صبیح الدین رحمانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
صبیح الدین رحمانی
Sabih-Rehmani.jpg

معلومات شخصیت
پیدائش 27 جون 1965 (56 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کراچی،  پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش کراچی  ویکی ڈیٹا پر (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ کراچی  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعلیمی اسناد ماسٹر آف آرٹس  ویکی ڈیٹا پر (P512) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
استاذ انصار الہ آبادی،  فدا خالدی دہلوی  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ شاعر،  مدیر،  نعت خواں،  ادبی تنقید نگار  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت پی ٹی سی ایل،  اے آر وائی ٹی وی نیٹ ورک،  شاہین ائیر انٹرنیشنل  ویکی ڈیٹا پر (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں نعت رنگ  ویکی ڈیٹا پر (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

سيد صبیح الدين رحمانی (پیدائش: 27 جون، 1965ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے معروف نعت خواں، نعت گو شاعر اور نعتیہ ادب کے محقق و نقاد ہیں۔ وہ نعتیہ ادب کے تحقیقی، تنقیدی اور علمی جریدہ نعت رنگ کے مدیر اور نعت کی تحقیق کے لیے قائم کیا گئے ادارے نعت ریسرچ سینٹر کے بانی اور سیکریٹری جنرل ہیں۔شعبۂ نعت میں آپ کی خدمات کے صلہ میں حکومت پاکستان نے انہیں تمغا امتیاز سے نوازا۔[1] انہوں نے شاعری میں حافظ مستقیم، فدا خالدی دہلوی اور شاہ انصار الہ آبادی سے اصلاح لی۔ صبیح رحمانی کی اردو نعتیہ شاعری کے انگریزی تراجم بھی شائع ہو چکے ہیں۔ ان کے نعتیہ مجموعہ کلام 'جادہ رحمت' کا انگریزی ترجمہ Jada-i-Rehmat کے عنوان سے جسٹس (ر) ڈاکٹر منیر احمد مغل نے اور 'سرکار کے قدموں میں 'کا انگریزی ترجمہ Reverence Unto His Feet کے عنوان سے سارہ کاظمی نے کیا۔ یہ دونوں ترجمے 2009ء میں شائع ہوئے۔

حالات زندگی[ترمیم]

صبیح رحمانی کے آباؤ اجداد کا تعلق حیدرآباد دکن کے سادات گھرانے سے ہے۔ ان کے دادا کا نام سید مقبول علی شاہ اور پر دادا سید مجذوب علی شاہ تھا۔ سید مقبول علی شاہ کے تین بیٹے سید کریم الدین کمتر، سید اسحاق الدین، سید سردار الدین اور دو بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ سید اسحاق الدین کی شادی 1962ء میں عصمت بانو سے ہوئی۔ اللہ نے ان کو تین بیٹے سید سمیع الدین، سید صبیح الدین رحمانی اور سید فصیح الدین اور پانچ بیٹیاں عطا کیں۔سید اسحاق الدین نے کراچی منتقل ہونے کے کچھ عرصے کے بعد جامعہ کراچی میں ملازمت شروع کی اور یہیں سے اسسٹنٹ کنٹرولر امتحانات کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ سید اسحاق الدین 16 اگست 2019ء کو بروز جمعہ انتقال کر گئے۔ سید صبیح الدین رحمانی 27 جون 1965ء کو فردوس کالونی، گل بہار کراچی میں سید اسحاق الدین کے گھر میں پیدا ہوئے۔[2][3] ان کا قلمی نام صبیح رحمانی اور تخلص صبیح ہے۔ ابتدائی تعلیم حسن پرائمری اسکول فردوس کالونی سے حاصل کی۔ 1983ء میں فیڈرل گورنمنٹ اسکول، ناظم آباد چورنگی سے سائنس گروپ میں میٹرک امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔ 1985ء میں گورنمنٹ اسلامیہ کالج کراچی سے ایف اے اور 1987ء میں جامعہ کراچی سے بی اے کی ڈگری حاصل۔ 1998ء میں جامعہ کراچی سے ایم اے (اردو ادب) کی ڈگری حاصل کی۔​​[4][5]

