راجن پور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
راجن پور
Rajanpur
شہر
ملک پاکستان
صوبہ پنجاب
ضلع ضلع راجن پور
قدیم شہر کا قیام 1770 کی دہائی
منطقۂ وقت پاکستان کا معیاری وقت (یو ٹی سی+5)
 • گرما (د ب و) +6 (یو ٹی سی)
رموز ڈاک 33500
ڈائلنگ کوڈ 604[1]
مخفف RJP
نام آبادی راجن پوری
ویب سائٹ http://www.tmarajanpur.com/

راجن پور پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع راجن پور کا صدر مقام ہے۔

راجن پور کی بنیاد[ترمیم]

راجن پور کی بنیاد مخدوم راجن شاه نے 1731-1733ء میں رکھی۔ ابتدا میں راجن پور کا تحصیل ہیڈکواٹر کوٹ مٹھن تھا جبکہ اس کا ضلعی ہیڈکواٹر ڈیره غازی خان تھا۔

راجن پور تحصیل[ترمیم]

1862ء میں کوٹ مٹھن سیلاب برد ہوا تو راجن پور کو عارضی طور پر تحصیل کا درجہ ملا۔ بعد ازاں 1871ء میں اسے مستقل تحصیل کا درجہ دے دیا گیا۔

راجن پور ضلع[ترمیم]

۱۹۸۲ میں راجن پور کو ضلع کا درجہ حاصل ہوا۔

شہید بینظیر پل[ترمیم]

شہید بینظیر پل ایک پختہ اور طویل پُل ہے جس کا پوا نام شہید بےنظیر بھٹوپل ہے۔(انگریزی میں:Shaheed Benazeer Bhuto Bridge مخخف SBBB) یہ کوٹ مٹھن ضلع راجن پورپنجاب کی حدورمیں واقع ہے۔یہ پل ضلع راجن پور اور ضلع رحیم یار خان کوآپس میں ملائے گی۔اس پُل کی کل لمبائی1.20کلومیٹر میں ہے۔ یہ لمبائی اس پل کو پاکستان کی سب سے طویل پلوں میں سےایک بناتی ہے جو دریا سندھ پر واقع ہیں۔اس پل کی تعمیر کا باقاعدہ سنگ بنیاد سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے 2012 میں رکھا۔اس پل کی تعمیر ایف ڈبلیو او نے کی جسے پاکستان نیشنل ہائی وے نے سپانسر کیا۔اس پل کے ستونوں کی کل تعدار52ہے۔اس پل کو مئی 2015 میں مکمل کر لیا گیا۔یہ پل کوٹ مٹھن شریف سے آٹھ کلو میٹر کے فاصلے پرمشرق میں ہے جبکہ چاچڑاں شریف سے ایک کلو میٹر کی دوری پر مغرب میں ہے اس پل کی لاگت 928 ملین روپےہے۔اس پل کی تعمیر اس میگا پروجیکٹ کا حصہ ہے جسے شہیدبے نظیربھٹوپل پروجیکٹ کہا جاتاہے اس پروجیکٹ کی پانچ فیز ہیں دیگر فیزز پر کام کچھوے کی چال سے ہو رہا ہے۔ اس پل کی تعمیر سے ضلع راجن پور اور ضلع راحیم یار خان کے تیس لاکھ سے زائدآبادی کے آپسی رابطوں میں تیزی آئے گی۔وسیع تناظر میں دیکھا جائے ڈویژن ڈیره غازیخان اور ڈویژن راحیم یار خان کی ایک کروڑ کی آبادی اس پل سے مستفید ہو گی۔ ان کے بیچ تین سو کلو میٹر سے زائد کا فاصلہ مختصر ہو جائے گا۔ان دونوں ڈویژن کی منڈیاں میسر ہونگی۔اور خطہ میں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہو جائے گا۔علاوه ازیں ڈیره غازی خان ڈویژن کے طالب علموں کورحیم یار خان کے میڈیکل کالج میں داخلے کاامکان پیدا ہو جائے گا ــ [2]

سیلاب[ترمیم]

ضلع راجن پور کا بیشتر حصہ ہر سال سیلاب سے متاثر ہوتا ہے یہ سیلاب دریائے سندھ اور رودھ کوہیمیں آتے ہیں بسا اوقات یہ سیلاب شہری علاقوں کو بھی متاثر کرتے ہیں.

غیرآبادعلاقہ[ترمیم]

راجن پور کا بڑا علاقہ غیر آباد اور ویران ہے اسےپچادھکہا جاتا ہے.اس علاقہ میں پانی کی شدید کمی ہے اور رقبے ویران پڑے ہوئے ہیں پانی کی عدم فروانی کے سبب خال خال آبادی ہے اس پانی کا واحد زریعہ بارش ہے.بارشی پانی کو نشیب میں نشیب میں جمع کر کیا جاتا ہے جسےٹوبہکہتے ہیں اس ٹوبے سے انسان اور جانور سبھی پانی پیتے ہیں.قابل ذکر بات یہ ہے کہضلع راجن پور کا مشرقی حصہ سیلاب سے ڈوبتا ہے جبکہ مغربی حصہ قحط کاشکار رہتا ہے.بقول شاکر ترجمہ: پانی کی وجہ سے ہم دو مارے گئے. تمہیں سیلاب نے ڈبویا ہے مجھے پیاس نے مارا ہے