شوکت تھانوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شوکت تھانوی
محمد عمر
معلومات شخصیت
پیدائش 3 فروری، 1904ء
ورنداون  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 4 مئی، 1963ء
لاہور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن میانی صاحب قبرستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
قومیت Flag of the United Kingdom.svg مملکت متحدہ (1904–47)
Flag of Pakistan.svg پاکستان (1947–63)
والدین منشی صدیق احمد
عملی زندگی
پیشہ صحافی، مزاح نگار،شاعر
اعزازات
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

شوکت تھانوی (3 فروری 1904ء – 4 مئی، 1963ء)[1] ایک صحافی،ناول نگار، ڈراما نگار،افسانہ نگار، مزاح نگار، ادیب اور شاعر تھے۔ انھوں نے ادب کی ہر صنف میں نام کمایا مگر ان کی اصل شہرت مزاح نگاری اور خاص طور پر روز نامہ جنگ میں لکھے گئے ان کے مزاحیہ کالم ہیں۔

سوانح حیات[ترمیم]

نام محمد عمر اور شوکت تخلص کرتے تھے، شوکت تھانوی کے نام سے مشہور ہوئے۔ اتر پردیش (یو پی) کے مشہور قصبے تھانہ بھون کے رہنے والے تھے۔ ضلع متھرا کے مقام بندرابن میں 1907ء میں پیدا ہوئے جہاں ان کے والد محکمہ پولیس میں ملازم تھے۔ کچھ دنوں بعد ان کے والد انسپکٹر جنرل پولیس ہو کر بھوپال چلے گئے۔ شوکت نے بھوپال ہی میں ہوش سنبھالا۔ پھر والد لکھنؤ آ گئے۔ کچھ دنوں علی گڑھ میں بھی رہے مگر والد کی وجہ سے تعلیم کو ادھورا چھوڑ کر معاش کی فکر کرنی پڑی۔ صحافت سے دلچسپی تھی۔ ہندوستان کے کئی مشہور اخباروں سے وابستہ رہے۔ ان میں ہمدم، ہمت، ہفت روزہ سرپنچ زیادہ مشہور ہیں۔ اسی ہفتہ وار اخبار نے انہیں مزاح نگار کی حیثیت سے متعارف کرایا۔ ان کے مضامین سودیشی ریل، سودیشی ڈاک وغیرہ اب تک دلچسپی سے پڑھے جاتے ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد کراچی آ گئے اور مختلف اخبارات سے وابستہ رہے۔ ریڈیو پاکستان سے ان کا مستقل فیچر (قاضی جی) بہت مقبول ہوا۔ آخری دنوں میں (جنگ) راولپنڈی ایڈیشن کے ایڈیٹر تھے۔ 1963ء میں انتقال ہوا۔ شوکت تھانوی شاعر بھی تھے، ان کا مجموعہ کلام (گہرستان) کے نام سے شائع ہوا۔

تصانیف[ترمیم]

  • سودیشی ریل
  • قاضی جی
  • کارٹون
  • شیش محل (112 ادبا و شعرا پر مضامین) [2]
  • قاعدہ و بے قاعدہ
  • گہرستان[3] صفحات 208 (شاعری)
  • شوکتیاں[4]
  • بیربل و ملا دو پیازہ
  • مسٹر
  • بید کی کرسی
  • سسرال
  • راجا صاحب
  • دیکھا جائے گا
  • بھابی (ناول)[5]
  • تیسرا آدمی (11 افسانے)[6]
  • منشی جی
  • میر صاحب
  • لاٹری کا ٹکٹ
  • غزالہ (ناول)
  • سانچ کو آنچ (ناول)
  • رقاصہ
  • دوزح
  • حامد مرحوم
  • جوڑ توڑ
  • مغالطہ
  • کہا مرزا غالب نے
  • سچ
  • مضامین شوکت
  • سُسرال (ناول)[7]
  • سیلاب تبسم (مزاح)
  • دنیائے تبسم (مزاح)[8]
  • دُنیا کی بات یکم ستمبر 1937ء
  • نورتن
  • مونڈی کاٹے
  • مولانا
  • بقراط (ناول)
  • طوفان تبسم (مزاح)
  • شرمناک افسانے
  • معما خاتون
  • مسکراہٹیں
  • شیطان کی ڈائری
  • ڈھونگ
  • خانم خان
  • بڑبھس
  • بکواس (ناول)[9]
  • مجھے خرید لو
  • کنیا
  • دل پھینک[10]
  • انشاء اللہ
  • پہیلی بیگم (مزاحیہ ناول)
  • مسٹر چارسو بیس
  • ہم زلف
  • داماد
  • بیگم صاحبہ (ناول)
  • گرگٹ
  • بیوی
  • خدا نخواستہ (ناول)
  • پگلی
  • برقِ تبسم (مزاح)
  • مابدولت (خود نوشت)
  • کچھ یادیں کچھ باتیں
  • بحرِ تبسم (مزاح)
  • موج تبسم (مضامین)

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Bio-Bibliography ~ شوکت تھانوی"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  2. 1981ء- 216 صفحات ناشر: نسیم بُک ڈپو۔ لکھنؤ
  3. ناشر، اشاعت العلوم پریس۔ لکھنؤ
  4. لاہور،ا ُردو بُک سٹال، 1954ء
  5. ناشر، ادارۂ فروغِ اُردو،لاہور، بار دوم 1962ء، صفحات 324
  6. ناشر،مکتبہ اُردو، لاہور، س ن، صفحات 283
  7. ناشر، ادارۂ فروغِ اُردو۔ لاہور، س ن، صفحات 192
  8. ناشر، حالی پبلشنگ ہاؤس۔ دہلی، بار سوم س ن، صفحات 227
  9. ناشر: اُردو بُک اسٹال۔ لاہور
  10. لکھنؤ، صدیق بکڈپو، 1942ء