ربیع المدخلی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ربیع بن ہادی بن عمیر المدخلی
پیدائش 1931ء
سعودی عرب
قومیت سعودی عرب
نسل عرب
دور عصر حاضر
پیشہ وظیفہ یاب؛ سابقہ یونیورسٹی پروفیسر
مذہب اسلام
فرقہ اہل سنت
فقہ حنبلی
مکتب فکر اثری
تحریک سلفی
شعبۂ عمل علم اسماء الرجال
اہم نظریات مدخلیت
مادر علمی جامعہ اسلامیہ، مدینہ منورہ

ربیع بن ہادی عمیر المدخلی (پیدائش: 1932ء) جامعہ اسلامیہ، مدینہ منورہ کے سابق صدر شعبہ مطالعات سنہ اور معروف سلفی تحریک مدخلیت کے بانی ہیں، ان کا شمار سلفیت کے شدت پسند مفکرین میں ہوتا ہے۔[1][2][3]

زندگی[ترمیم]

پیدائش[ترمیم]

سعودی عرب کے ایک قصبہ جرادیہ میں 1932ء میں ربیع المدخلی کی پیدائش ہوئی۔

تعلیم[ترمیم]

1961ء میں سیکنڈری تعلیم سے فارغ ہو کر سعودی عرب کے دار الحکومت ریاض میں واقع جامعۃ الامام محمد بن سعود کے کلیۃ الشریعہ میں داخل ہوئے، کچھ عرصہ یہاں گزرا۔ اسی اثناء میں جامعہ اسلامیہ، مدینہ منورہ کا قیام عمل میں آیا، تو ربیع المدخلی مدینہ منورہ منتقل ہو گئے اور جامعہ اسلامیہ کے کلیۃ الشریعہ میں داخلہ لیا۔ جامعہ اسلامیہ میں انھوں نے عبد العزیز بن باز، محمد ناصر الدین البانی، عبد المحسن العباد، محمد امین الشنقیطی، صالح العراقی اور عبد الغفار حسن الہندی وغیرہ سے شرف تلمذ حاصل کیا، چار سال یہاں تعلیم حاصل کی اور 1964ء میں جامعہ سے فراغت حاصل کی۔[4]

فراغت کے بعد[ترمیم]

جامعہ اسلامیہ سے فراغت کے بعد ربیع المدخلی جامعہ اسلامیہ ہی کے معہد میں مدرس مقرر ہو گئے، ایک عرصہ وہیں تدریسی خدمات انجام دیں، اس کے بعد جامعہ میں اپنی اعلیٰ تعلیم کا آغاز کیا، 1977ء میں جامعہ ملک عبد العزیز سے بین الامامین مسلم و الدارقطنی کے موضوع پر ایم اے کی ڈگری حاصل کی، پھر 1980ء میں اسی جامعہ سے ابن حجر عسقلانی کی کتاب النكت على كتاب ابن الصلاح پر تحقیق کی اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ڈاکٹریٹ مکمل کرنے کے بعد واپس جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ آئے اور یہاں کلیۃ الحدیث الشریف میں مدرس مقرر ہو گئے، جہاں بعد میں وہ شعبہ سنہ کے صدر بھی بنے اور 1990ء کی وسط دہائی تک اس عہدہ پر فائز رہنے کے بعد وظیفہ یاب ہوئے۔[5]

تصنیفات[ترمیم]

المدخلی کی منتخب تصنیفات

ربیع المدخلی نے حدیث اور اسلامی علوم کے موضوع پر تیس سے زائد کتابیں تصنیف کی ہیں، جن میں سے اکثر کتابیں پندرہ جلدوں پر مشتمل ایک کتاب میں یکجا شائع کیا گیا ہے۔[6] 1984ء میں جس کتاب کے ذریعہ انھیں سعودی عرب میں شہرت ملی وہ منہاج الانبیاء في الدعوة الى الله (دعوت الی اللہ کا انبیائی طریقہ کار) تھی، اس کتاب میں مدخلی نے اخوان المسلمون اور دعوت کے میدان میں ان کے طریقہ ہائے کار پر تنقید کی تھی جس کی وجہ سے تنازع بھی پیدا ہوا۔[7]