صبیح رحمانی نے ملازمت کا آغاز 1983ء میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ میں بحیثیت ٹیلی فون آپریٹر کیا۔ اس ادارے میں 18 برس وابستہ رہنے کے بعد اس ملازمت کو خیرباد کہہ کر ایک نجی ٹی وی چینل اے آر وائی میں ریسرچ ڈائریکٹر کی حیثیت سے وابستہ ہو گئے۔ یہیں بطور سینئر پروڈیوسر بھی خدمات سرانجام دیں۔ اس شعبے میں صبیح رحمانی نے اپنی قابلیت کے جوہر دکھائے اور ایک ماہر و تجربہ کار پروڈیوسر کی حیثیت سے شناخت بنائی۔ اسی چینل میں ترقی کرتے ہوئے ڈائریکٹر پروگرامز اینڈ پلاننگ کے عہدے پر فائز ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے نے ایک نجی ایئر لائن شاہین ایئر میں بحیثیت ڈائریکٹر حج ملازمت اختیار کی اور ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے کنٹری ہیڈ سعودی عرب کے منصب پر فائز ہوئے۔ آج کل نعت ریسرچ سینٹر کراچی کے بانی و سیکریٹری جنرل کے عہدے پر فائز ہیں۔

صبیح رحمانی کی شادی سید ناصر علی رضوی کی صاحبزادی سیدہ شاہین صبیح سے 1989ء میں کراچی میں ہوئی۔ صبیح رحمانی کے دو بیٹے سید سرمد صبیح، محمد تابش صبیح اور ایک بیٹی اُم ایمن ہیں۔ تینوں بچے شادی شدہ ہیں۔

صبیح رحمانی کی نعتیہ خدمات[ترمیم]

صبیح رحمانی کو نعتیہ شاعری کا شوق بچپن ہی تھا۔ اردو ادب میں ان کی پہچان بطور نعت گو و نعت شناس کی ہے۔ ان کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلوعشق رسول ہے۔ حضور اکرم سے والہانہ عقیدت و محبت ان کے حرف حرف سے ظاہر ہوتی ہے۔وہ جدید نعت گو شعرا کے اس کارواں میں شامل ہیں جن کا تخیل، فکر اور جذبہ و خیال انفرادیت کے حامل ہیں۔ نعتیہ ادب کے حوالے سے ان کی ہر کاوش ان کے وسعتِ مطالعہ او فکری و فنی ریاضت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ نعتیہ شاعری سے شغف کا سبب گھریلو ماحول اور عشق رسول کا جذبہ اور سیرت رسول سے گہری وابستگی ہے۔ صبیح رحمانی نے نعت خوانی کا آغاز 1973ء میں کیا، جس وقت وہ پرائمری جماعت میں پڑھتے تھے۔ اسی زمانے میں اسکول اور دیگر جگہوں پر نعت خوانی کے مقابلوں میں ان کی شرکت یقینی ہوتی تھی۔ 84-1983ءمیں انہیں ریڈیو پاکستان کے نعتیہ پروگراموں میں شرکت کا موقع ملا۔ یہاں معروف شاعر و گلوکار مہدی ظہیر نے صبیح رحمانی کی صلاحیتوں کا اندازہ لگاتے ہوئے ان کو مشوروں اور سرپرستی سے نوازا۔ یہی وہ دور ہے جب ان میں نعت خوانی کے ذوق نے تخلیقِ نعت کی طرف مراجعت کی۔ اس وقت وہ ساتویں جماعت میں تھے جب پہلا نعتیہ شعر کہا۔

حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائےسلام کے لئے حاضر غلام ہو جائے

