طبقات اکبری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search


طبقات اکبری ہندوستان کی عام تاریخ ہے۔ اِس کے مؤلف نظام الدین احمد (متوفی 7 نومبر 1594ء) تھے۔طبقات اکبری اگرچہ اغلاط سے خالی نہیں، بالخصوص اِس میں سالوں کے متعلق غلطیاں کثرت سے موجود ہیں لیکن باوجود اِس کے ہندوستان کی عمومی کتب ہائے تواریخ میں ایک خاص وقعت اور اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ یہ پہلی کتاب ہے جو اِس موضوع پر لکھی گئی ہے اور اِس کا طرزِ ترتیب اِس درجہ پسندیدہ ہے کہ مابعد کے مورخین نے اِس کا اتباع کیا ہے۔ محمد قاسم فرشتہ نے اپنی مشہور تاریخ تاریخ فرشتہ بالکل اِسی کے نمونے پر لکھی ہے۔ ملا عبدالقادر بدایونی کی کتاب منتخب التواریخ کا ماخذ بھی یہی کتاب ہے۔

تفصیلات متن[ترمیم]

جس کی ابتدا ابو منصور سبکتگین کے عہد حکومت یعنی 367ھ/977ء سے ہوتی ہے اور اختتام 1002ھ/ 1594ء کے واقعات پر ہوتا ہے۔ملا عبدالقادر بدایونی نے اِس کتاب کو طبقات اکبرشاہی کے نام سے یاد کیا ہے۔ مصنف روضۃ الطاہرین نے اِس کا نام سلطان نظامی بھی لکھا ہے لیکن تاریخی نام طبقات اکبری ہی مشہور ہے۔ طبقات اکبری کا ماخذ 26 معتبر و مستند کتب ہائے تواریخ ہیں اور اِس کے علاوہ میر محمد معصوم بکھری بھی اِس کی تدوین میں شریک رہے۔ بعد ازاں جن مؤرخین نے عہد اکبری کی تواریخ مرتب کی ہیں، اُن کا ماخذ طبقات اکبری ہی رہا ہے۔[1] مؤلف نظام الدین احمد نے اِس کتاب کو جلال الدین اکبر کے سینتیسویں سالِ جلوس یعنی 1593ء میں شروع کیا اور اواخر 1594ء میں اپنی وفات سے چند مہینے قبل مکمل کر لیا تھا۔[2]

ماخذ کتب[ترمیم]

مؤرخ رومیش چندر مجمدار کی تحقیق کے مطابق طبقات اکبری کا ماخذ 29 کتب ہیں۔[3]

  • تاریخ یمینی
  • زین الاخبار
  • روضۃ الصفا
  • تاج المآثر
  • خزائن الفتوح
  • تغلق نامہ
  • طبقات ناصری
  • تاریخ فیروز شاہی
  • فتوحات فیروزشاہی
  • تاریخ مبارک شاہی
  • تاریخ فتوح السلاطین
  • تاریخ محمود شاہی ہندوی کلاں
  • تاریخ محمود شاہی ہندوی خورد
  • تاریخ محمود شاہی گجراتی
  • ماثر محمود شاہی گجراتی
  • تاریخ محمدی
  • تاریخ بہادرشاہی
  • تاریخ بہمنی
  • تاریخ ناصری
  • تاریخ مظفرشاہی
  • تاریخ میرزا حیدر دوغلت
  • تاریخ کشمیر
  • تاریخ سندھ
  • تاریخ بابری (بابر نامہ)
  • واقعات بابری
  • تاریخ ابراہیم شاہی
  • واقعات مشتاقی
  • واقعات ہمایونی

طبقات[ترمیم]

طبقاتِ اکبری ایک مقدمہ،  نو طبقات اور ایک ضمیمہ بطور خاتمے پر مشتمل ہے۔

مقدمہ[ترمیم]

مقدمہ میں سلطنت غزنویہ کے سلاطین اور اولادِ سبکتگین کے تذکرہ پر لکھا گیا ہے۔ یہ مقدمہ 367ھ سے 582ھ (977ء تا 1186ء) کی تاریخ ہے۔

طبقہ اول[ترمیم]

طبقہ اول میں دہلی سلطنت کے سلاطین کا تذکرہ لکھا گیا ہے جو سلطان شہاب الدین غوری کے زمانے سے لے کر مغل شہنشاہ جلال الدین اکبر کے اڑتیسویں سال جلوس تک یعنی 1178ء سے 1593ء تک مفصل تاریخ ہے۔

طبقہ دؤم[ترمیم]

طبقہ دوم میں دکن کے سلاطین کا احوال لکھا گیا ہے جو 1347ء سے 1593ء تک کا احاطہ کرتا ہے۔

طبقہ سوم[ترمیم]

طبقہ سوم میں گجرات کے سلاطین کا تذکرہ موجود ہے جو 1300ء سے 1572ء تک کی تاریخ ہے۔

طبقہ چہارم[ترمیم]

طبقہ چہارم میں سلاطین بنگال کا تذکرہ ہے جو 1340ء سے 1576ء تک کی تاریخ ہے۔

طبقہ پنجم[ترمیم]

طبقہ پنجم میں سلاطین مالوہ کا تذکرہ مفصل بیان کیا گیا ہے جو 1406ء سے 1569ء تک کی تاریخ ہے۔

طبقہ ششم[ترمیم]

طبقہ ششم میں سلاطین جونپور کا تذکرہ لکھا گیا ہے جو 1382ء سے 1476ء تک کی تاریخ ہے۔

طبقہ ہفتم[ترمیم]

طبقہ ہفتم میں شاہان سندھ و سلاطین سندھ کا تذکرہ موجود ہے جو 705ء سے 1592ء تک کی تاریخ ہے۔

طبقہ ہشتم[ترمیم]

طبقہ ہشتم میں سلاطین کشمیر کا تذکرہ لکھا گیا ہے جو 1346ء سے 1586ء تک کی تاریخ ہے۔

طبقہ نہم[ترمیم]

طبقہ نہم میں سلاطین ملتان کا احوال مفصل لکھا گیا ہے جو 1443ء سے 1517ء تک کی تاریخ ہے۔

خاتمہ (ضمیمہ)[ترمیم]

ضمیمہ یعنی خاتمہ کتاب میں ہندوستان کی بعض خصوصیات لکھی گئی ہیں۔

اشاعت[ترمیم]

طبقات اکبری پہلی بار مطبع منشی نول کشور سے 1875ء میں لکھنؤ سے شائع ہوئی۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. نبی احمد سندیلوی: تذکرہ مورخین،  صفحہ 43، مطبوعہ مطبع سلیمانی، بنارس۔ 1936ء
  2. حکیم شمس اللہ قادری: مؤرخین ہند، صفحہ 10۔ مطبوعہ حیدرآباد دکن، 1932ء
  3. Majumdar, R.C. (ed.) (2006). The Delhi Sultanate, Mumbai: Bharatiya Vidya Bhavan, p.757