مبارک جمعہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مبارک جمعہ
Wüger Kreuzigung.jpg
مسیح صلیب پر۔
قسممسیحی
اہمیتتصلیب مسیح اور یسوع مسیح کی موت کی یاد میں
تقریباتکوئی روایتی جشن نہیں
رسوماتعبادات، دعائیں و عبادات شب, روزہ، خیرات دینا
تاریخایسٹر کے فوراً بعد کا جمعہ
2019ء  تاریخ
  • اپریل 19 (مغربی کلیسیائیں)
  • اپریل 26 (مشرقی کلیسیائیں)
2020ء  تاریخ
  • اپریل 10 (مغربی کلیسیائیں)
  • اپریل 17 (مشرقی کلیسیائیں)
2021 تاریخ
  • اپریل 2 (مغربی کلیسیائیں)
  • اپریل 30 (مشرقی کلیسیائیں)
2022 تاریخ
  • اپریل 15 (مغربی کلیسیائیں)
  • اپریل 22 (مشرقی کلیسیائیں)
تکرارسالانہ
منسلکعید فسح، کرسمس (ولادت یسوع مسیحراکھ کا بدھ، لینٹ، کھجور کا اتوار، ایسٹر، صعود مسیح، پنتکست۔
پانڈیچری کے آرچ بشپ مائیکل آگسٹائن گڈ فرائی ڈے کے موقع پر صلیب تھام کر آگے بڑھتے ہوئے۔

دنیا بھر میں مسیحی برادری ایسٹر اتوار سے پہلے جمعے کے روز کو مبارک جمعہ، جمعۂ عظیمہ یا گڈ فرائڈے کے طور پر مناتی ہے۔ مسیحی عقائد کے مطابق یہ دن روزوں کے ایام کے آخری جمعہ کو یسوع مسیح کو صلیب پر چڑھانے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ مسیحیوں کے روزوں کے ایام کی اختتامی تقریبات کا آغاز اس پہلے اتوار سے پام سنڈے یا کھجوروں کے اتوار سے ہوتا ہے۔ یہ تقریبات جمعرات کو عروج پر پہنچتی ہیں، جب عقیدہ ہے کہ یسوع مسیح کو گرفتار کیا گیا تھا۔ جمعہ کو جمعۂ عظیمہ’ کے حوالے سے دنیا بھر میں بھی اسی نوعیت کی عبادتی تقریبات منعقد ہوتی ہیں۔ ان عبادتی اجتماعات کا مقصد دراصل مسیح کے ان دکھوں کو یاد کرنا ہے، جو انہوں نے اپنی صلیب پر سہے۔ جمعۂ عظیمہ کے بعد اب ایسٹر یا عید قیامت المسیح (یا عید الفصح) اتوار کو منایا جاتا ہے۔[1]

مسیحی عقائد اور روایتی عمل[ترمیم]

صلیب کا نشان عام طور سے مسیحیوں کے لیے ایک پاک نشان مانا جاتا ہے جیسا کہ اکثر مسلمان الله کے 786 کے ہندسے کو پاک مانتے ہیں. صلیب نہ صرف ان کا پاک نشان ہے بلکہ ان اصحاب کی پہچان، طاقت اور ایمان ہے.[2]

مسیحی لوگ اس مبارک یا مُقّدس جمعہ کو گڈ فرائیڈے کیوں کہتے ہیں جب کہ یہودیوں اور رومیوں نے جو ان کے خداوند یسوع المسیح کے ساتھ کیا وہ بلکل بھی گڈ یا اچھا نہیں تھا۔ مسیحی وہ سب جو دکھ اُنہوں نے سہے انجیل مُقّدس میں متی کی انجیل اس کے 26 اور 27 باب میں دیکھ سکتے ہیں. جبکہ خداوند یسوع المسیح کی موت کے بہت اچھے نتائج سامنے آ ئے اور اُن کی صلیب کی موت نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ اپنے وعدے کے مطابق اور اپنے آسمانی باپ کی مرضی کے مطابق سب برداشت کریں گے اور اُن کے ہلاک ہونے سے لوگ سب زندگیاں پائیں گے شاید اسی وجہ سے مسیحی اس مُقّدس جمعہ کو گڈ فرائیڈے کہتے ہیں۔[3]

شریعتِ کلیسیا کا تقاضا ہے کہ گوشت کھانے سے پرہیز کِیا جائے۔ تازہ بہ تازہ ہدایات کے بموجب تو سال کے تمام ایامِ جمعہ گوشت سے اجتناب کے دنوں کے طو رپر گُزرنا چاہییں۔ ہاں جمعہ اگر کِسی عید یامسیحی تیوہار پر آجائے تو استثنا حاصل ہے۔ روزے کے بارے میں حُکمِ ربّانی کے ساتھ ساتھ سر پر راکھ ڈالنے سے موسم مسیحی چلّے کے پہلے دِن اور پاشکا سے پہلے کا مُبارک جمعہ جس روز پاک خُداوند یسُّوع مسیح کے مصلُوب ہونے کی یاد منائی جاتی ہے گوشت کھانا منع ہے، تمام کیتھولک مسیحیوں پر 14 برس کی عُمر سے ہی احتراز برتنے کی یہ پابندی شُرُوع ہو جاتی ہے۔ مسیحی بچوں کو بھی کفارہ کے طور پر اس نفس کُشی کے احکامات سے اچھّی طرح باخبر کِیا جائے۔ گُذرے دنوں میں پہلے کے دیگر احکامات تمام کلیسیاﺅں پر جو لاگو تھے پائینی تیمینی کی طرف سے بتاریخ 12 فروری1966ع منسوخ کر دیے گئے تھے۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]