1991-92ء کے دوران شیخ محمد الہٰی نے ایس ٹی این پرائیویٹ ٹی وی چینل پر ایک نعتیہ مشاعرے کا اہتمام کروایا جس میں صبیح رحمانی بطور نعت گو اور نعت خواں شریک ہوئے۔ اس شاعرے میں انہوں نے اپنا نعتیہ کلام مترنم آواز میں پڑھا۔ اس مشاعرے میں پڑھی جانے والی نعت بہت مشہور و مقبول ہوئی۔

کوئی مثل مصطفیٰ کا کبھی تھا، نہ ہے، نہ ہوگاکسی اور کا یہ رتبہ کبھی تھا، نہ ہے، نہ ہوگا

صبیح رحمانی کو اس کامیاب نعتیہ مشاعرے کے بعد ایس ٹی این ٹی وی چینل نے اپنے اسٹوڈیو میں آنے کی دعوت دی اور ان کی مشہور چار نعتیں ان کی آواز میں نشر کیں۔ یوں صبیح رحانی کا نعتیہ کلام مقبولِ عام ہوا اور مختلف ٹی وی چینلز کی نشریات میں باقاعدہ شرکت کرنے لگے۔ ٹیلی وژن کے مشاعروں میں ان کو خصوصی طور پر شرکت کرنے اور اپنا نعتیہ کلام پیش کرنے کی دعوت دی جاتی ہے۔ مختلف ٹی وی چینلز کی دعوت پر رمضان المبارک کے افطاری و سحری کے پروگراموں میں بھی خصوصی شرکت کرتے ہیں۔ محمد قمر خان رحمانی چیئرمین گل بہار نعت کونسل ٹرسٹ پاکستان، وہ شخصیت تھے جنہوں نے نعت خوانی کے میدان میں صبیح رحمانی کی تربیت بھی کی اور ان کی حوصلہ افزائی بھی، انہوں نے ہی نعت خوانی کے اسرار و رموز کی بھی پہچان کروائی۔ صبیح رحمانی جن ممالک میں نعت خوانی کی سعادت حاصل کر چکے ہیں ان میں کینیڈا، ناروے، ڈنمارک، سویڈن، فرانس، بیلجیم، انگلینڈ، جنوبی افریقہ، ماریشس، ریاستہائے متحدہ امریکہ، کویت، اومان، اسکاٹ لینڈ، ہالینڈ اور سعودی عرب شامل ہیں۔

صبیح رحمانی نے ایک طرف معاصر شعرا سے اکتسابِ فیض کیا تو دوسری طرف کلاسیکی ادب سے بھی فیض حاصل کیا۔ معاصر شعرا میں حافظ مظہر الدین، حفیظ تائب، ریاض مجید شامل ہیں اور کلاسیکل شعرا میں محمد محسن کاکوروی وہ شاعر ہیں جن تخلیقی حسیت صبیح رحمانی کی شاعری میں جلوہ گر نظر آتی ہے۔ نعت کو ادب میں بطور موضوع متعارف کروانے والے شعرا کی صف میں صبیح رحمانی کا نام بھی شامل ہے، جو ادبی خلوص و عقیدت، شاعرانہ سچائی اور تخلیقی لطافت سے سرشار، شب و روز خدمتِ نعت میں مصروف ہیں۔[6]

تصانیف و تالیفات[ترمیم]

نعتیہ مجموعے[ترمیم]

  • ماہِ طیبہ، نظامی اکیڈمی کراچی، 1989ء
  • جادۂ رحمت، ممتازپبلشرز کراچی، 1993ء
  • خوابوں میں سنہری جالی ہے، ممتاز پبلشرز کراچی، 1997ء
  • کلیاتِ صبیح رحمانی، دار السلام لاہور، 2019ء

تالیفات[ترمیم]

