معاہدہ نانکنگ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
معاہدہ نانکنگ (نانجنگ)
Treaty of Nanking (Nanjing)
عزت مآب ملکہ برطانیہ عظمی و آئر لینڈ اور شہنشاہ چین کے مابین امن، دوستی اور تجارتی معاہدہ
Treaty of Peace, Friendship, and Commerce Between Her Majesty the Queen of Great Britain and Ireland and the Emperor of China[1]
{{{image_alt}}}
ایچ ایم ایس کورنوالس پر معاہدے پر دستخط
دستخط 29 اگست 1842ء (1842ء-08-29)
موثر 26 جون 1843ء (1843ء-06-26)
شرط توثیق تا تبادلہ
فریق
زبانیں انگریزی اور چینی
Treaty of Nanking at Wikisource
معاہدہ نانکنگ
روایتی چینی 南京條約
سادہ چینی 南京条约

معاہدہ نانکنگ (نانجنگ) (انگریزی: Treaty of Nanking (Nanjing)) (چینی: 南京条约) پہلی افیونی جنگ (1839ء–42ء) کے اختتام پر متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ اور چین کے چنگ خاندان کے درمیان 29 اگست 1842ء کو ہونے والا ایک امن معاہدہ تھا۔ یہ وہ پہلا معاہدہ تھا جس کو بعد میں چینیوں نے غرو مساوی قرار دیا۔ [2]

چین کی فوجی شکست کے تناظر میں، برطانوی جنگی جہازوں نے نانکنگ (نانجنگ) پر حملہ کر دیا۔ برطانیہ اور چینی حکام نے ایچ ایم ایس کورنوالس پر جو 29 اگست کو شہر میں لنگر انداز ہوا پر ایک امن معاہدے پر دستخط کیے۔ برطانوی نمائندہ سر ہینری پاٹینجر جنگ نمائندوں چیئینگ، یئلیبو اور نیو جیان نے معاہدے پر دستخط کیے جو تیرہ جزو پر مشتمل تھا۔

اس معاہدے کی توسیق شہنشاہ داوگوانگ نے 27 اکتوبر جبکہ ملکہ وکٹوریہ نے 28 دسمبر کو کی۔ توسیق شادہ دستاویز کا تبادلہ برطانوی ہانگ کانگ میں 26 جون 1843ء کو ہوا۔ اس معاہدے کا ایک نسخہ برطانوی حکومت نے جبکہ دوسرا نسخہ جین کی وزارت خارجہ نے قومی محل تائپے میں رکھا۔

پس منظر[ترمیم]

معاہدے کے مضامین کا اولین مسودہ محکمہ خارجہ ودولت مشترکہ برطانیہ نے فروری 1840ء میں لندن میں تیار کیا۔ دفتر خارجہ کو معلوم تھا کہ چینی اور انگریزی حروف پر مشتمل معاہدے کی تیاری کے لیے خاص توجہ کی ضرورت ہو گی۔ ملکوں کے درمیان فاصلے کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ احساس ہوا کہ معاہدوں کی تیاری کے طریقہ کار سے کچھ لچک کی ضرورت ہوسکتی ہے۔ [3]

شرائط[ترمیم]

معاہدہ نانکنگ ایک ایک نقل

غیر ملکی تجارت[ترمیم]

اس معاہدے کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ غیر ملکی تجارت کے کینٹن نظام کو تبدیل کیا جائے، جو 1760ء سے لاگو تھا۔

تلافی اور فوجوں کی واپسی[ترمیم]

چنگ حکومت کو برطانیہ کی افیون کو 1839ء میں ضبط کرنے کی مد میں چھ ملین چاندی کے ڈالر ادا کرنے پڑے۔ (آرٹیکل 4)۔ 3 ملین ڈالر ان قرضوں کے لیے معاوضہ جو کینٹن میں ہانگ تاجروں نے برطانوی تاجروں سے حاصل کیے تھے۔ (آرٹیکل 5) اور جنگ کے اخراجات کے لیے مزید 12 ملین ڈالر (آرٹیکل 6) [4]

چنگ حکومت جنگ کے تمام برطانوی جنگی قیدیوں کو رہا کرے گی۔ (آرٹیکل 8) اور ان تمام چینی رعایا کو جنہوں نے جنگ کے دوران برطانیہ کے ساتھ تعاون کیا انہیں عام معافی دی جائے گی۔ (آرٹیکل 9) [4]

ہانگ کانگ کی حوالگی[ترمیم]

چیگ حکومتے نے جزیرہ ہانگ کانگ کو تاج نوآبادی بنانے پر اتفاق کیا۔ 1 جولائی 1997ء کو معاہدے کے اختتام پر مملکت متحدہ نے ہانگ کانگ کو عوامی جمہوریہ چین کو واپس لوٹا دیا۔ [5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Mayers, William Frederick (1902). Treaties Between the Empire of China and Foreign Powers (4th ed.). Shanghai: North-China Herald. p. 1.
  2. Hoe, Susanna; Roebuck, Derek (1999). The Taking of Hong Kong: Charles and Clara Elliot in China Waters. Routledge. p. 203. ISBN 0-7007-1145-7.
  3. Wood, R. Derek (May 1996). "The Treaty of Nanking: Form and the Foreign Office, 1842–43". The Journal of Imperial and Commonwealth History 24 (2): 181–196.
  4. ^ ا ب Treaty of Nanking
  5. Constitutional and Mainland Affairs Bureau, The Government of the HKSAR. "The Joint Declaration" and following pages, 1 July 2007.