جارج حبش

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
جارج حبش
George Habash.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 2 اگست 1926[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
لد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 26 جنوری 2008 (82 سال)[3][1][2][4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
عمان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات دل کا دورہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Palestine.svg ریاست فلسطین  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان،طبیب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان عربی[5]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر

ریڈیکل فلسطینی تنظیم پوپیولر فرنٹ فار دی لبریشن آف پیالیسٹائن (پی ایف ایل پی) کے بانی .جارج حبش فلسطین کے علاقے لیڈا میں 2 اگست 1926 میں پیدا ہوئے جو اب اس اسرائیل میں ہے اور اسے لود کہا جاتا ہے۔ جب 1948 میں جنگ شروع ہوئی تو انہیں وہ علاقہ چھوڑنا پڑا۔

قوم پرستی[ترمیم]

ان کا تعلق مسیحی مذہب سے تھا لیکن وہ سیکیولر عرب نیشنلزم پر پختہ یقین رکھتے تھے۔ انہوں نے طب کی تعلیم حاصل کی تھی۔ انہوں نے 1951 میں عرب نیشنلسٹ موومنٹ بنائی جو بعد میں دیگر گروہوں کے ساتھ مل کر پی ایف ایل پی بنی۔

تحریک فلسطین[ترمیم]

60 کی دہائی میں پی ایف ایل پی نے اپنے حملوں میں تیزی پیدا کی اور فلسطینی مسئلے کو عالمی طور پر روشناس کرایا۔ پی ایف ایل پی نے شروع ہی سے عرب۔ اسرائیلی امن مذاکرات اور دو ریاستی منصوبے کی مخالفت کی ہے۔ حبش اسرائیل سے مذاکرات کرنے پر اکثر یاسر عرفات پر تنقید کرتے رہتے تھے۔ اپنی ساری زندگی انہوں نے اسرائیل کے خلاف تشدد کے استعمال کی حمایت کی ہے۔ اسرائیل نے کئی سال کوشش کی کہ کسی طرح جارج حبش کو گرفتار کرے۔ لیکن اسے اس میں ناکامی ہوئی۔

عسکری جدوجہد[ترمیم]

حبش کی سربراہی میں پی ایف ایل پی ایک انتہائی شدت پسند گروپ کے طور پر ابھری تھی جس ننے کئی مرتبہ جہاز ہائی جیک کیے تھے۔ ستمبر 1970 میں اس گروہ نے چار جہاز ہائی جیک کیے اور پھر مسافروں کو نکالنے کے بعد پوری دنیا کے ذرائع ابلاغ کے سامنے ان جہازوں کو بموں سے اڑا دیا تھا۔ گروپ نے ایک اسرائیلی جہاز اور اس کے عملے پر بھی فائرنگ کی، بم چلائے اور ایک مرتبہ تو ویانا میں تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کے ارکان کو ایک میٹنگ میں یرغمال بنا لیا تھا۔ 80 سال کی عمر میں 26 جنوری 2008 کو دل کا دورہ پڑنے سے لبنان میں انتقال کر گئے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 اجازت نامہ: سی سی زیرو نقص حوالہ: نادرست <ref> ٹیگ؛ نام "e3f7e60fd57a19a620f403bcf0bc3c7519ed92fc" مختلف مواد کے ساتھ کئی بار استعمال ہوا ہے۔
  2. ^ 2.0 2.1 http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb156339492 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. http://news.bbc.co.uk/1/hi/world/middle_east/7211395.stm
  4. دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/George-Habash — بنام: George Habash — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  5. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb156339492 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