  • ایوانِ نعت (نعتیہ انتخاب)، اقلیمِ نعت کراچی، 1993ء
  • جمالِ مصطفٰی (نعتیہ انتخاب)، فرید پبلشرز کراچی، 1993ء
  • نعت نگر کا باسی (ڈاکٹر ابو الخیر کشفی) کی نعت شناسی، اقلیمِ نعت کراچی، 2008ء
  • غالب اور ثنائے خواجہ، نعت ریسرچ سینٹر کراچی، 2009ء
  • اردو نعت میں تجلیاتِ سیرت، نعت ریسرچ سینٹر کراچی، 2015ء
  • ڈاکٹر عزیز احسن اور مطالعاتِ حمد و نعت، نعت ریسرچ سینٹر کراچی، 2015ء
  • اردو نعت کی شعری روایت، اکادمی بازیافت کراچی، 2016ء
  • مدحت نامہ (دبستانِ کراچی کے غیر صاحبِ کتاب نعت گو شعرا کا انتخابِ نعت)، نعت ریسرچ سینٹر کراچی، 2016ء
  • کلیاتِ عزیز احسن، نعت ریسرچ سینٹر کراچی، 2017ء
  • پاکستانی زبانوں میں نعت - روایت اور ارتقاء، نعت ریسرچ سینٹر کراچی، 2017ء
  • کلامِ رضا فکری و فنی زاویے، نعت ریسرچ سینٹر کراچی، 2017ء
  • اقبال کی نعت، فکری و اسلوبیاتی مطالعہ،اکادمی بازیافت کراچی، 2018ء
  • کلامِ محسن کاکوروی ادبی و فکری جہات،اکادمی بازیافت کراچی، 2018ء
  • اردو حمد کی شعری روایت،اکادمی بازیافت کراچی، 2018ء
  • اردو حمدیہ ادب کا اجمالی جائزہ، نعت ریسرچ سینٹر کراچی، 2020ء

صبیح رحمانی کے نعتیہ کلام کے انگریزی تراجم[ترمیم]

  • Reverence Unto His Feet ('سرکار کے قدموں میں' کا ترجمہ، مترجم سارہ کاظمی، نعت ریسرچ سینٹر کراچی 2009ء
  • Jada-i-Rehmat ('جادہ رحمت' کا ترجمہ، مترجم جسٹس (ر) ڈاکٹر منیر احمد مغل، نعت ریسرچ سینٹر کراچی 2009ء

صبیح رحمانی کے نام لکھے گئے مکاتیب کے مجموعے[ترمیم]

  • نعت اور آدابِ نعت, علامہ کوکب نورانی اوکاڑوی، ضیا القرآن پبلی کیشنز لاہور 2003ء،
  • نعت نامے، مربتہ: ڈاکٹر محمد سہیل شفیق، نعت ریسرچ سینٹر، کراچی، 2014ء

زیرِ ادارت شائع ہونے والے رسائل اور جرائد[ترمیم]

  • مجلہ لیلۃ النعت ، اقلیم نعت کراچی
  • ایقان انٹر نیشنل، اقلیم نعت کراچی
  • نعت رنگ، نعت ریسرچ سینٹر کراچی

صبیح رحمانی کے فن و شخصیت پر شائع ہونے والی کتب و رسائل[ترمیم]

  • جادۂ رحمت کا مسافر، مرتبہ ڈاکٹر حسرت کاسگنجوی، آفتاب آکیڈمی کراچی، 2001ء
  • مجلہ سفیرِ نعت (صبیح رحمانی نمبر)، مدیر آفتاب کریمی، آفتاب آکیڈمی کراچی، 2001ء
  • فنِ اداریہ نویسی اور نعت رنگ، ڈاکٹر افضال احمد نور، نعت ریسرچ سینٹر کراچی، 2010ء
  • نعت ادب: مسائل و مباحث (صبیح رحمانی کے نام موصولہ مکاتیب کا موضوعاتی و تجزیاتی مطالعہ)، ڈاکٹر ابرار عبد السلام، نعت ریسرچ سینٹر کراچی، 2019ء
  • صبیح رحمانی کی نعتیہ شاعری: فکری و تنقیدی تناظر، ڈاکٹر شمع افروز، نعت ریسرچ سینٹر کراچی، 2020ء[7]
  • تالیفاتِ صبیح رحمانی: نقدِ نعت کی نئی تشکیل، ڈاکٹر طاہرہ انعام، مہر گرافکس اینڈ پبلشرز، 2021ء

