فتح محمد خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
فتح محمد خان
مناصب
نواب ریاست بہاولپور (8 )   ویکی ڈیٹا پر منصب (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دفتر میں
20 فروری 1853  – 3 اکتوبر 1858 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png صادق محمد خان سوم 
محمد بہاول خان چہارم  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
تاریخ وفات 3 اکتوبر 1858  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نواب فتح محمد خان (صاحبزادہ حاجی خان) (وفات 1858ء) ریاست بہاولپور کے آٹھویں نواب تھے۔ آپ نواب محمد بہاول خان سوم کے بڑے بیٹے تھے۔ آپ نے پانچ سال حکمرانی کی۔ آپ کے جانشین نواب محمد بہاول خان چہارم بنے۔

سلسلہ نسب[ترمیم]

نواب آف بہاولپور عباس بن عبد المطلب کے خاندان سے ہیں ان کا شجرہ نسب کچھ یوں ہے

گرفتاری[ترمیم]

نواب صادق محمد خان سوم نے نواب محمد بہاول خان سوم کی زندگی میں ہی صاحب زادہ حاجی خان (نواب فتح محمد خان) کو دین گڑھ قلعے میں نظر بند کروادیا تھا اور اپنی دستار بندی کے اگلے دن ہی اس نے اسے دراوڑ سے 18 میل جنوب کی طرف فتح گڑھ بھجوا دیا اور نہایت سخت رویہ اپنایا۔ اسے زندہ رہنے کے لیے روزانہ صرف ایک بہاولپوری روپیہ اور بارہ چھٹاک آٹا دیا جاتا تھا۔ صرف ایک خادم اس کی خدمت پر مامور تھا اور ایک محافظ ہر وقت ننگی تلوار لیے اس کے سر پرپہرہ دیتا رہتا۔ اس سلوک نے داؤد پوتروں میں نفرت کی آگ کو ہوا دی

رہائی[ترمیم]

کیٹین ہول، سراج الدین اور دیگر پناہ گزینوں نے آدم واہن کو لما کے امیروں اور داؤد پوتروں کے ساتھ گٹھ جوڑ کا گڑھ بنایا۔ ان سب کا مقصد یہ تھا کہ عقیل خان، سردار خان اور احسن خان کی مدد سے صاحبزادہ حاجی خان کو تخت پر بیٹھایا جائے۔ نواب صادق محمد خان سوم کے خلاف سازش کرنے والوں نے بنگل خان، بہرام خان چوندیا، علی بخش دستی، احمد خان دستی، خدا بخش خان ہالانی، اللہ بچایا خان، محمد یار خان اور خان محمد خان کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا اور سب سازشیوں نے قرآن پر حلف لیا کہ شہزادہ حاجی خان کو بچائیں گے۔ چنانچہ 29 ربیع الثانی 1269ھ کو وہ ایک سو داؤد پوتروں کو لے کر فتح گڑھ کے لیے روانہ ہوئے اور رات کے وقت قلعے کے پھاٹک میں نقب لگانا شروع کی۔ قلعے کی فوج نے خوف زدہ ہو کر دروازے کھول دیے۔ داؤد پوتروں کے داخل ہونے پر ایک ہندو نے صاحبزادہ حاجی خان کو ہلاک کرنے کی کوشش کی لیکن علی بخش دستی نے اس کی کوشش ناکام بنا دی۔ علی بخش دستی حملہ آور سے چھینی ہوئی تلوار کا وار کر کے اسے مار ہی ڈالتا لیکن شہزادے نے مداخلت کر کے بچا لیا۔ سازشی شہزادے کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر تین میل تک لے گئے۔ اس کے بعد اونٹ پر سوار کر کے خان پور پہنچایا جہاں سراج الدین، کیپٹن ہول اور غلام محمد خان ملیزئی (جمعدار احمد خان کا بھائی) بھی ان سے آملے۔ دیگر داؤد پوترے اور لما کے چھوٹے موٹے امیر بھی آئے۔

بغاوت کے منصوبے[ترمیم]

