جبران خلیل جبران

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
خلیل جبران
پیدائش جبران خلیل جبران بن میخائیل بن سعد
6 جنوری 1883 (1883-01-06)
Bsharri, Mount Lebanon Mutasarrifate, Ottoman Syria (موجودہ لبنان)
وفات 10 اپریل 1931 (عمر 48 سال)
نیویارک شہر ، امریکہ
پیشہ شاعر, Painter, مجسمہ ساز, مصنف, فلسفی, Theologian, Visual Artist
قومیت لبنانی - امریکی
صِنف شاعری, Parable, داستان
ادبی تحریک Mahjar, New York Pen League
نمایاں کام The Prophet

خلیل جبران (اصل نام: جبران خلیل جبران بن میکائیل بن سعد[1]) جو کہ لبنانی نژاد امریکی فنکار، شاعر اور مصنف تھے۔ خلیل جبران جدید لبنان کے شہر بشاری میں پیدا ہوئے جو ان کے زمانے میں سلطنت عثمانیہ میں شامل تھا۔ وہ نوجوانی میں اپنے خاندان کے ہمراہ امریکہ ہجرت کر گئے اور وہاں فنون لطیفہ کی تعلیم کے بعد اپنا ادبی سفر شروع کیا۔ خلیل جبران اپنی کتاب The Prophet کی وجہ سے عالمی طور پر مشہور ہوئے۔ یہ کتاب 1923ء میں شائع ہوئی اور یہ انگریزی زبان میں لکھی گئی تھی۔ یہ فلسفیانہ مضامین کا ایک مجموعہ تھا، گو اس پر کڑی تنقید کی گئی مگر پھر بھی یہ کتاب نہایت مشہور گردانی گئی، بعد ازاں 60ء کی دہائی میں یہ سب سے زیادہ پڑھی جانے والی شاعری کی کتاب بن گئی۔ [2] یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جبران ولیم شیکسپئیر اور لاؤ تاز کے بعد تاریخ میں تیسرے سب زیادہ پڑھے جانے والے شاعر ہیں۔[3]

نوجوانی[ترمیم]

لبنان میں[ترمیم]

جبران عیسائی اکثریتی شہر بشاری میں پیدا ہوئے۔ جبران کے والد ایک عیسائی پادری تھے۔[4] جبکہ جبران کی ماں کملہ کی عمر 30 سال تھی جب جبران کی پیدائش ہوئی، والد جن کو خلیل کے نام سے جانا جاتا ہےکملہ کے تیسرے شوہر تھے۔ [5] غربت کی وجہ سے جبران نے ابتدائی سکول یا مدرسے کی تعلیم حاصل نہیں کی، لیکن پادریوں کے پاس انھوں نے انجیل پڑھی، انھوں نے عربی اور شامی زبان میں انجیل کا مطالعہ کیا اور تفسیر پڑھی۔
جبران کے والد پہلے مقامی طور پر نوکری بھی کرتے تھے، لیکن بے تحاشہ جوا کھیلنے کی وجہ سے قرضدار ہوئے اور پھر سلطنت عثمانیہ کی ریاست کی جانب سے مقامی طور پر انتظامی امور کی نوکری کی۔[6]اس زمانے میں جس انتظامی عہدے پر وہ فائز ہوئے وہ ایک دستے کے سپہ سالار کی تھی، جسے جنگجو سردار بھی کہا جاتا تھا۔[7]
1891ء یا اسی دور میں جبران کے والد پر عوامی شکایات کا انبار لگ گیا اور ریاست کو انھیں معطل کرنا پڑا اور ساتھ ہی ان کی اپنے عملے سمیت احتسابی عمل سے گزرنا پڑا۔ [8] جبران کے والد قید کر لیے گئے۔ [2] اور ان کی خاندانی جائیداد بحق سرکار ضبط کر لی گئی۔ اسی وجہ سے کملہ اور جبران نے امریکہ ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا جہاں کملہ کے بھائی رہائش پذیر تھے۔گو جبران کے والد کو 1894ء میں رہا کر دیا گیا مگر کملہ نے جانے کا فیصلہ ترک نہ کیا اور 25 جون 1895ء کو خلیل، اپنی بہنوں ماریانا اور سلطانہ، اپنے بھائی پیٹر اور جبران سمیت نیویارک ہجرت کر لی۔[6]

امریکہ میں[ترمیم]

خلیل جبران کی تصویر، فرائیڈ ہالیڈے نے 1898ء میں لی

جبران کا خاندان بوسٹن کے جنوبی حصے میں رہائش پذیر ہوا، اس حصے میں اس وقت شامی اور لبنانی نژاد امریکیوں کی کثیر تعداد رہائش پذیر تھی۔[9] امریکہ میں جبران کو سکول میں داخل کروایا گیا اور سکول کے رجسٹر میں ان کا نام غلطی سے خلیل جبران درج ہوا اور پھر یہی نام ان کا سرکاری کاغذات میں منتقل ہوتا رہا۔[10]


