سید منظور الکونین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سید منظور الکونین
ادیب
پیدائشی نامسید منظور الکونین
عرفیتمنظور الکونین
اصناف ادبنعت خوان

سید منظور الکونین :معروف نعت گو اورنعت خواں جن کا لقب بابائے نعت ہے۔ جونعتیہ شاعری میں اقدس تخلص کرتے تھے نعت کے لیے سید منظور الکونین کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ حکومت پاکستان نے 14 اگست 1993ء کو صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی عطا کیا۔۔ واہ کینٹ آپ کی رہائش گاہ ہے۔ اور نعت خوانی میں ایک منفرد انداز نعت خوانی کے بانی اور بے شمار شاگردوں کے استاد ہیں۔[1]
سید منظور الکونین نے صغر سنی میں یعنی ساڑھے تین سال کی عمر میں شملہ کانفرنس سے پہلے ابتدائی اجلاس منعقدہ کلکتہ میں نعت پیش کی ،جس پر خواجہ ناظم الدین نے ان کا ماتھا چوم کر ان کو سراہا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سید منظور الکونین کی نعت خوانی میں تابانیاں آتی گئیں اور اپنی خوش الحانی سے ان کی شہرت دنیا بھر میں پھیل گئی۔ انہوں نے اندرون ملک ہی نہیں بیرون ملک بھی سفر کیے ،خاص طور پر مسلم ممالک میں ان کی ثناخوانی کو بڑے ذوق و شوق سے سنا جاتا تھا۔ اسی نعت خوانی کے سبب1986ء میں آپ کو حکومت کی طرف سے حج کی سعادت ملی۔ منظور الکونین کے بارے میں عاصی کرنالی نے لکھا تھا یہ ایسی ہر دلعزیز شخصیت ہیں جنہوں نے نعت گوئی اور خصوصاً نعت خوانی میں بہت نام پیدا کیا کیونکہ وہ تخلیقی طور پر نعت گو بھی ہیں، اس لیے ایسی نعتیں منتخب کرتے ہیں جو معیاری ہوں اور جو مدحت رسول پاکؐ کے فضائل مبارکہ، اسوۂ حسنہ اور سیرت طیبہ کی بھرپور نمائندگی کرتی ہیں۔ منظور الکونین صاحب نے نعتوں کے انتخاب میں صرف عہد حاضر ہی کو نہیں لیا بلکہ عہد ماضی کے مشہور و ممتاز نعت گو کی نعتوں کو اپنے نعت خوانی کے حسن سے جمال بخشا۔ حفیظ تائب فاونڈیشن کے زیر اہتمام جب بھی پاکیزہ محفل کا اہتمام کرتے سید منظور الکونین بھی اس میں شریک ہوتے تھے ۔
انہوں نے اپنی خوش الحانی سے جو نعتیں پڑھیں ان پر ان کو ریڈیو پاکستان نے بھی زیڈ اے بخاری ایوارڈ سے نوازا اور حکومت پاکستان نے بھی۔ سید منظور الکونین سے ایک بار سوال کیا گیا تھا کہ آپ نعت گوئی کی طرف زیادہ مائل کیوں نہ ہوئے تو انہوں نے کہا تھا حفیظ تائب مرحوم نے ایک بار مجھ سے کہا تھا کہ بھائی آپ باقاعدگی سے نعت کیوں نہیں لکھتے میں نے آپ کی نعتیں سنی ہیں آپ بہت اچھی نعت کہتے ہیں۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ میں آپ کی نعت پڑھتا ہوں، احمد ندیم قاسمی کی نعت پڑھتا ہوں، حافظ مظہر الدین اور ماہر القادری کی نعت پڑھتا ہوں تو جب میں شعر کہتا ہوں اور ان کے برابر نہیں پاتا تو میں کہتا ہوں کہ اس سے نہ کہنا اچھا ہے نیز میری خوش گلوئی اور نعت خوانی کی عطا اتنی زبردست اور حاوی تھی کہ اس نے میر ی شاعری کو زیادہ پنپنے نہیں دیا۔ سید منظور الکونین دور حاضر کے ایسے نعت گو اور نعت خواں تھے جو آنے والے نعت خوانوں کے مشعل راہ رہیں گے اور ان کی آواز جب جب سماعت میں آئے گی سننے والے بے ساختہ ان کو داد دیتے رہیں گے۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]