منظور حسین شور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
پروفیسر منظور حسین شور
پیدائش منظور حسین
جولائی 1910(1910-07-00)خطاء تعبیری: غیر متوقع > مشتغل۔ء

امراوتی، برطانوی ہندوستان
وفات 8 جولائی 1994(1994-07-08)ء
کراچی، پاکستان
قلمی نام شور
پیشہ شاعر، نقاد، معلم
زبان اردو
نسل مہاجر
شہریت Flag of پاکستانپاکستانی
تعلیم ایم اے
مادر علمی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
اصناف شاعری،تنقید
نمایاں کام صلیب انقلاب
دیوارِ ابد
نبضِ دوراں

پروفیسر منظور حسین شور (پیدائش: جولائی، 1910ء - وفات: 8 جولائی، 1994ء) اردو اور فارسی کے ممتاز شاعر، نقاد اور ماہرِ تعلیم تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

منظور حسین شور جولائی، 1910ء کو امراوتی، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے[1]۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اردو، فارسی اور انگریزی میں ایم اے کیا۔ درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئے۔ 1938ء میں ناگپور یونیورسٹی کے شعبۂ ادبیات فارسی او راردو میں بطور ریڈر صدر شعبہ تقرر ہوا۔ اس کے علاوہ وہ جامعہ عثمانیہ سے بھی منسلک رہے۔ تقسیم ہند کے بعد وہ پاکستان آ گئے اور پروفیسر کی حیثیت سے پہلے زمیندار کالج گجرات، پھر اسلامیہ کالج اور گورنمنٹ کالج لائل پور (فیصل آباد) سے منسلک رہے۔ ریٹائر منٹ کے بعد شور کراچی آ گئے اور جامعہ کراچی میں درس وتدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔[2]۔

ادبی خدمات[ترمیم]

شور نظم اور غزل پر یکساں قدرت رکھتے تھے۔ جدید تراکیب کی ان کے کلام میں فراوانی پائی جاتی۔ ان کی نظموں میں جوش ملیح آبادی کی طرح گھن گھرج بھی ہوتی ہے اور فکری رفعت بھی۔[3] ان کا پہلا شعری مجموعہنبض دوراں کے نام سے 1959ء میں شائع ہوا۔ اس کے بعد کے مجموعے بالترتیب دیوار ابد، سواد نیم تناں، میرے معبود، صلیب انقلاب، ذہن وضمیر شائع ہوئے۔[2]

تصانیف[ترمیم]

  • صلیب انقلاب
  • دیوارِ ابد
  • سواد نیم تنا
  • نبضِ دوراں
  • ذہن و ضمیر
  • میرے معبود

نمونۂ کلام[ترمیم]

غزل

دیدہ و دانستہ دھوکا کھا گئےہم فریبِ زندگی میں آ گئے
جب ہجومِ شوق سے گھبرا گئےکھو گئے خود اور تم کو پا گئے
چین بھی لینے نہیں دیتے مجھےمیں ابھی بھولا تھا پھر یاد آ گئے
میں کہاں جاؤں نظر کو کیا کروںآپ تو ساری فضا پر چھا گئے
دل ہی دل میں اف وہ درد ناگہاںآنکھوں ہی آنکھوں میں کچھ سمجھا گئے
رخ سے آنچل بھی نہ سرکا تھا ابھینیچی نظریں ہو گئیں شرما گئے
اف یہ غنچوں کاتبسم یہ بہارحیف اگر یہ غنچے کل مرجھا گئے
جس قدر غنچے کھلے تھے نو بہ نومیری آنکھوں سے لہو برسا گئے
پوچھتے کیا ہو ان اشکوں کا سببواقعاتِ رفتہ پھر یاد آ گئے
اب تو شور اپنا فسانہ ختم کران کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے

وفات[ترمیم]

منظور حسین شور 8 جولائی، 1994ء کو کراچی، پاکستان میں وفات پاگئے اور سخی حسن کے قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔[1][2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پاکستان کرونیکل، عقیل عباس جعفری، ص 746، ورثہ / فضلی سنز، کراچی، 2010ء
  2. ^ ا ب پ شور علیگ، ریختہ ویب بھارت
  3. ص 35، دبستانِ کراچی کے ممتاز شعرا (حصہ اول)، نعیم الحق صبا ضیائی، بزمِ شعور و دانش کراچی، 1990ء