جبران کی والدہ نے کپڑے کی سلائی کا کام شروع کیا اور لیس اور لینن کا کام کر کے گھر گھر جا کر بیچنا شروع کر دیا۔[8] جبران نے 30 ستمبر 1895ء کو سکول کی تعلیم شروع کی۔ سکول کی انتظامیہ نے انھیں ہجرت کرکے آنے والے طالبعلموں کی مخصوص جماعت میں داخل کیا تاکہ وہ انگریزی زبان سیکھ سکیں۔ سکول کے ساتھ ساتھ جبران نے اپنے گھر کے پاس ہی ایک فنون لطیفہ کے سکول میں بھی داخلہ لے لیا۔ فنون لطیفہ کے سکول میں ان کے استاد نے انھیں بوسٹن کے مشہور فنکار، مصور اور ناشر فریڈ ہالینڈ ڈے سے متعارف کروایا، [2] جنھوں نے جبران کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا اور جبران کی فن میں حوصلہ افزائی کی۔ 1898ء میں پہلی بار جبران کی بنائی ہوئے مصوری کے نمونے ایک کتاب کے سرورق کے لیے استعمال کیے گئے۔
جبران کی ماں اور ان کے بڑے بھائی پیٹر چاہتے تھے کہ جبران اپنی لبنانی ثقافت کا پرچار کرے اور مغربی ثقافت جس سے جبران متاثر تھے کو ترک کر دے۔ ، [8] جبران کی مغربی ثقافت سے متاثر ہونے کی وجہ سے پندرہ سال کی عمر میں جبران کو واپس لبنان بجھوا دیا گیا جہاں انھوں نے عیسائی مارونات کے مدرسے میں تعلیم حاصل کی اور بیروت میں اعلیٰ تعلیم کے لیے منتقل ہوئے۔ بیروت میں اپنے ایک ہم جماعت کے ہمراہ ایک ادبی رسالے کا اجراء کیا اور اپنے تعلیمی ادارے میں “کالج کے شاعر“ کے طور پر مشہور ہوئے۔ یہاں وہ کئی سال تک مقیم رہے اور 1902ء میں بوسٹن واپس چلے گئے۔ [11] ان کی بوسٹن واپسی سے تقریباً دو ہفتے قبل ان کی بہن سلطانہ تپ دق میں مبتلا ہو کر چودہ سال کی عمر میں وفات پاگئی۔ اور اس کے اگلے ہی سال ان کے بھائی پیٹر تپ دق کی وجہ سے اور ماں کینسر میں مبتلا ہو کر فوت ہوئیں۔ جبران کی بہن ماریانہ نے جبران کی دیکھ بال کی اور ماریانہ ایک درزی کے پاس نوکری کرتی رہیں۔ [2]

فن اور شاعری[ترمیم]

جبران خلیل نے اپنے فن پاروں کی پہلی نمائش 1904ء میں بوسٹس کے “ڈے سٹوڈیو“ میں کی[2]۔ اسی نمائش میں جبران کی ملاقات میری الزبتھ ہاسکل سے ہوئی جو کہ اس وقت تعلیمی ادارے کی سربراہ تھیں اور جبران سے دس سال بڑی تھیں۔ ان دونوں میں دوستی ہوئی اور یہ ساتھ جبران کی وفات تک رہا۔ گو ان کی دوستی معاشرے میں بدنام جانی گئی[حوالہ درکار]۔ ہاسکل نہ صرف جبران کی زندگی بلکہ ان کے فن پر بھی اثرانداز ہوئیں[حوالہ درکار]۔ 1908ء سے جبران پیرس میں آگسٹی روڈن کے ہمراہ دو سال کے لیے تعلیم حاصل کرتے رہے، اور وہیں ان کی ملاقات اپنے ایک ہم جماعت یوسف ہوہاک سے ہوئی اور ان کی یہ دوستی بھی زندگی بھر جاری رہی۔ پیرس سے واپسی پر جبران نے بوسٹن میں اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ [حوالہ درکار]

