الحیرہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search


الحیرہ
Al-Hira
ملک Flag of Iraq.svg عراق

الحیرہ آرامی زبان کا لفظ ہے جو سریانی زبان کے حِرْتا اور عبرانی زبان کے لفظ حَاصِر سے مشتق ہے۔ اِس کے لغوی معنی کیمپ، بیرک یا چھاونی کے ہیں۔ مگر یہ نام اِسم معرفہ کی صورت میں تبدیل ہو گیا اور اِس کا اطلاق لخمی سرداروں کے مستقل کیمپوں پر ہونے ہونے لگا جو فارس کے شہنشاہوں کے ماتحت تھے۔ یہ کیمپس بعد ازاں ایک مستقل شہر کی صورت اِختیار کر گئے۔[1] الحیرہ کا ذکر قبل از اسلام کے عرب میں بہت ملتا ہے کیونکہ یہ لخمیوں کا پایہ تخت تھا۔ پانچویں اور چھٹی صدی عیسوی میں اس کا شمار تہذیبی شہروں میں کیا جاتا تھا۔ غالبا نویں صدی قبل مسیح میں جنوبی عرب سے قومِ عرب ہجرت کر کے عراق جو اُس وقت قدیمی میسوپوٹیمیا کہلاتا تھا، میں آباد ہونا شروع ہوئے۔ تیسری صدی عیسوی کے آغاز میں یہاں عرب آبادی کی کثرت ہوچکی تھی۔

عربوں کا خیال ہے کہ الحیرہ کی بنیاد بخت نصر کے عہد میں رکھی گئی تھی مگر اِس کا صحیح تعین ابھی تک نہیں ہو سکا، اگر یہ خیال درست بھی ہو تو بخت نصر کا زمانہ چھٹی اور پانچویں صدی قبل مسیح کا ہے اور عرب جنوبی علاقوں سے نویں صدی قبل مسیح میں ہی میسوپوٹیمیا کی جانب ہجرت کرکے منتقل ہو رہے تھے۔ لہٰذا یہ خیال درست معلوم نہیں ہوتا۔ الحیرہ کے مسیحی اُسقفوں کا ذکر کلیسائے مشرق کی اُن مجالس کے ضمن میں بھی آیا ہے جو پانچویں صدی عیسوی میں منعقد ہوئی تھیں۔ اب یہ ذکر صرف تاریخِ کتبوں میں ہی ملتا ہے۔

محلِ وقوع[ترمیم]

الحیرہ کا محل وقوع بہت مناسبِ حال اور موزوں مقام پر تھا کیونکہ نجف الاشرف اور دریائے فرات کے درمیانی علاقے میں بہت سی نہریں ایک دوسرے کو قطع کیا کرتی تھیں اور خاص یہ علاقہ اناج کی پیداوار اور کھجور کے باغات کی وجہ سے مشہور تھا۔ الحیرہ کی آب و ہوا بھی صحت بخش ہونے کے باعث مشہور تھی۔ الحیرہ کی صحت بخش آب و ہوا کے متعلق عرب شاعر نابغہ کا قول ہے کہ:

" الحیرہ میں ایک دن علاج کے ایک سال کے مقابلے میں بہتر ہے۔ "

لخمی بادشاہوں کے عہد میں اِس شہر کو خاصا ترقی ملتی رہی۔ انسائیکلوپیڈیا آف اسلام میں اِس کے صحیح محلِ وقوع کا تعین یوں لکھا گیا ہے کہ : یہ کوفہ سے مغرب میں تیل عربی میل کے فاصلے پر نجف الاشرف یعنی مشہد امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جنوب مشرق کی جانب گھوڑے کی سواری کے ذریعے ایک گھنٹے کی مسافت پر نجف الاشرف کی جھیل کے کنارے اور صحرا کے نزدیک واقع تھا۔ یہ جھیل اَب بالکل خشک و ناپید ہوچکی ہے۔[1] موجودہ دَور میں الحیرہ صرف کھنڈر کی صورت میں باقی رہ گیا ہے اور اِس شہر کا تعین یوں کیا جاسکتا ہے کہ موجودہ کوفہ سے تین کلومیٹر جنوب میں دریائے فرات کے مغربی کنارے پر واقع ہے۔