صبیح رحمانی پر ہونے والے جامعاتی سطح پر تحقیقی کام[ترمیم]

  • صبیح رحمانی کی شخصیت اور فن کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ، مقالہ برائے ایم اے اردو، مقالہ نگار: عائشہ ناز، نگرانِ مقالہ: ڈاکٹر سہیلہ فاروقی، جامعہ کراچی، 2011ء
  • صبیح رحمانی بحیثیت نعت نگار، مقالہ برائے ایم اے اردو، مقالہ نگار: حافظہ ساجدہ اقبال، نگرانِ مقالہ: ڈاکٹر شبیر احمد قادری، جی سی یونیورسٹی فیصل آباد، 13-2011ء
  • سید صبیح الدین رحمانی کی شاعری کا فنی و فکری مطالعہ (مجموعہ ماہ طیبہ کے حوالے سے)، مقالہ برائے ایم اے اردو، مقالہ نگار: تمنا شاہین، نگرانِ مقالہ: ڈاکٹر تحسین بی بی، ویمن یونیورسٹی صوابی، 2019ء
  • اردو نعت گوئی کے فروغ میں صبیح رحمانی کے کردار کاتحقیقی و تنقیدی جائزہ، مقالہ برائے ایم فل اردو، مقالہ نگار: محمد سلمان، نگرانِ مقالہ: ڈاکٹر محمد اشرف کمال، قرطبہ یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان کیمپس، 18-2016ء [8]
  • کلیاتِ صبیح رحمانی میں حمدیہ اور نعتیہ عناصر، مقالہ برائے بی ایس اردو، مقالہ نگار: ماہم رفیق، نگرانِ مقالہ: ڈاکٹر تقدس زہرا، لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی، لاہور

اعزازات[ترمیم]

  • 1990ء - کریسنٹ یوتھ ادبی ایوارڈ
  • 1992ء - قائد اعظم یوتھ ایوارڈ
  • 1992ء - الحاج حبیب احمد ایوارڈ
  • 1992ء - نظامی نعت ایوارڈ
  • 1992ء - شمس نظامی ادبی ایوارڈ
  • 1992ء - المصطفٰی سیرت کمیٹی ایورڈ
  • 1992ء - سلور جوبلی ایوارڈ، پاکستان نعت اکیڈمی
  • 1999ء - نعت ایوارڈ - انوارِ ادب حیدرآباد
  • 2000ء - نعت ایوارڈ اور شاعرِ امت کا خطاب، جامعہ اسلامیہ کینیڈا
  • 2001ء - نعت ایوارڈ - غازی پور ویلفیئر سوسائٹی، کراچی
  • 2002ء - ایپریسی ایشن سرٹیفکیٹ، ہاؤس آف کامن، کینیڈا
  • 2003ء - یادگاری شیلڈ، اے آر وائی ڈیجیٹل نیٹ ورک، کراچی
  • 2005ء - یادگاری شیلڈ - سوئی سدرن گیس آفیسرز ایسوسی ایشن، کراچی
  • 2007ء - سند امتیاز، محکمہ ثقافت وسیاحت اینڈ سماجی بہبود، حکومت سندھ
  • 2008ء - یادگاری شیلڈ، ڈیفنس سینٹرل لائبریری، کراچی
  • 2008ء - یادگاری شیلڈ، پاکستان نیشنل آرگنائزشن، کویت
  • 2013ء - یادگاری شیلڈ، مرحبا مصطفٰی کیو ٹی وی، کراچی
  • 2013ء - یادگاری شیلڈ، وزارت مذہبی امور (پاکستان)
  • 1429ھ -یادگاری شیلڈ - تنظیمِ فلاحِ خواتین بہ اشتراک میر خلیل الرحمٰن میموریل سوسائٹی، کراچی
  • 2014ء -یادگاری شیلڈ - ڈاکٹر مرتضٰی ملک ایجوکیشنل ٹرسٹ، البرٹا، کینیڈا
  • 2015ء - ایپریسی ایشن سرٹیفکیٹ، لیجسلیٹو اسمبلی، البرٹا، کینیڈا
  • 2018ء - ایپریسی ایشن سرٹیفکیٹ، اردو ٹائم شکاگو
  • 2018ء - ایپریسی ایشن سرٹیفکیٹ، سنی اسلامک سینٹر، ہوسٹن، امریکا
  • 2018ء - سفیر نعت ایوارڈ، عثمانیز، ریاستہائے متحدہ امریکا
  • 2019ء - تمغا امتیاز، حکومت پاکستان