فہرست[ترمیم]

  • بين الإمامين مسلم والدارقطني " مجلد كبير وهو رسالة الماجستير۔
  • النكت على كتاب ابن الصلاح " مطبوع في جزئين وهو رسالة الدكتوراه .
  • تحقيق كتاب المدخل إلى الصحيح " للحاكم طبع الجزء الأول منه.
  • تحقيق كتاب التوسل والوسيلة " للإمام ابن تيمية - مجلد۔
  • منهج الأنبياء في الدعوة إلى الله فيه الحكمة والعقل .
  • منهج أهل السنة في نقد الرجال و الكتب و الطوائف .
  • "تقسيم الحديث إلى صحيح وحسن وضعيف بين واقع المحدثين ومغالطات المتعصبين " رد على عبد الفتاح أبو غدة ومحمد عوامه.
  • كشف موقف الغزالي من السنة وأهلها۔
  • صد عدوان الملحدين وحكم الاستعانة بغير المسلمين۔
  • مكانة أهل الحديث .
  • منهج الإمام مسلم في ترتيب صحيحه .
  • أهل الحديث هم الطائفة المنصورة الناجية ـ حوار مع سلمـــان العودة ـ .
  • مذكرة في الحديث النبوي .
  • أضواء إسلامية على عقيدة سيد قطب وفكره.
  • مطاعن سيد قطب في أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم .
  • العواصم مما في كتب سيد قطب من القواصم .
  • " الحد الفاصل بين الحق والباطل " حوار مع بكر أبو زيد .
  • مجازفات الحداد .
  • المحجة البيضاء في حماية السنة الغراء .
  • " جماعة واحدة لا جماعات و صراط واحد لا عشرات " حوار مع عبد الرحمن عبد الخالق .
  • النصر العزيز على الرد الوجيز .
  • التعصب الذميم وآثاره . عني به سالم العجمي .
  • بيان فساد المعيار، حوار مع حزبي متستر .
  • التنكيل بما في توضيح المليباري من الأباطيل .
  • دحض أباطيل موسى الدويش .
  • إزهاق أباطيل عبد اللطيف باشميل .
  • انقضاض الشهب السلفية على أوكار عدنان الخلفية .
  • النصيحة هي المسؤولية المشتركة في العمل الدعوي . ( طبع ضمن مجلة التوعية الإسلامية ) .
  • الكتاب والسنة أثرهما ومكانتهما والضرورة إليهما في إقامة التعليم في مدارسنا . ( ضمن مجلة الجامعة الإسلامية العدد السادس عشر ) .
  • حكم الإسلام في من سبَّ رسول الله أو طعن في شمول رسالته . ( مقال نشر في جريدة القبس الكويتية ) العدد ( 8576 ) بتاريخ ( 9/5/ 1997 ).

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Royal Aal al-Bayt Institute for Islamic Thought, Sheikh Rabi’ Ibn Haadi ‘Umayr Al Madkhali. The Muslim 500: The World's Most Influential Muslims
  2. Roel Meijer, Global Salafism: Islam's New Religious Movement, pg. 49. نیویارک شہر: Columbia University Press, 2009.
  3. Omayma Abdel-Latif, "Trends in Salafism." Taken from Islamist Radicalisation: The Challenge for Euro-Mediterranean Relations, pg. 74. Eds. Michael Emerson, Kristina Kausch and Richard Youngs. برسلز: Centre for European Policy Studies, 2009. ISBN 978-92-9079-865-1
  4. Roel Meijer, Politicizing al-jarh wa-l-ta'dil p.377
  5. Lacroix, pg. 212.
  6. Zafiri, K., "Thabt mu'allafat al-shaykh Rabi b. Hadi al-Madkhali" [Meijer says to see this book in 'Politicizing al-jarh wa-l-ta'dil' p.380].
  7. Lacroix p.212

بیرونی روابط[ترمیم]