باشندگان اور مذہب[ترمیم]

دین مسیحیت کے اُسقفوں کے تذکرہ میں ملتا ہے کہ یہاں مسیحیت کے نسطوری کلیساء کے پیروکاروں کی متعدد آبادی آباد تھی۔ قابل ذکر لوگوں میں الحیرہ کا شاعر عدی بن زید کا خاندان بھی نسطوری مسیحی خاندان تھا۔ لخمی بادشاہوں نے بھی دین مسیحیت قبول کر لیا تھا جس سے مسیحیت کو فروغ ملنے لگا۔ لخمی بادشاہ عمرو بن المنذر کی ماں ہند نے شہر کے اندر ایک مسیحی خانقاہ تعمیر کروائی تھی۔ عمرو بن المنذر کا عہدِ حکومت 554ء سے 569ء تک کا ہے، اِس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ الحیرہ میں دین مسیحیت کا عروج و فروغ غالباً چھٹی صدی عیسوی کے نصف کے بعد سے لے کر ساتویں صدی عیسوی کے نصفِ اول سے کچھ پہلے تک رہا۔

محلات، قلعے، مصنوعات اور فنِ کتابت و شعرا[ترمیم]

الحیرہ کے قریب بہت سے قلعے اور محلات واقع تھے جن میں قصر اَبیض جو ایک ایرانی شہنشاہ نے بنوایا تھا، ابن بُکَیلہ کا قلعہ اور کلب کا عَیسُون کا قصر شامل تھے۔ شہر کی مصنوعات میں الحیرہ کے زیتون کا ذکرآتا ہے جس کا ذکر قدیم عربی شعرا اِمراءُ القَیس اور نابغہ نے کیا ہے۔ یہ شہر تمدن کے ایک خاص مقام کو پہنچ چکا تھا کہ عرب میں اُس وقت فنِ کتابت جو قبائل عرب میں ایک ناپید اور نایاب فن تھا، اُس سے بھی الحیرہ کے باشندے واقف ہوچکے تھے اور عرب روایات کے مطابق یہیں سے زبان اور فنِ کتابت تمام جزیرہ عرب میں پھیلا۔

الحیرہ میں جو عرب شاعر پیدا ہوئے وہ یہ ہیں:

النابغۃ الذیبانی جسے نابغہ بھی کہا جاتا ہے، اِس کا اصل نام زِیاد ابن معاویہ تھا۔ 535ء میں الحیرہ میں پیدا ہوا اور 604ء میں فوت ہوا۔ قبل از اسلام یہ عربوں کا بڑا شاعر ہوا ہے۔ نابغہ عربی زبان میں ذہین یا عبقری کو کہتے ہیں۔ نابغہ کا قبیلہ بنو الذیبان مکہ مکرمہ کے قریبی علاقے سے تعلق رکھتا تھا مگر خود نابغہ الحیرہ کے شاہی درباروں سے منسلک رہا۔ نابغہ کی پیدائش المنذر سوم ابن النعمان کے عہدِ حکومت میں ہوئی تھی اور المنذر سوم کے اواخر عہد تک نابغہ عہدِ شباب میں قدم رکھ چکا تھا۔ 554ء میں المنذر سوم کے بعد 562ء تک نابغہ بدستور الحیرہ کے شاہی دربار سے وابستہ رہا۔ حتیٰ کہ عمر سوم ابن المنذر سوم کا زمانہ بھی دیکھا۔ کچھ عرصہ اُس نے بنو غسان کے علاقہ میں گزارا اور النعمان سوم کے عہدِ حکومت (النعمان کا عہدِ حکومت 580ء سے 602ء تک کا ہے) میں دوبارہ وہ الحیرہ میں آ گیا اوراَیاس ابن کبیسہ کے عہدِ حکومت کے دوسرے سال یعنی 604ء میں اُس نے غالباً الحیرہ میں ہی وفات پائی۔