نمونۂ کلام[ترمیم]

حمد

کعبے کی رونق کعبے کا منظر، اللہ اکبر اللہ اکبردیکھوں تو دیکھے جاؤں برابر، اللہ اکبر اللہ اکبر
حمد خدا سے تر ہیں زبانیں، کانوں میں رس گھولتی ہیں اذانیں بس اک صدا آ رہی ہے برابر، اللہ اکبر اللہ اکبر
تیرے حرم کی کیا بات مولٰی، تیرے کرم کی کیا بات مولٰی تا عمر کر دے آنا مقدر ، اللہ اکبر اللہ اکبر
مانگی ہیں میں نے جتنی دعائیں، منظور ہوں گی، مقبول ہوں گیمیزاب رحمت ہے میرے سر پر، اللہ اکبر اللہ اکبر
حیرت سے خود کو کبھی دیکھتا ہوں، اور دیکھتا ہوں کبھی میں حرم کولایا کہاں مجھ کو میرا مقدر، اللہ اکبر اللہ اکبر
یاد آگئیں جب اپنی خطائیں، اشکوں میں ڈھلنے لگیں التجائیںرویا غلافِ کعبہ پکڑ کر، اللہ اکبر اللہ اکبر
بھیجا ہے جنت سے تجھ کو خدا نے، چوما ہے تجھ کو میرے مصطفٰی نےاے سنگِ اسود تیرا مقدر، اللہ اکبر اللہ اکبر
دیکھا صفا بھی مروہ بھی دیکھا، رب کے کرم کا جلوہ بھی دیکھادیکھا وہاں اک سروں کا سمندر، اللہ اکبر اللہ اکبر
مولٰی صبیح اور کیا چاہتا ہے، بس مغفرت کی عطا چاہتا ہےبخشش کے طالب پہ اپنا کرم کر، اللہ اکبر اللہ اکبر ​[9]

نعت

حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائےسلام کے لئے حاضر غلام ہو جائے
نظر سے چوم لوں اک بار سبز گنبد کوبلا سے پھر مری دنیا میں شام ہو جائے
تجلیات سے بھر لوں میں کاسۂ دل و جاںکبھی جو اُن کی گلی میں قیام ہو جائے
حضور آپ جو سُن لیں تو بات بن جائےحضور آپ جو کہہ دیں تو کام ہو جائے
حضور آپ جو چاہیں تو کچھ نہیں مشکلسمٹ کے فاصلہ یہ چند گام ہو جائے
ملے مجھے بھی زبان ِ بو صیری و جامیمرا کلام بھی مقبول عام ہو جائے
مزہ تو جب ہے فرشتے یہ قبر میں کہہ دیںصبیح! مدحت خیر الانام ہو جائے​[10]

نعت

کوئی مثل مصطفیٰ کا کبھی تھا، نہ ہے، نہ ہوگاکسی اور کا یہ رتبہ کبھی تھا، نہ ہے، نہ ہوگا
اُنھیں خلق کر کےنازاں ہوا خود ہی دست قدرتکوئی شاہکار ایسا کبھی تھا، نہ ہے، نہ ہوگا
کسی وہم نےصدا دی کوئی آپ کا مماثلتو یقیں پکا اُٹھا کبھی تھا، نہ ہے، نہ ہوگا
مرےطاق جاں میں نسبت کےچراغ جل رہےہیںمجھےخوف تیرگی کا کبھی تھا، نہ ہے، نہ ہوگا
میرےدامن طلب کو ہے انہی کےدر سےنسبتکسی اور سےیہ رشتہ کبھی تھا، نہ ہے، نہ ہوگا
میں ہوں وقفِ نعت گوئی، کسی اور کا قصیدہ میری شاعری کا حصہ کبھی تھا، نہ ہے، نہ ہوگا
سرِ حشر ان کی رحمت کا صبیح میں ہوں طالب مجھےکچھ عمل کا دعویٰ کبھی تھا، نہ ہے، نہ ہوگا[11]

