استوپا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(اسٹوپا سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
تراجم
اسٹوپا
پالی: thūpa, cetiya
سنسکرت: स्तूप
چینی: 舍利塔
(پینینShèlìtǎ)
جاپانی: 舎利塔
(روماجی: Sharitō)
خمیر: ចេតិយ
کوریائی: 솔도파
(آر آر: Soldopha)
منگولی: Суварга
سنہالی: දාගැබ්
(dagoba)
تبتی: མཆོད་རྟེན་
(chorten)
تھائی: สถูป, เจดีย์
(ISO 11940:)
ویتنامی: Phù đồ
بدھ مت کی فرہنگ
شنگردر اسٹوپا، وادی سوات۔

مشرقی ہند میں قدیم قبریں گول ہوتی تھیں اور استوپ کہلاتی تھیں ۔ گوتم بدھ سے پہلے قبروں کی کوئی اہمیت نہیں تھی ۔ مگر گوتم کے مرنے کے بعد اس کی راکھ کے مدفن کی حثیت سے استوپ کو اہمیت اور مذہبی علامت دی جانے لگی اور اس کو اتنی زیادہ دینی حثیت حاصل ہو گئی کہ گوتم اور دوسرے بدھ متی بزرگوں کے آثار کےلیے استوپ بنانا بڑے ثواب کا کام سمجھا جانے لگا ۔ عموماً ہر استوپ کے ساتھ بھکشووَں کے رہنے کےلیے دھار ( خانقاء ) اور ان کے اجتماع کےلیے ایک چیتا ( عبادت گاہ ) بنوائی جاتی تھی ۔ شروع میں استوپ نیم دائرے کی شکل کا ٹھوس گنبد ہوتا تھا ، جو قبر کی طرح بغیر کرسی کے بنایا جاتا تھا اور اس کے بیچ میں تابوت کی جگہ وہ آثار رکھے جاتے تھے جن کی پرستش مقصود ہوتی تھی ۔ استوپ کی چوٹی پر ایک چوکور جنگلہ ہوتا تھا اور اس کے اوپر ایک چتر ۔ چونکہ بدھوں میں جس چیز کا احترام کیا جاتا تھا اس کے گرد طواف کیا جاتا تھا اس لیے استوپ کے گرد ایک گول چبوترا بنادیا جاتا تھا ۔ بعد میں استوپ کے مزید احترام کے خیال سے ایک جنگلے کے ذریعے اس کی احاطہ بندی کی جانے لگی ۔ اس جنگلے کے چاروں طرف سمتوں کے لحاظ سے دروازے ہوتے تھے ۔ دھار کا نقشہ وہی ہوتا تھا جو استوپوں کا ہوتا تھا ۔ یعنی بیچ میں صحن اور اس کے چاروں طرف کمرے اور کوٹھریاں جو صحن میں کھلتی تھیں ۔ صرف یہ ترمیم کردی گئی کہ تین طرف کمرے اور ایک طرف ٹہلنے کےلیے لان رکھا گیا تھا ۔