لقیت ابن یَعمُر العیاضی : اِس شاعر کے معتعلق زیادہ معلومات فراہم نہیں ہوسکیں مگر اِس کی زندگی بھی الحیرہ میں ہی گزری۔

عُدَی بن زید العبدی : اِس شاعر کے متعلق معلومات فراہم نہیں ہوئیں مگر اِس کی زندگی بھی الحیرہ میں ہی گزری۔

علقمہ ابن عبد ۃ جسے علقمۃ الفحل بھی کہا جاتا ہے وہ بھی الحیرہ میں غالباً چھٹی صدی عیسوی کے دوسرے نصفِ اول میں یہیں پیدا ہوا۔ علقمہ کے دیوان اور قصیدوں کو الاصمعی نے مدون کیا تھا۔ علقمہ کی وفات بھی الحیرہ میں ہی ہوئی۔

طرفہ بن العبد بن سفيان بن سعد أبو عمرو البكري الوائلي :

اِس کا زمانہ پانچویں صدی عیسوی کا ہے اور یہ قبیلہ بکر سے تھا۔ قبیلہ بنو بکر اور قبیلہ بنو تغلب کے مابین جاری کشمکش سے طرفہ کو اپنا بچپن بحرین میں گزارنا پڑا۔ طرفہ کا چچا المتلَمِس الحیرہ کے بادشاہ عمر سوم ابن المنذر کے دربار سے وابستہ تھا۔ طرفہ چونکہ بادشاہ کے بھائی کا دوست تھا اِس لے براہِ راست شاہی دربار سے تعلق قائم ہو گیا۔ عرب کے مشہور سبع معلقات میں طرفہ کی ایک نظم بھی شامل ہے۔

عمرو بن کلثوم :

عمرو بنو تغلب کا سردار تھا۔ الحیرہ میں پیدا ہوا اور 584ء میں فوت ہوا۔ اِس کی شعری نظم سبع معلقات میں شامل ہے۔ عمرو کا زمانہ عروج الحیرہ کے بادشاہ عمرو بن المنذر کا عہدِ حکومت تھا۔

لخمیوں کے عہدِ حکومت میں بحیثیتِ دار الحکومت[ترمیم]

عرب کے جنوبی علاقوں سے ہجرت کرکے آنے والے باشندوں میں یمن کے بنو لخم بھی شامل تھے جو بعد ازاں یہاں کے حاکم ہوئے۔ 268ء میں عمر بن عدی بن نصر ابن ربیعہ ابن نمرہ ابن لخم نے سلطنتِ الحیرہ کی بنیاد رکھی۔ یہ پہلا بادشاہ ہے جس نے الحیرہ کو اپنا دارالسلطنت بنایا اور عمر بن عدی کو ہی اہل عراق تاریخ میں اپنا پہلا بادشاہ لکھتے ہیں۔ عمر بن عدی کی ماں جزیمۃ الابرش کی بہن تھی۔ عمر بن عدی کو بعض مورخین فقط عمر بن عدی آل بنو نصر لکھ دیا کرتے ہیں کیونکہ نصر اُس کا دادا تھا۔ لخمی سلطنت کے قریباً 19 بادشاہوں نے الحیرہ کو اپنا دارالسلطنت بنائے رکھا۔ 268ء سے 602ء تک یہ شہر اپنی ترقی و عروج پر پہنچ چکا تھا اور تمدنی شہروں میں شمار کیا جاتا تھا۔ مغربی مورخین کے مطابق عمر بن عدی الحیرہ میں پہلا بادشاہ ہے جس نے دین مسیحیت قبول کیا۔

الحیرہ ساسانیوں کے عہدِ حکومت میں[ترمیم]