صبیح رحمانی کے فن و شخصیت پر اہلِ علم کی رائے[ترمیم]

صبیح کے یہاں سب سے بڑی بات مجھے یہ نظر آئی کہ انھیں رسول پاک علیہ السلام سے سچی محبت ہے اور وہ اس محبت کو اپنے شعر میں متشکل کر سکتے ہیں۔پیش پا افتادہ مضامین سے انھیں پر ہیز ہے اورعبارت آرائی سے بھی وہ دور بھاگتے ہیں۔نعت گوئی کے تقاضوں سے وہ واقف ہیں اور وہ اپنی بات میں جدت پیدا کرنے کی کوشش کے بجاے محبت کی نرم حدت پیدا کرتے ہیں۔ جیسا کہ میں عرض کیا، حمد و نعت میں مضمون پیدا کرنا بہت مشکل ہے،لیکن کہی ہوئی بات کو اپنے رنگ میں کہہ لینا بھی بڑا فن ہے۔ آرزوے دید اور تمناے حضوری کس کو نہیں ،لیکن ہر شخص صبیح رحمانی کی طرح یہ نہیں کہہ سکتا

مٹا دل سے غم زاد سفر آہستہ آہستہ تصور میں چلا طیبہ نگر آہستہ آہستہ
زباں کو تاب گویائی نہیں رہتی مدینے میں صدا دیتی ہے لیکن چشم تر آہستہ آہستہ
[12] ڈاکٹر شمس الرحمٰن فاروقی


سرورِ کائنات کے بارے میں اقبال نے کہا تھا: تو صلوٰۃِ صبح، تو بانگِ درا
اعلیٰ نعتیہ شاعری میں نمازِ فجر کی خلوت اور ازان کی کائنات افروزی اور بیدار کرنے والا آہنگِ بلند ایک ساتھ نظر آتا ہے۔کیونکہ اس میں اس ذاتِ اکمل و اعظم کا ذکر ہوتا ہے جس نے حرا کی خلوت میں جلوتِ انسان میں آ کر عالمِ نور کی تخلیق کی۔ صبیح رحمانی سلمہ کے نغمہ ثنا میں اس روح کی سرشاری اور اس کے دل کی آبگینہ صفتی کا امتزاج ملتا ہے۔اللہ کرے وہ محبتِ آقا کی حیات بخش فضامیں یوں ہی آباد رہے اور ہماری روحوں کو اپنے نغمات سے یوں ہی آباد رکھے۔[13]
ڈاکٹر ابو الخیر کشفی


فکر اقبال کا یہ بھی کرشمہ ہے کہ اردو شاعری میں وہ خوشگوار تبدیلی آئی جس کی وجہ سے نعت گوئی محض اظہارِ عقیدت تک محدود نہ رہی بلکہ حیات و کائنات کے مسائل و حقائق کو سمجھنے اور سمجھانے کا وسیلہ بن گئی ہے۔ اقبال کی تقلید میں موجودہ دور کے جن شعرا نےنعت کو اپنی شناخت بنایا ہے ان میں سے بعض بہترین نعت گو ہی نہیں، بہترین تخلیق کار بھی ہیں۔ صبیح رحمانی کا شمار ایسے ہی شاعروں میں ہوتا ہے۔ مجھے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نعت صبیح رحمانی کے حق میں حرفِ دعا ثابت ہوئی ہے۔ اس نے کم عمری ہی میں وہ مقام حاصل کر لیا ہے جو اک عمر کی ریاضت کے بعد نصیب ہوتا ہے۔[14] مشفق خواجہ


