عصمت انونو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
عصمت انونو

عصمت انونو جمہوریہ ترکی کے بانی کمال اتاترک کے بعد ملک کے دوسرے صدر تھے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

عصمت انونو 24 ستمبر 1884ء کو ازمیر میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام مصطفیٰ عصمت تھا۔ فوجی مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1906ء میں یوز باشی (کپتان) کی حیثیت سے فوج میں شامل ہوئے۔ بلقان کی جنگ میں حصہ لیا اور پہلی عالمی جنگ میں قفقاز، فلسطین اور شام کے محاذوں پر خدمات انجام دیں۔ جنگ بندی کے بعد استنبول آگئے اور وزارت جنگ میں متشار (کونسلر) ہوگئے۔ استنبول پر اتحادی قبضہ تک وہ اسی عہدے پر فائز رہے۔ اس کے بعد اناطولیہ پہنچ کر جنگ آزادی میں شرکت کی۔ ان کو مغربی محاذ کی کمان سپرد ہوئی۔ انہوں نے ایسکی شہر کے شمال مغرب میں انونو کے مقام پر 10 جنوری 1921ء اور یکم اپریل 1921ء کو یونانیوں کو دو مرتبہ شکست دی۔ ترکی میں خاندانی نام اختیار کرنے کے قانون کے بعد انہوں نے اسی مقام کی نسبت سے انونو کا نام اختیار کیا۔

سیاسی زندگی[ترمیم]

عصمت اور اتاترک

جنگ بندی کے بعد وہ وزیر خارجہ ہو گئے اور لوزان کانفرنس میں ترکی وفد کی قیادت کی۔ لوزان سے واپسی کے بعد 30 اکتوبر 1923ء کو وہ ترکی کے پہلے وزیر اعظم مقرر ہوئے اور یکم نومبر 1937ء تک پورے 14 سال اس عہدے پر فائز رہے۔ اتاترک کے انتقال کے دوسرے دن 11 نومبر 1937ء کو وہ ترکی کے صدر منتخب ہوئے اور 14 مئی 1950ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔ اس کے بعد 10 سال تک انہوں نے ترکی پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کے قائد کی حیثیت سے فرائض انجام دیے۔ فوجی انقلاب کے بعد جب مخلوط حکومت قائم ہوئی تو عصمت انونو 20 نومبر 1961ء سے 13 فروری 1965ء تک دوبار وزیر اعظم رہے۔ اس کے بعد پھر حزب اختلاف میں چلے گئے۔ 25 ستمبر 1973ء کو انقرہ میں ان کا انتقال ہو گیا۔

اہم سیاسی واقعات[ترمیم]

عصمت انونو کے ساڑھے بارہ سالہ دور صدارت میں کئی اہم واقعات پیش آئے۔

انطاکیہ کا مسئلہ[ترمیم]

جنگ عظیم کے بعد شام کے علاقے پر فرانسیسی حکومت قائم ہو گئی تھی۔ اسکندرون اور انطاکیہ کے ساحلی اضلاع اس وقت شام میں شامل تھے لیکن ترکوں کا دعویٰ تھا کہ یہ ترکی کے علاقے ہیں۔ یہاں کی آبادی ترکوں، عربوں اور ارمنی باشندوں پر مشتمل تھی۔ لیکن ترکوں کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔ شام بھی ان اضلاع کا دعویدار تھا۔ اس اختلاف کی وجہ سے انطاکیہ اور اسکندرون کے علاقوں میں مئی 1937ء میں ایک نیم خود مختار حکومت قائم کردی گئی تھی۔ اس حکومت کی منتخبہ مجلس کے 40 میں سے 22 ارکان ترک تھے۔ اس مجلس نے اتفاق رائے سے ترکی سے الحاق کا فیصلہ کیا اور 23 جولائی 1939ء کو یہ دونوں اضلاع ترکی میں شامل ہو گئے۔ انطاکیہ کا نام بدل کر حطائے (Hatay) کر دیا گیا لیکن یہ آج بھی انطاکیہ کے نام سے ہی مشہور ہے۔

جلاوطن رہنماؤں کی واپسی[ترمیم]

عصمت انونو کے دور کا دوسرا اہم واقعہ ان جلا وطن رہنماؤں کی واپسی ہے جن کو کمال اتاترک نے ملک بدر کردیا تھا۔ پابندی اٹھنے کے بعد یہ رہنما جن میں ڈاکٹر عدنان آدیوار، خالدہ ادیب خانم اور رؤف بے شامل تھے، اپنے وطن واپس آگئے۔

دوسری عالمی جنگ[ترمیم]

  • تفصیلی مضمون کے لئے ملاحظہ کریں:

