بلند ایجوت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بلند ایجوت
(ترکی میں: Mustafa Bülent Ecevit خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Bülent Ecevit-Davos 2000 cropped.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 28 مئی 1925[1][2][3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
استنبول[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 5 نومبر 2006 (81 سال)[4][2][3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
انقرہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات دماغی جریان خون  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Turkey.svg ترکی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مناصب
وزیر اعظم ترکی   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
مدتِ منصب
26 جنوری 1974  – 17 نومبر 1974 
وزیر اعظم ترکی   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
مدتِ منصب
21 جون 1977  – 21 جولا‎ئی 1977 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png سلیمان دیمیرل 
سلیمان دیمیرل  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
وزیر اعظم ترکی   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
مدتِ منصب
5 جنوری 1978  – 12 نومبر 1979 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png سلیمان دیمیرل 
سلیمان دیمیرل  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
وزیر اعظم ترکی   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
مدتِ منصب
11 جنوری 1999  – 18 نومبر 2002 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png  
عبد اللہ گل  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
عملی زندگی
مادر علمی اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹڈیز، یونیورسٹی آف لندن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سیاست دان،مصنف،شاعر،مترجم،صحافی،سفیر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان ترک زبان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
دستخط
Bülent Ecevit signature.png 
بلند ایجوت

بلند ایجوت ترکی کے سابق وزیراعظمہیں۔ چالیس کے سیاسی کیریئر میں پانچ بار ترکی کے وزیر اعظم بنے۔ انہیں سن دو ہزار دو میں اس وقت اقتدار سے الگ کیا گیا جب انہوں نے صحت کی خرابی کی بنیاد پر مستعفی ہونے سے انکار کر دیا۔ ان کو اس وقت ترکی میں اقتصادی مشکلات کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔

ایجوت نے 1974ء میں قبرص میں ترک اقلیت کے تحفظ کے لیے جزیرے پر حملے کا حکم دیا تھا جس کے بعد ہونے والی قبرص کی تقسیم آج بھی قائم ہے۔ ایجوت نے ترکی کو یورپی یونین کی رکنیت اور مغرب کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ایجوت سوشلسٹ تھے اور انہوں ملک میں مذہبی جماعتوں کی سخت مخالفت کی۔ انہوں نے 1974ء میں ترکی میں پہلے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم کی حیثیت سے عہدہ سنبھالا لیکن اپنے سماجی جمہوری نظریات کے باوجود وہ انتہائی قوم پرست رہے۔ قبرص پر حملے کے بعد ترکی میں انہیں ہیرو کا درجہ مِل گیا لیکن سال ختم ہونے سے پہلے ان کی مخلوط حکومت ٹوٹ گئی اور وہ اقتدار سے ہٹ گئے۔

1980ء کی دہائی میں فوجی بغاوت کے بعد انہیں قید میں بھی رکھا گیا۔ ان کے خلاف دس سال تک سیاست میں حصہ لینے پر پابندی رہی جس دوران انہوں نے ایک اعتدال پسند بزرگ سیاست داں کی شہرت حاصل کر لی۔ انیس سو نناوے میں ان کے دورِ اقتدار میں ترکی کو یورپی یونین کی رکنیت کے امیدوار کے طور پر تسلیم کر لیا گیا۔

2002ء میں ترکی میں کرنسی کی قیمت میں کمی کے بعد حالات اتنے خراب ہو گئے کہ معیشت کو بچانے کے لیے آئی ایم ایف کی مدد حاصل کرنا پڑی۔ بلند ایجوت نے انتخابات میں ناکامی کے بعد سن دو ہزار چار میں فعال سیاست سے علیحدگی اختیار کر لی۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب مدیر: الیکزینڈر پروکورو — عنوان : Большая советская энциклопедия — اشاعت سوم — باب: Эджевит Бюлент — ناشر: Great Russian Entsiklopedia, JSC
  2. ^ ا ب دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Bulent-Ecevit — بنام: Bulent Ecevit — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  3. ^ ا ب فائنڈ اے گریو میموریل شناخت کنندہ: https://www.findagrave.com/cgi-bin/fg.cgi?page=gr&GRid=16479207 — بنام: Bulent Ecevit — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. http://news.bbc.co.uk/1/hi/world/europe/6119590.stm