خان محمد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

پاکستانی ٹیسٹ کرکٹر۔پاکستان کی طرف سے پہلی گیند پھینکنے اور پہلی وکٹ حاصل کرنے کے منفرد اعزاز کے مالک فاسٹ بولر۔

خان محمد
پاکستان.svg.png پاکستان
ذاتی معلومات
اصل نام خان محمد
تاریخ پیدائش 1 جنوری 1928ء (عمر 89سال)
لاہور, پاکستان
کردار باؤلر
طریقہ بلےبازی دائيں ہاتھ سے
طریقہ گیندبازی دائيں فاسٹ میڈیم
بین الاقوامی کرکٹ
پہلا ٹیسٹ (کیپ 8) 16 اکتوبر 1952: بمقابلہ بھارت
آخری ٹیسٹ 26 مارچ 1958: بمقابلہ ویسٹ انڈیز
بین الا قوامی کرکٹ شماریات
فرسٹ کلاس ٹيسٹ
کل میچ 54 13
کل دوڑیں 544 100
اوسط بلے بازی 11،57 10،00
50/100 0 / 1 0/ 0
بہترین اسکور 93 *26
کل گیند کرائے 10496 3157
وکٹ 214 54
اوسط گیند بازی 23،22 23،92
5 وکٹ 16 4
10 وکٹ 1 0
بہترین گیند بازی 7/56 6/21
کیچ/سٹمپ 20 / -- 4 /--

آخری ترمیم 16 مارچ, 2012
حوالہ: [1]

کرکٹ[ترمیم]

خان محمد نے تقسیم ہند سے قبل رانجی ٹرافی میں شمالی ہندوستان کی ٹیم کی نمائندگی کی لیکن پاکستان بننے کے بعد وہ نئی پہچان کے ساتھ سامنے آئے۔49-1948ء میں سیلون کے دورے میں کھیلے گئے دو غیرسرکاری ٹیسٹ میچوں میں انہوں نے چودہ وکٹیں حاصل کیں اور جب 52-1951ء میں ایم سی سی پاکستان آئی تو لاہور کے غیرسرکاری ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں انہوں نے پانچ وکٹیں حاصل کیں۔کراچی جمخانہ میں کھیلے گئے دوسرے غیرسرکاری ٹیسٹ میں پاکستان نے ایم سی سی کو شکست دے کر ٹیسٹ رکنیت حاصل کی اس میچ کی دوسری اننگز میں خان محمد کی پانچ وکٹیں شامل تھیں۔یہ وہ دور تھا جب خان محمد کی فضل محمود کے ساتھ جوڑی حریف بیٹسمینوں کو خطرے کا پیغام دے چکی تھی۔

دورہ بھارت[ترمیم]

پاکستانی کرکٹ ٹیم نے اپنا اولین ٹیسٹ 53-1952 میں بھارت کے خلاف دہلی میں کھیلا۔ خان محمد کو پاکستان کی طرف سے پہلا اوور کرانے کا اعزاز حاصل ہوا اور یہ منفرد اعزاز بھی انہی کے حصے میں آیا جب انہوں نے پنکج رائے کو آؤٹ کرکے پاکستان کی پہلی ٹیسٹ وکٹ حاصل کی لیکن فٹنس مسائل کے سبب وہ سیریز کے بقیہ میچز سے باہر ہوگئے۔

مزید کامیابیاں[ترمیم]

1954کے لارڈز ٹیسٹ میں فضل محمود اور خان محمد نے کسی تیسرے بولر کی مدد کے بغیر انگلینڈ کو صرف ایک سو سترہ رنز پر آؤٹ کردیا۔ خان محمد نے پانچ وکٹیں حاصل کیں جن میں سر لین ہٹن کو صفر پر بولڈ کرنا بھی شامل تھا۔1954-55ءمیں بھارت کے خلاف ہوم سیریز میں وہ 22 وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب بولر رہے۔56-1957ءمیں آسٹریلیا کے خلاف کراچی ٹیسٹ میں ایک بار پھر فضل محمود اور خان محمد نے ہی پوری ٹیم کو آؤٹ کردیا جس میں فضل محمود کی چھ اور خان محمد کی چار وکٹیں شامل تھیں۔

ٹیسٹ کیرئیر[ترمیم]

خان محمد نے13 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے54 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی بہترین بولنگ21 رنز کے عوض6 وکٹیں 56-1955ءمیں نیوزی لینڈ کے خلاف ڈھاکہ میں رہی۔

آخری ٹیسٹ[ترمیم]

58-1957ءمیں ویسٹ انڈیز کے خلاف پورٹ آف اسپین ٹیسٹ خان محمد کا آخری ٹیسٹ ثابت ہوا۔اس سے قبل کنگسٹن ٹیسٹ میں انہیں سرگیری سوبرز کی ٹرپل سنچری کا سامنا کرنا پڑا اس اننگز میں خان محمد نے259 رنز دیے جو ٹیسٹ کرکٹ میں کسی بھی بولر کی چوتھی مہنگی ترین کارکردگی ہے۔ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد خان محمد نے کوچنگ کو اپنالی۔

انتقال[ترمیم]

سرطان میں مبتلا رہنے کے بعد جولائی 2009 میں لندن میں اکیاسی سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