حسن طارق

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حسن طارق
Actress Rani and Director Hassan Tariq 1959.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 1927ء
امرتسر  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات اپریل 24، 1982(1982-04-24)ء
لاہور  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قومیت Flag of پاکستانپاکستانی
عملی زندگی
پیشہ فلم ہدایت کار  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ شہرت فلمی ہدایت کار
کارہائے نمایاں
اعزازات
نگار ایوارڈ
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  ویکی ڈیٹا پر آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

حسن طارق (پیدائش: 1927ء - وفات: 24 اپریل، 1982ء) پاکستانی فلمی صنعت کے ممتاز ہدایت کار تھے جنہوں نے پاکستان کی مشہور فلموں امراؤ جان ادا، دیور بھابھی اور انجمن کی ہدایات دیں۔

حالات زندگی و فن[ترمیم]

حسن طارق 1927ء کو امرتسر، صوبہ پنجاب (برطانوی ہند) میں پیدا ہوئے[1][2]۔ انہوں نے اپنی فلمی کیریئر کا آغاز ہدایت کار جعفر ملک کی فلم سات لاکھ (فلم) سے بطور معاون ہدایت کار کیا۔ اگلے برس بطور ہدایت کار ان کی پہلی فلم نیند ریلیز ہوئی، جس نے بطور ہدایت کار ان کے نام کو بڑا مستحکم کیا۔ اس فلم کی کامیابی کے بعد حسن طارق نے 40 سے زائد فلموں کی ہدایات دیں جن میں سے بیشتر پاکستان کی فلمی صنعت کی یادگار فلموں میں شمار ہوتی ہیں۔ بنجارن، شکوہ، قتل کے بعد، کنیز، مجبور، دیور بھابی، بہن بھائی، میرا گھر میری جنت، ماں بیٹا، پاک دامن، انجمن، وحشی، تہذیب، امراؤ جان ادا، پیاسا، بہشت، ثریا بھوپالی، اک گناہ اور سہی،بیگم جان، سنگدل اور سیتا مریم مارگریٹ ان کی چند ایسی ہی فلموں کے نام ہیں۔[1]

بحیثیت ہدایت کار مشہور فلمیں[ترمیم]

اعزازات[ترمیم]

حسن طارق کو 1968ء میں بہن بھائی، 1970ء انجمن اور 1982ء میں سنگدل پر بہترین ہدایت کار کے نگار ایوارڈ کے اعزاز سے نوازا گیا۔[1]

ازواجی زندگی[ترمیم]

حسن طارق نے خاندان میں اپنی پہلی شادی کے علاوہ انہوں نے اداکارہ نکہت سلطانہ ، مشہور رقاصہ ایمی مینوالا اور مشہور اداکارہ رانی سے شادی کی تھی۔[1]

وفات[ترمیم]

حسن طارق 24 اپریل، 1982ء کو لاہور، پاکستان میں وفات پاگئے۔ وہ لاہور میں گلبرگ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔[2][1]

حوالہ جات[ترمیم]