صاحبزادہ حاجی خان کی رہائی کی خبر 9 فروری کو نواب صادق محمد خان سوم تک پہنچی اور اسے مشورہ دیا گیا کہ فوراً حاجی خان کے تعاقب میں روانہ ہو جائے لیکن اس نے تمام مشوروں کو رد کرتے ہوئے خان پور کے حکام کو ہی احکامات جاری کرنے پر ہی اکتفا کیا کہ شہزادے کو حراست میں لے لیا جائے۔ نواب کا یہ حکم کوئی کارروائی عمل میں لانے کے قابل نہیں ہوا کیونکہ حاجی خان اس جگہ پر پہلے ہی ایک نیا کمانڈر تعینات کر چکا تھا۔ جب صاحبزادہ حاجی خان کافی رسد، توپ خانے اور اسلحے کے ساتھ پانچ ہزار آدمیوں کی فوج جمع کر چکا تھا تب نواب نے محمد خان غوری کو اپنی افواج کا قائد بنایا اور جمعدار معز الدین خان خاکوانی کو اسی ہزار روپے دیے تا کہ سپاہیوں کو اکٹھا کیا جائے نیز حاجی خان کے ساتھیوں کو ورغلانے کے لیے سرفراز خان کو بھی اتنی ہی رقم دی گئی۔ تین دن بعد ساری فوج کی کمان معز الدین کو سونپی گئی اور فتح محمد کو کچھ دستوں کے ہمراہ احمد پور ایسٹ (شرقیہ) میں تعینات کر دیا گیا۔ حاجی خان نے سعادت یار خان کے افسروں کو خطوط بھیجے اور زیادہ تر کو اپنے ساتھ ملا لیا۔ صرف احمد پور ایسٹ (شرقیہ) کا تھانہ دار اور منشی سلامت رائے نے قاصدوں کو قید کر لیا۔ ان خطوط نے نواب کو شک میں مبتلا کر دیا کہ اس کے تمام افسران کو ورغلایا گیا ہو گا۔ نواب نے سلامت رائے کو مشن سونیا کہ اُبھا کے داؤد پوتروں کے ساتھ اتحاد کو مزید تقویت دی جائے لیکن بہت دیر ہو چکی تھی۔ فوج میں جمعدار معز الدین، شیرعلی شاہ، یوسف علی شاہ جبکہ دربار ہوں میں راجن بخش، سید خدا بخش، علی گوہر خان اور محمد رضا خان نے صاحبزادہ حاجی خان کو خفیہ طور پر یقین دہانی کروائی کہ اگر وہ احمد پور ایسٹ (شرقیہ) میں داخل ہوا تو کوئی مدافعت نہیں کی جائے گی۔

نواب کے خلاف بغاوت[ترمیم]

12 فروری 1853ء کو نواب کی افواج گوٹھ چی پہنچیں جہاں انہیں احمد خان دشتی اور بہرام خان چانڈیا کی زیر قیادت ایک بڑی فوج مخالفت کے لیے تیاری ملی۔ نواب کے سپہ سالاروں نے ہدایات مانگیں کہ آیا رکاوٹ ڈالیں یا انتظار کرنے کی پالیسی کے ذریعے دشمن پر ہیبت طاری کریں۔ جواب میں نواب نے معز الدین اور سردار خان لکوزئی کو حکم بھیجا کہ ہر سپاہی کو ایک گریجوئیٹی دیں اور یوں انہیں دشمن پر غلبہ پانے کی ترغیب دلائیں لیکن نواب کے احکامات ایمان داری سے آگے نہ پہنچائے گئے کیونکہ سرفراز خان نے کیولری کو ان کی گریجوئیٹی تو ادا کر دی لیکن انفنٹری کو کچھ بھی نہ ملا تو انہوں نے نواب کی مخالفت کا حلف اٹھایا۔ 15 فروری کو فقیر سراج الدین، علی گوہر خان اور احمد خان چونڈیا نے چار ہزار آدمیوں کے ہمراہ گوٹھ چینی کی طرف مارچ کیا اور نواب کی افواج کو مختلف وعدوں کے ذریعے بہانے پھسلانے لگے۔ نتیجتاً 17 فروری کو جھانسے میں آئے ہوئے سپاہی پانچ توپوں سمیت حاجی خان کے پاس چلے گئے جبکہ ان کے افسران (جن میں سے کچھ ایک پہلے ہی اس کی طرف مائل ہو چکے تھے ) اپنے گھروں کی طرف نکل گئے۔ 18 فروری کو حاجی خان خان پور کے معاملات سلجھانے کے بعد چودھری کے مقام پر پہنچا۔ راستے میں ملنے والے لوگوں نے اظہار اطاعت کیا۔ 19 فروری کو غروب آفتاب کے وقت وہ احمد پور ایسٹ (شرقیہ) میں داخل ہوا۔ شہر میں چراغاں کیا گیا اور سلامی کی توپیں فائز ہوئیں ۔ یہاں صاحبزادہ حاجی خان نے نواب فتح محمد خان کا خطاب اختیار کیا۔ 20 فروری کو قلعہ دراوڑ کی فوج نے نئے نواب کو پیغام اطاعت بھیجا۔ اس نے فقیر سراج الدین کو اپنی افواج کا کمان دار تعینات کرتے ہوئے حکم دیا کہ دراوڑ پر قبضہ کیا جائے ۔ اس کے وہاں پہنچنے پر قلعے کی فوج اس کے ساتھ مل گئی اور قلعہ بغیر مدافعت کے فتح ہو گیا