الحیرہ کے بادشاہوں کو پہلی مرتبہ ایرانی شہنشاہ شاپور دوم نے تسلیم کیا جس کا دَورِ حکومت 337ء سے 358ء تک کا ہے۔ 325ء میں ایرانی رومی جنگوں کے سلسلے میں ایرانی شہنشاہ شاپور دوم رومی شہنشاہ قسطنطین دوم سے محاذ آرائی کے لیے عرب علاقوں پر حملہ آور ہوا۔ اِسی مہم میں شاہور دوم عراق میں داخل ہوتا ہوا سلطنتِ الحیرہ کے قریب 60 ہزار افواج کے ہمراہ پہنچ گیا۔ اُس وقت الحیرہ میں اِمراءُ القَیس دوم بادشاہ تھا۔ اِمراءُ القَیس نے شہر کا دفاع کرنا چاہا مگر شاپور دوم نے الحیرہ کو بزورِ جبر چھین کر اپنا تسلط قائم کیا۔ شاہور دوم نے عرب سلطنتوں میں فارسی تسلط قائم کرنے کے لیے جبر سے کام لیا اور وہ مخالفین کے شانے (کندھے) رسی کے ذریعہ اُکھڑوا دیا کرتا تھا جس سے عربوں نے اُسے ذوالاکتاف یعنی شانے اکھڑوانے والا کہنا شروع کر دیا تھا۔

شاپور کے الحیرہ پر قبضے کے دوران اِمراءُ القَیس بھاگ کر بحرین چلا گیا جہاں وہ عرب سلطنتوں کو مستحکم و منظم کرنے کا خواب دیکھنے لگا، اِس سلسلے میں اُس نے رومی بازنطینی شہنشاہ قسطنطین دوم سے بھی مدد لینے کی خاطر شام بھی گیا مگر قسطنطین دوم کبھی اِس خیال کو پورا کرنے میں اِمراءُ القَیس کی مدد نہ کرسکا حتیٰ کہ اِمراءُ القَیس بحرین میں یہی آرزو لیے فوت ہوا۔ اِمراءُ القَیس کو شام کے صحرا میں بمقام النِمرہ میں دفن کیا گیا۔ وہ نجران تک کے عرب علاقوں کا بادشاہ ہونے کا دعویٰ کیا کرتا تھا جس کا تذکرہ اُس کے قبر پر نصب کتبے میں لکھا ہوا ملا ہے۔

پانچویں صدی عیسوی کے وسط سے کچھ عرصہ قبل سے ہی ساسانیوں کے الحیرہ کے بادشاہوں کے ساتھ کافی خوشگوار تعلقات اُستوار ہوچکے تھے۔ اِس کی ایک مثال یہ ہے کہ ساسانی شہنشاہ یزدگرد دوم نے اپنے بیٹے بہرام گور کو تعلیم کے واسطے الحیرہ کے بادشاہ المنذر اول کے دربار بھیجا تھا جہاں وہ تعلیم و شاہی آداب حاصل کرتا رہا۔ 420ء میں ساسانی شہنشاہ یزدگرد دوم کے قتل کے بعد بہرام گور کی تخت تک رسائی میں بھی الحیرہ کے المنذر اول کا ہاتھ تھا۔

ساسانیوں نے الحیرہ سے سیاسی و فوجی اتفاق و اِتحاد بھی کر لیا تھا جس کی مثال 531ء میں ملتی ہے جب المنذر سوم بن النعمان نے ساسانی جرنیل آزارتس کے ہمراہ رومی بازنطینی جرنیل بیلیساریوس کو بمقام الرقہ شام میں 19 اپریل 531ء کو شکست دی۔ یہ جنگ کالینیکوم کے نام سے مشہور ہے۔

527ء میں الحیرہ نے بنو غسان کی مسیحی مملکت کے قیام کی بھرپور مخالفت کی تھی، چونکہ بنو غسان کی مسیحی مملکت کے قیام کو رومی بازنطینی سلطنت اور شام کے عرب قبیلوں کی حمایت حاصل تھی۔ چونکہ ابتدا سے ہی الحیرہ کے آل نصر نے بنو غسان کی مخالفت کی تھی اِس لیے کئی سالوں تک دونوں سلطنتوں کے مابین اختلاف و کشمکش جاری رہا۔