دوسری عالمی جنگ (1939ء تا 1945ء) بھی عصمت انونو کے زمانۂ صدارت میں ہوئی۔ اس جنگ میں ترکی مصطفیٰ کمال کی "اندر امن اور باہر امن" کی خارجہ پالیسی پر چلتے ہوئے انتہائی ناسازگار حالات کے باوجود غیر جانبدار رہا جس کی وجہ سے وہ جنگ کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہا۔ ترکی نے اس معاملے میں دونوں فریقوں کے دباؤ کا مقابلہ کیا۔ اور جرمنی کے خلاف 23 فروری 1945ء کو صرف اس وقت جنگ کرنے کا اعلان کیا جب اتحادیوں نے یہ اعلان کیا کہ اقوام متحدہ میں صرف ان ملکوں کو مدعو کیا جائے گا جو جرمنی سے بر سر جنگ ہوں گے۔ اس وقت تک جرمنی بھی جنگ ہار چکا تھا۔ جنگ کے بعد روس نے ترکی کے شمال مشرقی اضلاع قرص اور اردھان پر دعویٰ کردیا۔ حالانکہ 16 مارچ 1921ء کو ترکی سے ایک معاہدے کے تحت وہ ان علاقوں سے دستبردار ہو چکا تھا۔ اور ترکی روسی جارجیا کے شہر باطوم سے، جس پر کاظم قرہ بکر پاشا کی فوجوں نے قبضہ کرلیا تھا، دستبردار ہوگیا تھا۔ لیکن جنگ کے بعد وہ اپنے عہد نامے سے پھر گیا۔ اس نے صرف قرص اور اردھان کی واپسی کا ہی مطالبہ نہیں کیا بلکہ باسفورس اور در دانیال کے دفاع میں بھی روس کو شریک کرنے کا مطالبہ کیا۔ روس کے اس طرز عمل کی وجہ سے ترکی کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو گیا اور روس کے مقابلے میں اپنا دفاع کرنے کے لیے ترکی کو امریکہ سے فوجی امداد حاصل کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔

اسرائیل کو تسلیم کرنا[ترمیم]

عصمت انونو کے دور کی خارجہ پالیسی کا ایک افسوسناک واقعہ 28 مارچ 1949ء کو اسرائیل کی یہودی مملکت کو ترکی کی طرف سے تسلیم کیا جانا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ روس کے بڑھتے ہوئے دباؤ کی وجہ سے ترکی اپنے دفاع کے لیے مغربی ملکوں کا زیادہ سے زیادہ محتاج ہوتا جارہا تھا۔ ترکی نے اسرائیل کو از روئے قانون نہیں بلکہ حقیقت امر کے طور پر تسلیم کیا۔ ترکوں کے اس فیصلے سے عربوں اور ترکوں کے تعلقات میں، جو معلومات پر آتے جارہے تھے، ایک بار پھر کشیدگی پیدا ہو گئی۔

زرعی اصلاحات[ترمیم]

عصمت انونو کے عہد ایک کارنامہ زرعی اصلاحات کا نفاذ ہے جس پر 1945ء سے عملدرآمد شروع ہوا۔ ان اصلاحات کے تحت بڑی بڑی زمینداریاں معاوضہ دے کر ختم کی گئیں اور فاضل زمین چھوٹے کاشت کاروں میں تقسیم کی گئیں۔ ان اصلاحات کی وجہ سے دیہی علاقوں میں خوشحالی پیدا ہوئی۔

حقیقی جمہوریت کی بحالی[ترمیم]

ان کے دور صدارت کا اہم ترین واقعہ حقیقی جمہوریت کی بحالی ہے۔ کمال اتاترک کے زمانے میں اگرچہ ترکی کا سیاسی ڈھانچہ بنیادی طور پر جمہوری تھا لیکن کمال اتاترک نے حکومت آمرانہ انداز سے کی ملک میں اس تمام عرصے میں صرف ایک ہی سیاسی جماعت کام کرسکتی تھی اور وہ سرکاری خلق فرقہ سی یعنی خلق پارٹی تھی جسے انگریزی میں پیپلز پارٹی کہا جاتا ہے۔ عصمت کے دور میں ملک میں ایک سے زیادہ سیاسی جماعتیں قائم کرنے کی اجازت دی گئی چنانچہ ترکی میں کئی سیاسی جماعتیں قائم ہوگئیں۔ ان میں ڈیموکریٹک پارٹی سب سے اہم تھی۔

مخالفین کا نقطۂ نظر[ترمیم]

عصمت انونو نظریاتی طور پر اتاترک کے اصولوں کے بہت بڑے علمبردار تھے لیکن ان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے دور صدارت میں استبدادی انداز کا مظاہرہ کیا، سوشلسٹ عناصر کی حوصلہ افزائی کی اور ترکی میں اسلامی رحجانات کو ابھرنے سے روکا۔ وہ اتاترک کے دور کی خامیوں کا غلطیوں کا ذمہ دار بھی عصمت انونو کو قرار دیتے ہیں جو اتاترک کے پورے دور میں وزیراعظم کے منصب پر فائز رہے۔

متعلقہ مضامین[ترمیم]