نواب کی گرفتاری[ترمیم]

منشی چوکس رائے اپنے اہل خانہ سمیت قلعے سے فرار ہوتے ہوئے پکڑا گیا اور اس کے قبضے سے دس ہزار طلائی مہریں اور زیور برآمد ہوئے۔ صلح نامہ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ لاہور جا کر انگریزوں سے مدد مانگنا چاہتا تھا۔ دراوڑ کی تسخیر کے بعد نواب صادق محمد خان سوم کو غلے کے ایک گودام میں قید کر لیا گیا اور اس کے حامیوں کو بیڑیاں ڈال دی گئیں۔ نیا نواب 22 فروری کو دراوڑ میں فاتحانہ داخل ہوا اور سعادت یار خان کی جان بخش دی۔

دستار بندی[ترمیم]

اگرچہ صاحبزادہ حاجی خان نے نواب فتح محمد خان کا خطاب اختیار کر لیا تھا لیکن قلعہ دراوڑ میں ان کی دستار بندی مورخہ 11 جمادی الثانی 1269ھ بمطابق 23 فروری 1853 کو ہوئی۔

کابینہ[ترمیم]

نواب فتح محمد خان نے درج ذیل افراد کو اپنی کابینہ میں شامل کیا

  • وزیر : فقیر سراج الدین
  • سپہ سلار : فقیر شاہ نور الدین
  • فوج کا کرنل : آقا اقبال
  • فوج کا کمان دار : عقیل محمد خان اچرانی
  • فوج کا بخشی : محمد یار خان اچرانی
  • توشہ خانہ کا سربراہ : فضل محمد کہیری
  • آب دار خانہ کا افسر : قابل محمد
  • پروانہ نویس : مولوی مظفر الدین
  • قاضی الضاة : مولوی جمیل الدین
  • احمد پور اور بہاولپور کا قاضی : قاضی محمود الدین
  • جمعدار : سردار خان اچرانی، محمد عارف، اسد اللہ خان اور اللہ بچایا
  • نجی امور کا آفیسر : نباہو رام
  • عدالتی (جج) : مولوی فیض محمد، قاضی احسان اللہ، مولوی ولی محمد

انعامات کی تقسیم[ترمیم]

14 جمادی الاول کو نواب فتح محمد خان نے افسروں اور ان امرا کے درمیان میں تحائف تقسیم کیے جن کی مدد سے وہ تخت پر بیٹھا تھا۔ اس نے کچھ ایک داؤد پوتروں اور امرا کا الاونس جاری رکھنے کا حکم دیا اور یوں اپنے خادموں اور امرا کو خوش کیا۔

منشی چوکس رائے کا قتل[ترمیم]

نواب فتح محمد خان نے سوچا کہ منشی چوکس رائے اگر زندہ رہا تو خطرہ پیدا ہوسکتا ہے لہذا فقیر الدین نے اسے قلعہ اسلام گڑھ بھیجا اور خفیہ ہدایت کی کہ راستے میں موقع دیکھ کر اسے قتل کر دیا جائے ۔ اس حکم پرعمل درآمد ہوا اور منشی کی لاش ریت کے ایک ڈھیر میں دبا دی گئی۔

معزول نواب کے متعلق انتظامات[ترمیم]