602ء میں ساسانی شہنشاہ کسریٰ خسرو پرویز نے النعمان سوم کی بیٹی سے شادی کرنا چاہی تھی جس سے النعمان سوم نے اِنکار کیا اور کسریٰ خسرو پرویز نے الحیرہ پر فوجی دستے بھیجے اور النعمان سوم کو معزول کر دیا اور قتل کرا دِیا اور سلطنت الحیرہ کو ساسانی سلطنت میں ضم کر دیا گیا۔ الحیرہ کا شاہی خاندان نظر بند کر دیا گیا۔ کسریٰ کے اِس اقدام سے سلطنت الحیرہ کا شاہی وقار خاک میں مل گیا اور پچھلے چار سو سال کا شاہانہ وقار و رُعب ختم ہو کر دہ گیا۔ ساسانیوں کے قبضے کے بعد یہاں ساسانی گورنر مقرر کیا جاتا تھا۔ الحیرہ کا بادشاہ اُس ساسانی گورنر کے ماتحت ہوتا تھا۔ اِس طرح الحیری بادشاہ براہِ راست ساسانی باجگزار بن چکے تھے۔ النعمان سوم کی موت کے بعد 602ء میں ایرانی ساسانی شہنشاہوں نے اپنی بے تدبیری سے لخمی بادشاہوں کا نظام ختم کرکے ساسانی حکام مقرر کرنے کی ابتدا کی تو عرب سرداروں کو اُن کے ماتحت بنا دیا۔ قریب 28، 29 سال تک یہی کیفیت و صورت حال رہی حتیٰ کہ مئی 633ء میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اسلامی لشکر لے کر پہنچ گئے۔

الحیرہ مسلم عہدِ حکومت میں[ترمیم]

الحیرہ کا زوال اور دورِ حاضر میں[ترمیم]

ساسانیوں نے سخت روش اپناتے ہوئے لخمی بادشاہوں کو اپنے ماتحت کرکے وہاں کا سیاسی نظام ابتر کر دیا تھا، علاوہ ازیں ساسانی حکام یعنی گورنروں نے ہمیشہ فارسی عادات کو اپنائے رکھا جس سے اِس شہر کا تمدن بالکل ختم ہو کر رہ گیا اور فارس کی جھلک اِس شہر میں نمایاں ہونے لگی۔ مئی 633ء میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ نے اِس شہر کو فتح کر لیا تو یہ اسلامی مملکت میں شامل ہوا۔ بعد ازاں اِس کی اہمیت ختم ہو گئی اگرچہ ایک عرصے تک یہ شہر موجود تو رہا مگر اِس کا ذکر کہیں کہیں ملتا ہے۔

عباسیوں نے اِس مقام کو اپنی سکونت کے واسطے پسند نہیں کیا اور کوفہ کو روزِ افزوں ترقی نے اِس شہر کو رفتہ رفتہ پسِ پشت ڈال دیا۔ خلیفہ عباسی ہارون الرشید چند روز کے لیے الحیرہ میں مقیم رہا، یہاں عمارات تعمیر کروائیں مگر خلیفہ کے اِس اقدام سے اہل کوفہ کی ناراضی آڑے آئی تو خلیفہ شہر کی اقامت چھوڑ گیا۔ خلیفہ عباسی المقتدر باللہ کے عہدِ میں بدویوں کے حملے سے عراق کے دوسرے مقامات کی طرح الحیرہ کو بھی نقصان پہنچا، یہاں تک کہ عباسی حکومت کو وہاں فوج کا ایک بڑا دستہ بھیجنا پڑا۔

دسیوں صدی عیسوی کے نصفِ آخر تک یہ شہر بہت وسعت کے ساتھ موجود تھا مگر آبادی بہت کم تھی۔ پورے ضلع کے زوال و اِنحطاط کی وجہ کے بعد الحیرہ پر اِس قدر سخت اثر پڑا کہ آخر میں روئے زمیں سے ہی معدوم ہو گیا۔ اب اِس کی جائے وقوع ایک چراگاہ ہے جہاں چند پست ٹیلے اور کھنڈر اور ٹھیکروں کے ڈھیر اِس کے شاندار ماضی کی یاد دِلاتے ہیں۔

الحیرہ کا تذکرہ احادیث میں[ترمیم]

