومت کررہی ہے۔ لیکن اس ملک کے عوام سب سمجھ رہے ہیں کہ یہ اپنے ناکامیوں کو چھپانے کے لئے ان قانونوں میں ہمیں الجھا کر رکھنا چاہتی ہے۔ اس ملک کے عوام سمجھ رہے ہیں اس لئے سکھ اور اکثریتی فرقہ کے لوگ بھی مضبوطی کے ساتھ اس قانون کی مخالفت کررہے ہیں۔ آزادی ہمیں اتنی جلدی نہیں ملی تھی، سینکڑوں سال جدوجہد کرنے پر ملی۔ اسی طرح یہ لڑائی بھی ہمیں آئین کے دائرے اور پرامن طریقہ سے جاری رکھنا ہے۔ ہم لوگ ]]گاندھی]] کو ماننے والے ہیں۔ گوڈسے کے نہیں۔ جب تک مرکزی سرکار اس کالے قانون کو واپس نہیں لیتی ہم پرامن طریقہ سے یہ تحریک جاری رکھیں گے۔
  • مہیندر رائے نے سامعین سے مخاطب ہو تے ہوتے ہوئے کہا کہ 75 سالوں میں پہلی بار ایسا ہورہا ہے کہ خواتین مسلسل تین تین ماہ سے دھرنہ پردشن کررہی ہیں، وہیں اس سے قبل جب بھی ایک دن کا بھی دھرنہ ہوتاتھا تو حکومت کا کوئی نہ کوئی نمائندہ دھرنے کی جگہ پر جاتا اور اس کی باتوں کوسن کر اپنا فیصلہ واپس لیتا، لیکن یہ ظالم حکومت اپنی باتوں پر ڈٹی ہوئی ہے، آخر میں شاعر بے باک جناب دانش کمال سرگم اور اشفاق کریمی نے اپنے کرانتی کاری شاعری سے سامعین کے دل کو باغ باغ کردیا
  • جناب ثناءاللہ صدیقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے اور اس کے آئین کے خلاف اٹھنے والا کوئی بھی اقدام ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا۔ بدقسمتی سے حکومت کو اس ملک کی اخوت کی تاریخ اور مخلوط ثقافت کی پرواہ نہیں ہے اور وہ اسے درہم برہم کرنے پر آمادہ ہے۔انہوں نے مزید کہا ہم نے ہمیشہ اپنی جان سے زیادہ اس ملک کو محبت کی ہے۔ ہمارے بزرگوں نے اس کے لئے قربانی دی ہے۔ سی اے اے، این آر سی اور این پی آر جیسے سیاہ قانون لا کرکے آج مسلمانوں کو اپنے ہی ملک میں بیگانہ ثابت کردیا ہے جبکہ کل کو این آر سی کی شکل میں اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔
  • اعظم ازہری نے کہا کہنے کہا ہمارے بزرگوں نے ملک کو آزاد کروانے کے لئے انگریزوں کے سامنے قربانیاں دی ہیں اور آج ہمارے ساتھ یہ سلوک روا رکھا جا رہا ہے! ہم یہ کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ ملک میں ایک طبقہ کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔ ملک کے تمام مذاہب کے لوگوں کو آج مسلمانوں کی حمایت میں آنا چاہیے۔
  • سماجی کارکن جناب ثناءاللہ صدیقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے اور اس کے آئین کے خلاف اٹھنے والا کوئی بھی اقدام ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا۔ بدقسمتی سے حکومت کو اس ملک کی اخوت کی تاریخ اور مخلوط ثقافت کی پرواہ نہیں ہے اور وہ اسے درہم برہم کرنے پر آمادہ ہے۔انہوں نے مزید کہا ہم نے ہمیشہ اپنی جان سے زیادہ اس ملک کو محبت کی ہے۔ ہمارے بزرگوں نے اس کے لئے قربانی دی ہے۔ سی اے اے، این آر سی اور این پی ار جیسے سیاہ قانون لا کرکے آج مسلمانوں کو اپنے ہی ملک میں بیگانہ ثابت کردیا ہے جبکہ کل کو این آر سی کی شکل میں اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔
  • اعظم ازہری نے کہا کہنے کہا ہمارے بزرگوں نے ملک کو آزاد کروانے کے لئے انگریزوں کے سامنے قربانیاں دی ہیں اور آج ہمارے ساتھ یہ سلوک روا رکھا جا رہا ہے! ہم یہ کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ ملک میں ایک طبقہ کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔ ملک کے تمام مذاہب کے لوگوں کو آج مسلمانوں کی حمایت میں آنا چاہیے۔

اسلم چوک کے احتجاج کے اہم نکات[ترمیم]

ملک کی خواتین نے شاہین باغ جیسی ایک مضبوط تحریک پیش کی جو آج پورے ملک میں پھیل چکی ہے اور سیکڑوں شاہین باغات بن چکے ہیں جہاں خواتین بے خوف ہو کر آواز بلند کررہی ہیں۔مختلف یونیورسٹی طلباء ، وکلاء ، اور سماجی کارکن پورے ملک میں گھوم رہے ہیں اور لوگوں کو آگاہ کررہے ہیں۔سی اے اے کے خلاف احتجاج میں ایک نیا نام شامل کیا گیا ہے: اسلم چوک ، ہاں ، نظرا رانی پور اور آس پاس کے کچھ نوجوانوں کی محنت کی وجہ سے یہ احتجاج شروع ہوا ہے اور اس جگہ پر ان کی بھر پور حمایت کی جارہی ہے۔ مائیں اور بہنیں پابندی کے ساتھ بڑی تعداد میں آتی ہیں اور مقررین کو سن رہی ہیں اور حکومت کی نیت کو سمجھ رہی ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. انظار الحق قمری. "مدھوبنی کی عوام نے CAA & NRC کے خلاف بینی پٹی انومنڈل کے سامنے ایک یادگار احتجاجی مظاہرہ کیا". Hindustan Urdu Times. اخذ شدہ بتاریخ 09 مارچ 2020. [مردہ ربط]

مزید دیکھیے[ترمیم]