دستار بندی کے بعد نواب فتح محمد خان نے معزول نواب صادق محمد خان سوم کو بھانڈا (غلے کا گودام) سے نکال کر ایک راحت بخش مکان میں زیر حراست رکھا گیا۔ معزول نواب نے اپنے زیر قبضہ تاج اور زیور نواب فتح محمد خان کو بھیج دیے۔ نواب فتح محمد خان نے کمال فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف وہ سب واپس بھیج دیا بلکہ مزید کئی تحائف بھیجے اور بہت سے خادم بھجوائے نیز یقین دلایا کہ اس کے ساتھ رویے میں کوئی فرق نہیں آئے گا ماسوائے اس کے کہ وہ نظر بند رہے گا۔ نواب فتح محمد خان نے معزول نواب کے دیگر بھائیوں کو بھی رہا کر دیا اور ان کے ساتھ مہربانی سے پیش آئے۔

ملتان منتقلی[ترمیم]

5 مارچ 1853ء کو مقامی پولیٹکل ایجنٹ پیر ابراہیم خان نے نواب کو پنجاب کے چیف کمشنر سر جان لارنس کی طرف سے آیا ہوا ایک خط پیش کیا جس میں درخواست کی گئی تھی کہ معزول نواب کو اہل خانہ سمیت ملتان بھیج دیا جائے۔ نواب نے جواب میں لکھا کہ اسے برطانوی حکام کا حکم ماننے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں لیکن بہ امر حقیقت اس نے تخت پر بالکل جائز حق جتایا تھا اور وہ سعادت یار خان (نواب صادق محمد خان سوم) کا جانی دشمن نہیں تھا نیز اگر برطانوی حکام معزول نواب کو لاہور یا جالندھر بھیج دے تو اسے کوئی اعتراض نہ ہو گا لیکن برطانوی حکومت کو نواب فتح محمد خان کو بہاولپور کا حکمران تسلیم کرنا ہو گا۔ ملتان کا کمشنر مسٹر پی ایم ایجورتھ 30 مارچ کو بہاولپور پہنچا۔ نواب نے کمشنر سے درخواست کی کہ سعادت یار خان کو برطانوی حکام کے حوالے کر دینے کے لیے وہ تیار ہے بشرطیکہ وہ اپنے دعووں سے دست بردار ہو جائے اور اس سلسلے میں ایک باقاعدہ معاہدے پر دستخط کرے۔ چنانچہ سعادت یار خان کو یکم اپریل کو بہاولپور لایا گیا۔ مسٹر ایجورتھ نواب فتح محمد خان کی خواہش پر پیر ابراہیم خان کے ساتھ معزول نواب کے کیمپ میں گیا اور اسے بتایا کہ برطانوی حکام کی ہدایات کے مطابق اسے درج ذیل شرائط پر رہا کیا جاسکتا ہے

  1. اسے ریاست کے خزانے سے 1600 روپے ماہانہ بطور پنشن ملیں گے
  2. وہ لاہور یا جالندھر میں رہنے کا انتخاب کر سکتا ہے۔

معزول نواب نے یہ شرائط قبول کر لیں لیکن درخواست کی کہ اس کے بھائی اور ماں کو ساتھ ہی رہنے دیا جائے۔ شروع میں تو نواب فتح محمد خان نے اس درخواست پر اعتراض کیا لیکن انجام کارمسٹرایجورتھ کی سفارش پر راضی ہو گیا۔

  • عوامی دربار2 اپریل کو دوبارہ منعقد ہوا۔ ملتان کے کمشنر نے معزول نواب کی رہائی کی شرائط پڑھ کر سنائیں۔ اس کی دست برداری کا معاہدہ دستخط کروانے کے بعد فتح محمد خان کو دیا اور ایک نقل اپنے پاس رکھ لی۔ اسی دن شام کو سعادت یار خان اور اس کے اہل خانہ کو 100 سواروں کے محافظ دستے کے ہمراہ ملتان بھیجا گیا۔ بہاولپور شہر میں اس رات چراغاں ہوا اور سلامی کی توپیں فائر کی گئیں۔ برطانوی حکومت نے نئے نواب کوخلعت بھی بھیجی۔

سراج الدین کا قتل[ترمیم]