صبیح رحمانی کی نعتیں فن کی پختگی، بیان کے وقار اور حفظِ مراتب کے شعور کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔[15] ڈاکٹر تحسین فراقی

صبیح رحمانی کی ریلیز ہونے والی آڈیو کیسٹ[ترمیم]

  • جانِ رحمت، کمپنی: APP
  • سایہ کملی کا، کمپنی: EMI
  • ہیں مواجہ پہ ہم، کمپنی: القادری

صبیح رحمانی کی ریلیز ہونے والی وی سی ڈی[ترمیم]

  • لب پہ نعت پاک کا نغمہ، کمپنی: EMI
  • یادِ مدینہ، کراچی کیسٹ سینٹر لاہور
  • سرکار توجہ فرمائیں، مکتبہ اشرفیہ کراچی
  • سرکار کے قدموں میں، کراچی کیسٹ سینٹر لاہور
  • یادِ حرم، FRS کراچی
  • انوارِ حرم، FRS کراچی
  • اے مدینے کی زمیں، FRS کراچی
  • ہم نبی کا آستاں دیکھا کیے، FRS کراچی
  • ہیں مواجہ پہ ہم، شالیمار ریکارڈنگ کمپنی کراچی

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "18 غیرملکیوں سمیت 127 افراد کو مارچ کو سول اعزازات دیے جائیں گے". ڈان (اخبار). 10-مارچ-2019. اخذ شدہ بتاریخ 23 اگست 2021. 
  2. منظر عارفی، کراچی کا دبستان نعت، نعت ریسرچ سینٹر کراچی، 2016ء، ص 330
  3. ڈاکٹر شہزاد احمد، اردو نعت پاکستان میں، حمد و نعت ریسرچ فاؤنڈیشن کراچی، 2014ء، ص 248
  4. صبیح رحمانی، تعارف نامہ، مشمولہ: اردو کا حمدیہ ادب کا اجمالی جائزہ، نعت ریسرچ سینٹر کراچی، 2020ء، ص 68
  5. ڈاکٹر شہزاد احمد، صبیح رحمانی کی ہمہ جہت نعتیہ خدمات،مشمولہ: کلیات صبیح رحمانی، دار السلام لاہور، 2019ء، ص 21
  6. صبیح رحمانی کی شخصیت اور فن کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ (مقالہ برائے ایم اے اردو)، مقالہ نگار: عائشہ ناز، نگرانِ مقالہ: ڈاکٹر سہیلہ فاروقی، جامعہ کراچی، 2011ء
  7. صبیح رحمانی، تعارف نامہ، مشمولہ: اردو کا حمدیہ ادب کا اجمالی جائزہ، ص 69
  8. صبیح رحمانی کی ہمہ جہت نعتیہ خدمات،مشمولہ: کلیات صبیح رحمانی، ص 53
  9. سید صبیح الدین رحمانی، کلیات صبیح رحمانی، دار السلام لاہور، 2019ء
  10. کلیات صبیح رحمانی، ص 81
  11. کوئی مثل مصطفی کا کبھی تھا، نہ ہے، نہ ہوگا ۔ صبیح الدین رحمانی، نعت کائنات ڈاٹ او آر جی
  12. شمس الرحمٰن فاروقی، سید صبیح الدین رحمانی کی نعت، مشمولہ: اوراقِ سبز، مدیر: سلیم سہیل، تاریخ اشاعت: 24 مئی 2020ء
  13. ڈاکٹر شمع افروز، صبیح رحمانی کی نعتیہ شاعری: فکری و تنقیدی تناظر، نعت ریسرچ سینٹر، 2020ء، ص 561
  14. صبیح رحمانی کی نعتیہ شاعری: فکری و تنقیدی تناظر، ص 563
  15. صبیح رحمانی کی نعتیہ شاعری: فکری و تنقیدی تناظر، 565