چو این لائی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
چو این لائی
(چینی میں: 周恩來 خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Zhou Enlai MeiyuanXincun17 Nanjing 1946.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 5 مارچ 1898[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
وفات 8 جنوری 1976 (78 سال)[3][1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
بیجنگ[4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of the People's Republic of China.svg چین
Flag of the Qing Dynasty (1889-1912).svg چنگ خاندان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
آبائی علاقہ شاوشنگ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آبائی شہر (P66) ویکی ڈیٹا پر
جماعت کیمونسٹ پارٹی چین  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ واسیدا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سیاست دان[5]،سفارت کار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان چینی زبان[6]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
ملازمت جامعہ پیرس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر
دستخط
Zhou Enlai Signature.svg 
ویب سائٹ
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی  بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

چو این لائی چین کے کمیونسٹ رہنما۔ بورژوا خاندان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ٹین سین کے ایک مشنریاسکول میں پائی۔ 1917ء میں گریجوایشن کرنے کے بعد مزید تعلیم کے لیے جاپان گئے۔ یہیں ایک پروفیسر نے انھیں مارکسزم کی طرف راغب کیا۔ 1919ء میں چین واپس آئے۔ اس وقت چین سیاسی افراتفری کا شکار تھا۔ چو این لائی نے دوستوں کی مدد سے ایک سٹڈی گروپ قائم کیا اور انقلابی تحریکوں میں سرگرم حصہ لینے لگے۔ جس پر انھیں چند ماہ قید و بند میں کاٹنا پڑے۔

رہائی کے بعد چار سال 1920ء سے 1924ء تک پیرس میں رہے اور جزوقتی کام کرکے تعلیم جاری رکھی۔ یہاں ان کی ملاقات عظیم ویت نامی انقلابی ہوچی منھ اور دوسرے ایشیائی اشتراکی لیڈروں سے ہوئی۔ بعد ازاں کچھ دن جرمنی میں گزارے۔ 1924ء کے اواخر میں چین، واپس آ گئے۔ اس دوران میں روس کی کوششوں سے سین یات سن کو کومن تانگ پارٹی اور کیمونسٹوں کے درمیان میں اتحاد ہو گیا۔ چوو ہامپوآ ملٹری اکیڈیمی میں پولیٹکل ڈائریکٹر مقرر ہو گئے۔ جس کا سربراہ چیانگ کائی شیک تھا۔ یہیں سے انھیں سیاسی عروج حاصل ہوا۔ اور 1927ء میں وہ کیمونسٹ پارٹی کی پولٹ بیورو کے رکن منتخب ہوئے۔

جب کمیونسٹوں اور چیانگ کائی شیک کے مابین ان بن ہوئی اور چیانگ نے کمیونسٹوں کو چن چن کر قتل کرنا شروع کیا تو چو فرار ہو کر پہلے ہانگ کانگ اور پھر روس پہنچے۔ کچھ عرصے بعد شنگھائی واپس آئے اور یہاں دو سال رہنے کے بعد جنوبی صوبہ کیانگسی چلے گئے، جو ان دونوں کیمونسٹ پارٹی کا دیہاتی مرکز تھا۔ اور اس کے سربراہ ماؤزے تنگ تھے۔ یہیں ان دونوں کی لازوال رفاقت کی داغ بیل پڑی۔ جب ماؤزے تنگ نے سرخ فوج کے ساتھ لانگ مارچ ’’لمبا سفر، جو کیانگسی سے شروع ہو کر ہو کر شمال میں 6000 میل دور ایک نئے دیہی مرکز میں ختم ہوتا تھا‘‘ کیا تو چو این لائی نے باوجود علالت کے اس میں شرکت کی۔

1936ء کے اواخر میں جاپان نے چین پر حملہ کیا تو چیانگ کائی شیک نے کمیونسٹوں سے صلح کر لی۔ اس دوران میں چو این لائی نے چینی حکومت کے افسر رابطہ کی حیثیت سے کام کیا او راپنی بے پناہ ذہانت اور تدبر سے غیر ملکی سفارت کاروں کو گرویدہ بنا لیا۔ 1949ء میں ماؤزے تنگ کی زیر قیادت کمیونسٹوں نے چیانگ کائی شیک کی امریکا نواز حکومت کو شکست فاش دی۔ چو این لائی نئی انقلابی حکومت میں وزیر اعظم اور وزیر خارجہ مقرر ہوئے۔ انھوں نے وزیر خارجہ کی حثیت سے کوریا میں جنگ بندی مذکرات میں حصہ لیا اور 1954ء میں فرانس ہند چینی جنگ کے خاتمے پر جینوا میں مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔ انھی کی مساعی سے 1955ء میں بنڈونگ کانفرنس منعقد ہوئی۔ اور انھی کی رہنمائی میں پنج شیل کے اصول مرتب کیے گئے۔ تادم واپسیں وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb118967765 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. ^ ا ب ایس این اے سی آرک آئی ڈی: http://snaccooperative.org/ark:/99166/w60p14kc — بنام: Zhou Enlai — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. فصل: 32 — مصنف: Immanuel C.Y. Hsü — عنوان : The Rise of Modern China — اشاعت ششم — صفحہ: 763 — ناشر: اوکسفرڈ یونیورسٹی پریسISBN 978-0-19-512504-7
  4. اجازت نامہ: CC0
  5. اجازت نامہ: CC0
  6. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb118967765 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