التکویر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
التکویر
Sura81.pdf
التکویر
دور نزول مکی
اعداد و شمار
عددِ سورت 81
تعداد آیات 29
الفاظ 104
حروف 425
گذشتہ عبس
آئندہ الانفطار

نام

پہلی ہی آیت کے لفظ کوِّرَت' سے ماخوذ ہے۔ کوِّرَت تکویر سے صیغۂ ماضی مجہول ہے جس کے معنی ہیں لپیٹی گئی۔ اس نام سے مراد یہ ہے کہ وہ سورت جس میں لپیٹنے کا ذکر آیا ہے۔

زمانۂ نزول

مضمون اور اندازِ بیاں سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ مکۂ معظمہ کے ابتدائی دور کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے۔

موضوع اور مضمون

اس کے دو موضوع ہیں ایک آخرت اور دوسرے رسالت۔

پہلی چھ آیتوں میں قیامت کے پہلے مرحلے کا ذکر کیا گیا ہے جب سورج بے نور ہو جائے گا، ستارے بکھر جائیں گے، پہاڑ زمین سے اکھڑ کر اڑنے لگیں گے، لوگوں کو اپنی عزیز ترین چیزوں تک کا ہوش نہ رہے گا، جنگلوں کے جانور بدحواس ہو کر اکٹھے ہو جائیں گے اور سمندر بھڑک اٹھیں گے۔ پھر سات آیتوں میں دوسرے مرحلے کا ذکر ہے جب روحیں از سرنو جسموں کے ساتھ جوڑ دی جائیں گی، نامۂ اعمال کھولے جائیں گے، جرائم کی بازپرس ہوگی، آسمان کے سارے پردے ہٹ جائیں گے اور دوزخ جنت سب چیزیں نگاہوں کے سامنے عیاں ہو جائیں گی۔ آخرت کا یہ سارا نقشہ کھینچنے کے بعد یہ کہہ کر انسان کو سوچنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے کہ اس وقت ہر شخص کو خود معلوم ہو جائے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے۔

اس کے بعد رسالت کا مضمون دیا گیا ہے۔ اس میں اہل مکہ سے کہا گیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جو کچھ تمہارے سامنے پیش کر رہے ہیں وہ کسی دیوانے کی بڑ نہیں ہے، نہ کسی شیطان کا ڈالا ہوا وسوسہ ہے، بلکہ خدا کے بھیجے ہوئے ایک بزرگ، عالی مقام اور امانت دار پیغام بر کا بیان ہے جسے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھلے آسمان کے افق پر دن کی روشنی میں اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ اس تعلیم سے منہ موڑ کر آخرت تم کدھر چلے جا رہے ہو؟

پچھلی سورہ:
عبس
سورہ 81 اگلی سورہ:
الانفطار
[[:File:Sura81

.pdf|عربی متن]]