الحیرہ کا تذکرہ کئی احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی آیا ہے اور خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس کا تذکرہ بھی فرمایا ہے۔ حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ جو حیرہ کے مضافاتی علاقہ میں آباد بنو طے کے سردار تھے، سنہ 9 ہجری یعنی 630ء میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوئے تھے، اُنہی سے ایک حدیث روایت ہے جس میں الحیرہ کا ذکر آیا ہے :

محمد بن حکم نے النضر سے اور اُنہوں نے سعد الطائی سے اور اُنہوں نے محل بن خلیفۃ سے اور اُنہوں نے صحابی رسول حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ حضرت عدی بن حاتم روایت کرتے ہیں کہ :

" ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک شخص نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ناقہ کی شکایت کی، دوسرے نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر ڈاکہ زنی کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عدی کیا تم نے الحیرہ دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا : میں نے وہ جگہ نہیں دیکھی لیکن اِس کا محل وقوع مجھے معلوم ہے۔ فرمایا: اگر تمہاری زندگی زیادہ ہوئی تو یقیناً تم دیکھ لو گے کہ ایک بڑھیا عورت الحیرہ سے چل کر کعبہ کا طواف کرے گی۔ خدا کے علاوہ اُس کو کسی کا خوف نہیں ہوگا، میں نے اپنے دِل میں کہا کہ قبیلہ طے کے ڈاکو کدھر جائیں گے جنہوں نے تمام شہروں میں آگ لگا رکھی ہے (محاورہ میں یہاں آگ لگا دینے سے مراد بنو طے کے ڈاکووں کی ڈاکہ زنی ہے)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہاری زندگی زیادہ ہوئی تو یقیناً تم کسریٰ کے خزانوں کو فتح کرلو گے۔ میں نے دریافت کیا : کسریٰ بن ہرمز؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں کسریٰ بن ہرمز۔ اور اگر تمہاری زندگی زیادہ ہوئی تو یقیناً تم دیکھ لو گے کہ ایک شخص مٹھی بھر سونا یا چاندی لے کر نکلے گا اور ایسے آدمی کو تلاش کرے گا جو اُسے لے لے، لیکن اُس کو کوئی نہ ملے گا جو یہ رقم لے لے۔ یقیناً تم میں سے ہر شخص قیامت میں اللہ تعالیٰ سے ملے گا اُس وقت اُس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا جو اُس کی گفتگو کا ترجمہ کرے۔ اللہ تعالیٰ اُس سے فرمائے گا : کیا میں نے تمہارے پاس رسول نہ بھیجا تھا جو تجھے تبلیغ کرتا؟ وہ عرض کرے گا : ہاں، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا میں نے تجھ کو مال و زَر اور فرزند سے نہیں نوازا تھا؟ وہ عرض کرے گا : ہاں، پھر وپ اپنی داہنی جانب دیکھے گا تو دوزخ کے سواء کچھ نہ دیکھے گا۔ حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آگ سے بچو اگرچہ چھوہارے کا ایک ٹکڑا ہی سہی، یہ بھی نہ ہو سکے تو کوئی عمدہ بات کہہ کر ہی سہی۔ عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اُس بڑھیا کو دیکھ لیا کہ اُس نے الحیرہ سے سفر شروع کرکے کعبہ کا طواف کر لیا اور اللہ تعالیٰ کے سواء اُس کو کسی کا ڈر نہیں تھا اور میں اُن لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے کسریٰ بن ہرمز کے خزانے فتح کیے تھے، اگر تم لوگوں کی زندگی زیادہ ہوئی تو جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ایک شخص مٹھی بھر سونا لے کر نکلے گا تو تم یہ بھی دیکھ لو گے۔" [2]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب انسائیکلوپیڈیا آف اسلام: جلد 8، ص 761۔
  2. الامام محمد بن اسمٰعیل بخاری: الصحیح بخاری، انبیا علیہم السلام کا بیان، الرقم الحدیث 817، جلد 2۔ یہ حدیث مرفوع ہے۔