اسٹوپا کو بدھ کی قبر بھی کہا جاتا ہے ۔ بدھ کی خاک آٹھ اسٹوپوں میں محفوظ کی گئی تھی ۔ اشوک ان آثار کو نکال کر سلطنت کے تمام بڑے شہروں اور صوبوں میں بھجوا دیا اور حکم دیا کہ وہاں شاندار اسٹوپے تعمیر کرا کر انہیں دفن کیا جائے ۔ یوں یہ خاک چوراسی ہزار اسٹوپوں میں محفوظ ہوئی ۔ چنانچہ اسٹوپوں کو بدھ کی قبر بھی کہا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ بدھ کے پیروکاروں اور بزرگ کو بھی دفن کیا جاتا تھا اور بدھ کے تبرکات پر بھی اسٹوپے تعمیر کیے گئے ۔ چنانچہ فاہیان ایک اسٹوپے کا ذکر کرتا ہے جو بدھ کے کشکول پر بنایا گیا تھا ۔ اس طرح شکرانے کے طور پر امیر آدمی بھی اسٹوپے تعمیر کراتے تھے ۔ زائرین اسٹوپے کے گرد طواف کرتے تھے اور اس کے ساتھ اسٹوپے کی گولائی پر نظر رکھتے تھے اور اس پر آویزاں مجسموں کو دیکھتے جاتے تھے ، جن میں مہاتمہ بدھ کی زندگی کے مختلف ادوار بیان کیے جاتے تھے ۔ یہ اسٹوپے مہاتمہ بدھ کی زندگی کے بارے میں پتھریلی کتاب تھے ۔ اسٹوپے کے گنبد پر ہمیشہ سات چھتریاں ہوتی تھیں جو سات آسمانوں کو ظاہر کرتی تھیں ۔ اشوک کے دور میں بدھ مت نے عروج پایا ۔ اس نے بدھ مت قبول کر لیا تھا اور اس نے اپنی سلطنت کے آٹھ مقامات پر بڑے اسٹوپے تعمیر کرائے تھے اور ہر اسٹوپے میں گوتم بدھ کے تھورے تھورے تبرکات محفوظ کیے تھے ۔ ٹیکسلہ کا دھرم راجیکا ان میں سب سے بڑا تھا ۔ شاہی اسٹوپوں کی دیکھ بھال کے لیے بھشکو مقرر تھے ۔ ان کے رہنے کے لیے دہار بنا دیے گئے اور آس پاس کی زمین اس کے لیے وقف کردی گئی ۔
پہلے ان اسٹوپوں پر گوتم بدھ کی مورتیاں کندہ ہوتی تھیں ۔ یونانیوں نے جب بدمت قبول کیا تو وہ مے کے پیالوں کی جگہ کنول کے پھول تراشے اور ان میں یونانی دیوتاؤں کی جگہ گوتم کی مورتیاں بنائیں اور رفتہ رفتہ اناسٹوپوں پر گوتم کی زندگی واقعات کو بیان کیا جانے لگا ۔ عموماََ گوتم بدھ کی زندگی کے واقعات خاص کر کپل وستو کی زندگی کے واقعات کی منظرکشی کی جاتی تھی ۔ مثلاََ ایک جگہ گوتم بدھ کی کپل وستو سے اپنے خادم کے ہمراہ روانگی کا منظر ۔ دوسری جگہ گوتم بدھکا گھوڑا اکن نہکا آقا سے رخصت ہوتے وقت جھک کر ان کے قدم چوم رہا ہے اور بدھ کے تین چیلے دائیں بائیں کھڑے ہیں ۔ کشنوں کے دور میں سنگ تراشی کی جگہ مٹی اور چونے کی ابھرواں موتیاں اور نقش و نگار بنانے لگے ۔ چنانچہ گندھارا آرٹ کا سب سے حسین شاہکار گوتم بدھ کی وہ مورتی ہے جو کالواں اسٹوپا سے دریافت ہوئی تھی ، اس منظر میں گوتم اپنے منڈوا میں پالتی مارے بیٹھا ہے دو چیلے اس کے دائیں بائیں کھڑے ہیں ۔ یہ کچی مٹی کے ہیں لیکن سر پکی مٹی کا ہے اور دھر کچی مٹی کا بنا ہوا ہے ۔ جب ہنوں ے اس اسٹوپا کو آگ لگائی تو سر پک گیا تھا ۔

اشوک نے بے شمار اسٹوپہ بنوائے اس کے اسٹوپوں کا ذکر مشہور چینی سیاحوں فاہیان اور ہیونگ سانگ نے ذکر کیا ہے ۔ اشوک کے بعد یونانیوں نے بدھ مت قبول کر لیا ۔ انہوں نے وادی گندھارا میں بہت سے اسٹوپے بنوائے ۔ مشہور کشن فرمانراو کنشک نے بھی بدھ مت قبول کر لیا تھا اس کے دار الحکومت پشاور اور متھرا تھے ۔ پشاور کا مشہور اسٹوپا کنشک نے بنایا تھا ۔ اس کے علاوہ بہت سے اسٹوپے پشاور ، کشمیر اور برصغیر کے مختلف مقامات پر بنوائے تھے ۔ اس کے بعد اس سرز میں پر بدھ مت کو زوال آگیا پہلے ہنوں نے ان کے وہا اور اسٹوپوں کو تباہ اور بھکشووَں کو قتل کیا ۔ راجا ہریش وردھن خاندان کا راجا آخری مشہور فرمان روا بدھ مت اختیار کر لیا تھا اس سے کچھ جان پیدا ہوئی مگر اس کے بعد اس سرزمین پر سے بدھ مت فنا ہو گیا ۔ رہی سہیں کسر مسلمانوں نے پوری کردی ۔

مشہور اسٹوپوں میں کالواں اسٹوپا مانکوالیا اسٹوپہ ، دھرم راجیکا وادی گندھارا ، سانچی ، گیا اور مالندا کے اسٹوپے زیادہ مشہور ہیں ۔

ہندوستان اور پاکستان کے شمالی علاقوں میں یہ سٹوپے بکثرت پائے جاتے ہیں۔ ایک چینی سیاح فاہیان جب خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں 400 ق م میں آیا تھا تو لکھا کہ سوات میں 1400 بدھ مت کی خانقاہیں ہیں۔ جبکہ ہیون سانگ جب اس کے کئی سال بعد کوہ ہندوکش کو پار کر کے سوات آیا تو لکھا کہ بدھ مت یہاں زوال پزیر ہے اور اب صرف 700 کے لگ بھگ سٹوپے اور خانقاہیں باقی ہیں۔ یہاں 18000 بھکشو ہر وقت بدھ مت کے رسومات کی ادائیگی میں مصروف رہتے تھے۔ سوات میں اب صرف 46 اسٹوپے موجود ہیں جن پر اٹلی کے ماہرین آثار قدیمہ تحقیقات کر رہے ہیں ۔

ماخذ

قدیم ہندوستان ، محمد مجیب

سفر شمال کے مستنصر حسین ٹار

قدیم مشرق ۔ ڈاکٹر معین الدین


نگار خانہ[ترمیم]