جلال بایار

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
عزت مآب
جلال بایار
Celal Bayar (cropped).jpg
3rd President of Turkey
عہدہ سنبھالا
22 May 1950 – 27 May 1960
وزیر اعظم عدنان میندریس
پیشرو عصمت انونو
جانشین جمال گورسل
3rd وزیر اعظم ترکی
عہدہ سنبھالا
25 October 1937 – 25 January 1939
صدر مصطفٰی کمال اتاترک
عصمت انونو
پیشرو عصمت انونو
جانشین Refik Saydam
Leader of the Democratic Party
عہدہ سنبھالا
7 June 1946 – 9 June 1950
پیشرو Position established
جانشین عدنان میندریس
ذاتی تفصیلات
پیدائش 16 مئی 1883(1883-05-16)
گملیک، سلطنت عثمانیہ
وفات 22 اگست 1986(1986-80-22) (عمر  103 سال)
استنبول، ترکی
قومیت Turkish
سیاسی جماعت Democratic Party (1946–1961)
ریپبلکن پیپلز پارٹی (1923–1945)
جمعیت اتحاد و ترقی (1908–1922)
شریک حیات Reşide Bayar (1886–1962)
مذہب اہل سنت
دستخط

ترکی کے ایک سیاست دان 1921ء سے 1937ء تک مختلف وزارتوں پر فائز رہے۔ 1923ء میں ترکی اور یونان کے مابین تبادلہ آبادی ہوا تو اس کے نگران تھے۔ 1937ء میں وزیر اعظم بنے۔ 1938ء میں کمال اتاترک کا انتقال ہوا تو استعفیٰ دے دیا۔ 1946ء میں عدنان میندریس کے ساتھ مل کر ڈیموکریٹک پارٹی کی بنیاد رکھی۔ 1950ء کے انتخابات میں ان کی جماعت نے کامیابی حاصل کی تو عصمت انونو کی جگہ ترکی کے صدر منتخب ہوئے۔

وہ ترکی کے پہلے غیر فوجی صدر تھے جو 1950ء کے انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی کامیابی کے بعد صدر مقرر ہوئے۔ ان کا پورا نام محمود جلال بایار تھا۔ وہ ولایت بروصہ کے ایک گاؤں عمر میں 15 مئی 1883ء کو پیدا ہوئے۔ قیام جمہوریہ سے قبل وہ زراعتی بینک اور جرمن بینک سے وابستہ تھے۔ 1919ء میں وہ عثمانی پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے اور 12 جنوری 1920ء کو عثمانی پارلیمنٹ کے آخری اجلاس میں شریک ہوئے۔ وہ اتحاد و ترقی کی ازمیر کی شاخ کے سیکرٹری بھی تھے۔ اس کے بعد اناطولیہ چلے گئے اور قومی تحریک میں شریک ہو گئے۔ لوزان کانفرنس میں جلال بایار ترکی وفد کے مشیر تھے۔ 1921ء میں وزیر اقتصادیات ہو گئے۔ اس زمانے میں انہوں نے ترکی میں بنکاری کو ترقی دینے کے سلسلے میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ 1923ء میں جلال بایار ازمیر سے مجلس کبیر ملی کے رکن منتخب ہوئے۔ مصطفی کمال کے آخری دنوں میں 1937ء میں ترکی کے وزیر اعظم ہوئے لیکن کمال اتاترک کے انتقال کے بعد جب عصمت انونو صدر ہوئے تو ان سے اختلاف کی وجہ سے 25 جنوری 1939ء کو وزارت عظمیٰ سے مستعفی ہو گئے بعد میں انہوں نے سرکاری جمہور خلق پارٹی سے بھی علیحدگی اختیار کرلی اور عدنان میندریس اور دوسرے ساتھیوں کے ساتھ مل کر 1946ء میں ڈیموکریٹک پارٹی کی بنیاد ڈالی۔

1950ء کے انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی کامیابی کے بعد 22 مئی 1950ء کو وہ ترکی کے صدر منتخب ہو گئے۔ اس منصب پر وہ 27 مئی 1961ء کے جمال گورسل کی زیر قیادت فوجی انقلاب تک فائز رہے۔ فوجی حکومت نے جب مقدمہ چلا کر عدنان میندریس کو پھانسی دی تو جلال بایار کو بھی سزائے موت سنائی گئی جو ان کی ضعیف العمری کی وجہ سے سزائے قید میں تبدیل کردی گئی۔ پارلیمانی زندگی کی بحالی کے بعد ان کی سزا ختم کردی گئی اور وہ گوشہ نشینی کی زندگی گذارنے لگے۔ انہوں سے اس زمانے میں اپنی زندگی کی سرگزشت لکھی۔ یہ سرگزشت 1967ء اور 1973ء کے درمیان 8 جلدوں پر مشتمل ضخیم کتاب کی شکل میں شائع ہوچکی ہے۔ کتاب کا نام Ben de Yazdim (میں نے بھی لکھا) ہے اور دو ہزار 800 صفحات پر مشتمل ہے۔ جلال بایار محنتی، مستعد، حلیم الطبع اور نیک دل انسان تھے۔

1966ء میں انہیں معافی دے دی گئی اور 1974ء میں مکمل سیاسی حقوق بحال کر دیے گئے لیکن انہوں نے سینیٹ کی تاحیات رکنیت قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ وہ 22 اگست 1986ء کو استنبول میں انتقال کر گئے۔

متعلقہ مضامین[ترمیم]