نواب فتح محمد خان کو تخت تک پہنچانے والوں میں مرکزی کردار فقیر سراج الدین کا تھا جس نے ایرانی داؤد پوتروں اور لما کے امیروں کو قائل کیا تھا کہ برطانوی حکام تخت نشینی کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی۔ سراج الدین نے اپنے منصوبوں کو اس قدر احتیاط کے ساتھ عملی جامہ پہنایا تھا کہ ایک جان بھی ضائع نہ ہوئی حالانکہ حریف دعویداروں کی افواج رو برو کھڑی تھیں لیکن اس دانش مندی کی وجہ سے ہی اس کے بہت سے دشمن بن گئے۔ عقیل خان، سردار خان، اسد خان اور دیگر اچرانی اور درباری اس کی خوشحالی اور اثر و رسوخ سے حسد کرنے لگے۔ اگرچہ سراج الدین نے داؤد پوتروں کی مدد سے انقلاب بپا کیا تھا لیکن وہ ان کی ہٹ دھرمی پر بھروسا نہیں رکھتا تھا اور فوج میں تعینات کیے گئے زیادہ تر قابل اعتماد افسران (جنہیں قلعہ دراوڑ میں لگایا گیا) اس کے اپنے رشتے دار اورعزیز تھے۔ اس طرح عقیل خان اچرانی کو موقع مل گیا اور اس نے 10 مئی 1853ء کی شام کو نواب فتح محمد خان کو اطلاع دی کہ قلعہ میں تمام افواج سراج الدین کی مرہون منت ہیں اور ان پر بھروسا نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس نے نواب کو مشورہ دیا کہ ان کی جگہ پر داؤد پوتروں کو لا نا چاہیے۔ کچھ ہچکچاہٹ کے ساتھ نواب نے 200 داؤد پوتروں کو قلعے میں آنے کی دعوت دی۔ اس کارروائی کے بارے میں سن کر فقیر سراج الدین محل میں گیا اور نواب کو پیغام بھیجا کہ اگر اس کی کارروائیوں کو اعتماد نہیں تو اسے مستعفی ہو جانا چاہیے۔ نواب نے اسے پیغام میں اگلی صبح تک انتظار کرنے کو کہا لیکن فقیر نے فی الفور اسد خان اور اللہ بچایا چرانی کو اسی رات احمد پور میں قید کروا دیا۔ اس نے ان کے خادموں کو بھی غیر مسلح کروایا اور احمد پور والی افواج کو دراوڑ بلوایا۔ وہ سورج طلوع ہونے کے وقت وہاں پہنچ گئیں۔ تب ایرانیوں نے نواب کو قائل کر لیا کہ فقیر اسے معزول کرنے کی تیاری کر رہا تھا تا کہ اس کے بھائی صاحبزادہ عبد اللہ خان کو تخت پر بیٹھا سکے۔ نواب کو اپنے لیے بدنیت پا کر فقیر نے دوبارہ استعفی پیش کیا لیکن اسے حکم دیا کہ اس وقت کہیں نہ جائے جب تک نواب کو برطانوی حکام سے تخت نشینی کی خلعت نہ مل جائے۔ جلد ہی سید سرور شاہ نے کھلم کھلا اس کی توہین کی جس پر فقیر نے اپنی تلوار نکالی اور اس پر چل پڑا لیکن حریفوں کو الگ الگ کر دیا گیا اور معاملہ رفع دفع ہو گیا۔ 11 مئی کو داؤد پوتروں نے فقیر اور اس کے بھائی نواز الدین پر پہرا لگا دیا اور تین چار روز بعد اسے نواب کی تعظیم کرنے سے روک دیا گیا۔ اس کے بعد فقیر سراج الدین کی ریاستی املاک قبضے میں لے لی گئی اور نامزد کردہ افراد کو عہدوں سے فارغ کر دیا گیا۔ 15 جون کو اس کے مخالفین نے الزام عائد کیا کہ فقیر سراج الدین کے ذمہ ریاست کے دولاکھ روپے واجب الادا تھے۔ اس رقم کا مطالبہ کیے جانے پر اس نے جواب دیا کہ سرور شاہ اور جمعدار احمد خان ملزنی کے آنے پر اس دعوے کا جواب دے گا۔ جب سرور شاہ فقیر کے پاس گیا اور ایسے الفاظ استعمال کیے کہ اس نے غصے میں آ کر سرور شاہ پر تلوار کا وار کر دیا۔ سرور شاہ زخمی نہ ہوا لیکن اس کے ساتھیوں نے فقیر پر حملہ کر کے اسے مار ڈالا۔ جمعدار احمد خان ملیزئی مقتول فقیر کی جگہ پر وزیر بنا۔

