منشی ہرسکھ رائے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
منشی ہرسکھ رائے
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1816  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
بلندشہر ضلع،  برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات 2 دسمبر 1890 (73–74 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ صحافی،  مدیر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان اردو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل ادارت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
کارہائے نمایاں کوہ نور (اخبار)،  جام جمشید  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کارہائے نمایاں (P800) ویکی ڈیٹا پر

منشی ہرسکھ رائے (انگریزی: Munshi Harsukh Rai)، (پیدائش: 1816ء - وفات: 2 دسمبر، 1890ء) غیر منقسم ہندوستان کے نامور صحافی تھے۔ انہوں نے میرٹھ سے نکلنے جاری ہونے والے اخبار جام جمشید کی ادارت کی اور 1850ء میں لاہور سے پنجاب کا پہلا اردو اخبار کوہ نور نکالا۔ ہرسکھ رائے کو کوہ نور کی بدولت ہندوستان گیر شہرت حاصل ہوئی۔ لاہور کی مجلسی زندگی میں وہ بے حد مقبول تھے۔ وہ لاہور شہر کے میونسپل کمشنر بھی رہے۔

حالات زندگی و خدمات[ترمیم]

منشی ہرسکھ رائے 1816ء کو سکندرآباد، ضلع بلندشہر کے ایک کائیستھ خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کا گھرانہ علمی روایات کا حامل تھا۔ اردو اور فارسی ادب کی تعلیم حاصل کی۔ اخبار کوہِ نور کے اجرا سے قبل میرٹھ کے اخبار جام جمشید کی ادارت کے فرائض بھی انجام دے چکے تھے۔ 34 سال کی عمر میں لاہور آئے اور 14 مئی 1850ء کو پنجاب سے اردو کا پہلا ہفت روزہ اخبار کوہ نور نکالا۔ یہ اخبار پنجاب کے بورڈ آف ایڈمنسڑیشن کی سرپرستی میں نکلتا تھا اور حکومت کی وضع کردہ پالیسی کے مطابق مرتب کی جاتا تھا۔[1] منشی ہرسکھ رائےانگریزوں کے بہی خواہ تھے اور ان کا اخبار سرکاری سرپرستی میں نکلتا تھا لیکن اس کے باوجود وہ نا صرف راست گو اور بے خوف قسم کے صحافی تھےبلکہ ان کا ذہن نہایت رسااور خیالات نہات بلند تھے، وہ اخبار کا وجود ملک و قوم کی بقا کے لیے بے حد ضروری سمجھتے تھے۔[2]

1857ء کی جنگ آزادی سے ایک سال قبل ہرسکھ رائے اچانک گرفتار کر لیے گئے۔ غالباً ان کے خلاف ازالہ حیثیتِ عرفی کا مقدمہ تھا، جس میں انہیں تین سال قید کی سزا سنائی گئی۔ اسی برس انہوں نے لاہور سے ایک رسالہ خورشیدِ پنجاب نکالا۔ یہ 50 صفحات پر مشتمل تھا اور مطبع کوہ نور میں چھپتا تھا۔ ہر سکھ رائے گرفتار ہوئے تو کوہِ نو کی اشاعت میں فرق نہیں آیا اور اسے منشی ہیرا لعل باقاعدگی سے نکالتے رہے۔[3] حکومت نے جب تحصیلِ زر کے لیے مہینے بھر کی قید بھگت لینے والے قیدیوں سے پانچ پانچ روپے وصول کر کے رہا کرنا شروع کیا تو منشی ہرسکھ بھی دو سو روپے کے عوض رہا کر دیے گئے۔ ہر سکھ رائے نے پنجاب میں اردو زبان کو فروغ دینے اور تعلیم کو پھیلانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ وہ اردو کی ترویج و اشاعت کے لیے ہفتہ وار مشاعرے منعقد کراتے تھے اور مشاعرے کے شعرا کی منتخب غزلیں کوہِ نور اخبار میں شائع کر دیتے تھے۔ لاہور کی مجلسی زندگی میں وہ نمایاں اور مقبول تھے۔ وہ لاہور کے میونسپل کمشنر بھی بنائے گئے۔ ان کا شمار شہر کے معززین میں ہوتا تھا۔ جب وہ ریاست جموں و کشمیر میں قدم رکھتے تھے تو مہاراجا کا ہاتھی ان کی سواری کے لیے موجود ہوتا تھا اور شاہی مہمان خانے سے رخصت ہوتے وقت مہاراجا کی طرف سے 1100 روپے رخصتانہ بھی دیا جاتا تھا۔[4]

وفات[ترمیم]

منشی ہرسکھ رائے 2 دسمبر 1890ء کو انتقال کر گئے۔[4]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مولوی محبوب عالم، اردو صحافت کی ایک نادر تاریخ، مغربی پاکستان اردو اکیڈمی، لاہور، 1992ء، ص 261
  2. نادر علی خاں، اردو صحافت کی تاریخ، ایجوکیشنل بک ہاؤس، علی گڑھ، 1987ء، ص 294
  3. مولوی محبوب عالم، اردو صحافت کی ایک نادر تاریخ، مغربی پاکستان اردو اکیڈمی، لاہور، 1992ء، ص 262
  4. ^ ا ب مولوی محبوب عالم، اردو صحافت کی ایک نادر تاریخ، مغربی پاکستان اردو اکیڈمی، لاہور، 1992ء، ص 263