عبد اللہ یوسف علی
عبد اللہ یوسف علی | |
---|---|
(اردو میں: عبد اللہ یوسف علی) | |
معلومات شخصیت | |
پیدائش | 14 اپریل 1872ء [1] ممبئی |
وفات | 10 دسمبر 1953ء (81 سال)[1] بروکووڈ، سرئے |
مدفن | بروک ووڈ قبرستان |
شہریت | ![]() ![]() ![]() |
رکن | رائل سوسائٹی آف لٹریچر |
عملی زندگی | |
مادر علمی | ممبئی یونیورسٹی سینٹ جانز کالج |
پیشہ | مترجم ، مصنف |
پیشہ ورانہ زبان | عربی ، انگریزی ، اردو |
اعزازات | |
درستی - ترمیم ![]() |
علامہ عبد اللہ یوسف علی (انگریزی: Abdullah Yusuf Ali) (پیدائش: 4 اپریل، 1872ء - وفات: 10 دسمبر، 1953ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے ممتاز سنی عالم، ادیب اور قرآن پاک کے انگریزی مترجم، مفسر اور اسلامیہ کالج لاہور کے سابقہ پرنسپل
پیدائش
[ترمیم]عبد اللہ یوسف علی 4 اپریل، 1872ء کو سورت، برطانوی ہندوستان کے بوہرہ، داودی شیعہ گھرانے میں پیدا ہوئے۔
تعلیم
[ترمیم]والد ان کے پولیس انسپکٹر تھے۔ ابتدائی تعلیم انھوں نے بمبئی کے انجمن حمایت اسلام اسکول میں حاصل کی اور بعد میں مشنری، ولسن کالج سے بی اے کیا۔ اس دوران انھوں نے قران پاک حفظ کیا۔ عبد اللہ یوسف علی نے 19 سال کی عمر میں ممبئی یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں فرسٹ ڈویژن میں سند حاصل کی جس کے بعد وہ اسکالر شپ پر اعلی تعلیم کے لیے کیمبرج یونیورسٹی گئے۔ جہاں انھوں نے ایم اے اور ایل ایل ایم کی ڈگریاں سینٹ جانز کالج کیمبرج یونیورسٹی سے حاصل کیں۔ 1906ء میں انھوں نے لنکن ان سے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا اور انڈین سول سروس کے امتحان میں ہندوستان بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔
عملی زندگی
[ترمیم]وہ مختلف انتظامی عہدوں پر فائز رہے۔ پہلی جنگ عظیم میں برطانیہ کی حمایت میں تقریر و تحریر کی صورت میں تعاون پر 1917ء میں سر کا خطاب ملا، 1925ء میں وہ اسلامیہ کالج لاہور کے پرنسپل، جامعہ پنجاب کے فیلو اور سنڈیکیٹ کے رکن منتخب ہوئے۔[2]
علامہ عبد اللہ یوسف علی نہایت عمدہ علمی ذوق رکھتے تھے۔ وہ زندگی کے آخری ایام میں اسلامیہ کالج لاہور کے پرنسپل مقرر ہوئے تھے۔ اسی زمانے میں انھوں نے قرآن پاک کا انگریزی میں ترجمہ مکمل کیا اور اس کے عمدہ حواشی لکھے۔
وہ لاہور سے نکلنے والے انگریزی روزنامہ ایسٹرن ٹائمز کے کچھ عرصہ مدیر بھی رہے۔
ہندوستان میں قیام کے دوران علامہ اقبال نے عبد اللہ یوسف علی کو اسلامیہ کالج لاہور کے پرنسپل کا عہدہ قبول کرنے پر آمادہ کیا، اس عہدہ پر وہ 1925ء سے 1927ء تک فائز رہے۔ 1928ء میں عبد اللہ یوسف علی اس متنازع مسلم وفد میں شامل تھے جو سر آغا خان کی قیادت میں لیگ آف نیشنز گیا تھا۔ اس وفد میں سر ملک فیروز خان نون بھی شامل تھے۔ اس وفد کا مقصد، لیگ آف نیشنز میں اسرائیل کے قیام کے لیے قرارداد کی حمایت تھا۔ برصغیر کے مسلمانوں نے اس وفد کی سخت مخالفت کی تھی۔ عبد اللہ یوسف علی اس کے بعد 1935ء سے 1937ء تک اسلامیہ کالج لاہور کے پرنسپل کی خدمات انجام دیتے رہے۔
تصانیف
[ترمیم]- قرآن مجید کا انگریزی ترجمہ (1934ء)
- انگریزی عہد میں ہندوستان کے تمدن کی تاریخ،
- مصنوعات ریشم،
- یوگوسلاویہ اور سربیاکا فن سنگ تراشی،
- ازمنہ وسطیٰ کا ہندوستان،
- تشکیل ہند
- ہندوستانی مسلمان
وفات
[ترمیم]عبد اللہ یوسف علی 10 دسمبر، 1953ء لندن، برطانیہ میں وفات پاگئے۔[2]
حوالہ جات
[ترمیم]- ^ ا ب ربط: https://d-nb.info/gnd/131272446 — اخذ شدہ بتاریخ: 5 مئی 2014 — اجازت نامہ: CC0
- ^ ا ب عقیل عباس جعفری، پاکستان کرونیکل، ورثہ / فضلی سنز، کراچی، 2010ء، ص 89
- 1872ء کی پیدائشیں
- 14 اپریل کی پیدائشیں
- ممبئی میں پیدا ہونے والی شخصیات
- 1953ء کی وفیات
- 10 دسمبر کی وفیات
- فیلو رائل سوسائٹی ادب
- اسلام اور سیاست
- انگریزی مترجمین قرآن
- بروک ووڈ قبرستان میں تدفین
- برطانوی اسماعیلی
- برطانوی ہند کی شخصیات
- بیسویں صدی کے بھارتی مترجمین
- بیسویں صدی کے مسلمان محققین اسلام
- بھارتی مسلم شخصیات
- پاکستانی ماہرین تعلیم
- پاکستانی مسلم شخصیات
- پاکستانی مصنفین
- پاکستانی معلمین
- پاکستانی مفسرین
- پاکستانی مورخین
- داؤدی بوہرہ
- سینٹ جانز کالج، کیمبرج کے فضلا
- علماء علوم اسلامیہ
- علمائے شیعہ
- لاہوری شخصیات
- ممبئی کی شخصیات
- ممبئی کے مصنفین
- ممبئی یونیورسٹی کے فضلا
- بھارتی اسماعیلی
- بھارتی سنی مسلمان
- شیعیت سے سنیت قبول کرنے والی شخصیات
- انڈین سول سروس (برطانوی ہند) کے افسران
- لنکنز ان کے ارکان
- مفسرین
- مہاراشٹر کی شخصیات
- تفسیر
- برطانوی شخصیات
- ٹائیگر ترمیمی دوڑ، 2018ء کے موقع پر تحریر شدہ مضامین
- مسلمان علما