ریاست کی عسکری طاقت[ترمیم]

اس وقت ریاست کی عسکری طاقت 3743 بندوق بردار آدمیوں پرمشتمل تھی۔ اس فوج کی تنخواہ نواب دیتا تھا اور اس کے علاوہ داؤد پوترے ضرورت کے وقت عسکری ملازمت کے بدلے میں جا گیریں لیتے تھے۔ ان کی تعداد انداز بیس ہزار آدمی تھی۔

تعمیرات[ترمیم]

اس سال بہاولپور سے کوٹ سبزل تک ایک سڑک تعمیر کی گئی۔ 54-1853ء میں کراچی سے ایک سڑک کے لیے سروے بھی کیا گیا تھا۔ 1854 ء میں پٹیالہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم ہوئے۔

معزول نواب کا خط[ترمیم]

لاہور کے قلعے میں نظر بند سعادت یار خان کو دست برداری پر پچھتاوا ہوا کیونکہ اب اس کا نصف الاونس معطل کر دیا گیا۔ اس نے جیل سے ہی ایک خط داؤد پوتروں کے نام لکھا جونواب تک پہنچ گیا۔

نئے قوانین[ترمیم]

  1. حکم عدولی کرنے والوں کی تحویل کے قواعد 1854ء میں ڈپٹی کمشنر ملتان کے مشورے سے بنائے گئے۔
  2. 1855ء میں نواب کی سلامی 17 توپیں مقرر کی گئیں۔
  3. 1856ء میں 18 روپے 15 آنے اور 9 پیسے کے ٹرانزٹ واجبات ایسی تمام اشیاء پر لگائے گئے جو ریاست سے برآمد یا درآمد کی جاتی تھیں۔

نیا پولیٹکل ایجنٹ[ترمیم]

1855ء میں پیر عباس خان کی وفات پر پیر ابراہیم اس کی جگہ مقامی پولیٹکل ایجنٹ بنا۔

جنگ آزادی[ترمیم]

20 مئی 1857ء کو نواب کو سرسا کے سپرنٹنڈنٹ مسٹر آلیور کی جانب سے ایک خط وصول ہوا جس میں درخواست کی گئی کہ بہاول گڑھ میں رکھی گئی افواج کو فاضلکا بھیجا جائے۔ چنانچہ 200 سوار روانہ کر دیے گئے۔ بعد ازاں چیف کمشنر کی درخواست پر 500 سوار اور 500 پیدل سپاہی سرسا کی جانب بھیجے گئے اور انجام کار ریاست نے تمام تین ہزار آدمی روانہ اس طرف روانہ کر دی گئی۔

وفات[ترمیم]

نواب کی صحت ایک ملاح کی موت سے متاثر ہوئی جسے نواب کی خلوت گاہ میں نادانستہ مداخلت کی سزا دی گئئی تھی۔ نواب فتح محمد خان نے 22 صفر 1275ھ بمطابق 3 اکتوبر 1858ء میں وفات پائی۔ [2] نواب کا وصال قلعہ دراوڑ میں ہوا اور ان کی تدفین دراوڑ کے شاہی قبرستان میں کی گئی۔ [3]

اولاد[ترمیم]

نواب فتح محمد خان نے اپنے پیچھے دو بیٹے چھوڑے

  1. صاحبزادہ رحیم یار خان (نواب محمد بہاول خان چہارم)
  2. صاحبزادہ محبت خان [4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. گزیٹر آف ریاست بہاولپور 1904ء مولف محمد دین اردو مترجم یاسر جواد صفحہ 231
  2. گزیٹر آف ریاست بہاولپور 1904ء مولف محمد دین اردو مترجم یاسر جواد صفحہ 94 تا 100
  3. http://www.mybahawalpur.com/nawabs-of-bahawalpur/
  4. گزیٹر آف ریاست بہاولپور 1904ء مولف محمد دین اردو مترجم یاسر جواد صفحہ 100