ابونواس: جبران کا تخلیق کردہ ایک فن پارہ۔ یہ 1916ء میں تخلیق ہوا

جولیٹ تھامپسن جو کہ جبران کی قریبی ساتھی تھیں نے کئی مواقع پر جبران بارے دلچسپ واقعات بیان کیے ہیں، جیسے کہ ایک یہ کہ جبران کی ملاقات ابو باہا سے 1911ء میں ہوئی، ابو باہا، باہا فرقے کے سربراہ تھے۔ [6]-1912.[12] باربرہ ینگنے اپنی کتاب“This Man from Lebanon: A Study of Khalil Gibran”میں یہ درج کیا کہ جبران ابوہا سے ملاقات سے پہلے رات کو سو نہ سکا اور ساری رات دو زانو بیٹھا رہا۔ تھامپسن کہتی ہیں کہ جبران اپنی کتاب “Jesus, The Son of Man” لکھنے کے دوران تمام عرصہ ابوہا کے بارے میں سوچتا رہا اور سالوں بعد جب ابوہا کی وفات ہو چکی تھی ابوہا بارے ایک فلم تخلیق کی گئی۔ جبران اس فلم کے بننے کے دوران وہ ایک دن کھڑا ہوا اور روتے ہوئے ابوہا کے اقوال سنائے، جس سے ساری محفل کی آنکھیں پرنم ہو گئیں۔[12]
گو جبران کی تمام اوائل دور کی تحاریر عربی میں ہیں، مگر ان کا زیادہ تر کام 1918ء کے بعد انگریزی میں شائع ہوا۔ جبران کی پہلی کتاب جو شائع ہوئی، وہ ناشر کمپنی الفریڈ اے ناپف نے 1918ء میں شائع کی جس کا عنوان تھا، The Madman۔ یہ ایک چھوٹی سی کتاب تھی جو کہ بیغامبری زبان میں نثر اور نظم کے بیچ جیسے لکھی گئی تھی۔ جبران نے نیویارک کے پین لیگ میں بھی حصہ لیا جہاں وہ “مہاجر شاعر “ کے نام سے جانے جاتے تھے، ان کے علاوہ لبنانی نژاد لکھاری جیسے امین ریحانی، الیہ ابو مادی اور میکائیل نیمے وغیرہ بھی اس لیگ کا حصہ تھے اور ان سب کو “المہاجر“ کا نام دیا گیا تھا۔
جبران کی زیادہ تر تحاریر عیسائیت بارے ہیں، خاص کر عیسائیت میں بھی ان کا رخ روحانی محبت کے اردگرد گھومتا ہے۔ ان کی شاعری کی خاصیت عایک خاص طرز پر زبان کا استعمال ہے اور اس کے علاوہ شاعری میں جابجا روحانی اصطلاحات کا استعمال عام ہے۔ جبران کی سب سے مشہور کتاب The Prophet یا پیغامبر ہے جس میں کل 26 شاعرانہ مضامین ہیں۔ یہ کتاب 1960ء میں خاص طور پر امریکی ادبی حلقوں میں مشہور ہوئی اور اس کا استعمال نئے دور کی تحریکوں میں کیا گیا، یہ کتاب 1923ء میں پہلی بار شائع ہوئی۔ اپنی پہلی اشاعت کے بعد اب تک یہ کتاب شائع ہو رہی ہےاور اس کے دنیا کی چالیس سے زیادہ زبانوں میں تراجم کیے گئے ہیں۔[13] بیسویں صدی میں امریکہ میں یہ کتاب سب سے زیادہ بکنے والی کتابوں کی فہرست میں شامل ہے۔
ان کے کلام میں سب سے مشہور مصرع جو انگریزی دنیا میں اب بھی بہت مشہور ہے، کتاب "Sand and Foam" سے لیا گیا ہے، اس مصرع میں جبران کہتا ہے، “آدھے سے زیادہ جو میں کہتا ہوں وہ بے معنی ہے، لیکن میں پھر بھی کہتا ہوں تاکہ باقی کا آدھا تم تک پہنچ سکے“ جبران کی یہ شاعری جان لینن نے اپنے ایک گانے جولیا (بیٹل نغمہ) میں شامل کیا۔ یہ نغمہ 1968ء میں تشکیل دیا گیا۔

سیاسی سوچ[ترمیم]

جبران نے شام میں عربی کو بطور قومی زبان نافذ کرنے اور بنیادی تعلیم میں اسے لازمی قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ 1912ء میں جبران نے جب ابو باہا سے ملاقات کی تو ان کے ساتھ امریکہ بھر کا سفر برائے امن بھی کیا۔ گو جبران نے امن کا پرچار کیا مگر اس کے ساتھ ہی انھوں نے شامی علاقوں کی سلطنت عثمانیہ سے علیحدگی کا بھی مطالبہ کیا۔[6] جبران نے اس بارے ایک مشہور نظم بھی لکھی جو کہPity The Nation کے عنوان سے گلستان پیغامبر میں شائع ہوئی۔ [14]
جنگ عظیم اول میں جب عثمانیہ سلطنت کا شام سے خاتمہ ہوا تو جبران نے ایک تصویری فن پارہ “آزاد شام“ کے نام سے تخلیق کیا جو کہ وکٹری میگزین کا سرورق بنا۔ اس کے علاوہ اپنے ایک کھیل میں جبران نے قومی آزادی اور ترقی بارے امید کا اظہار بھی کیا۔ اس کھیل بارے خلیل ہوائی کہتے ہیں کہ “یہ جبران کے شام بارے قومیت پرستی کے خیالات کو اجاگر کرتا ہے اور اس میں ہمیں عرب اور لبنانی قومیتوں کا فرق واضع محسوس ہوتا ہے۔ اس کھیل میں یہ بھی عیاں ہے کہ کس طرح عمر کے آخری حصے تک جبران کے ذہن میں قومیت پرستی اور عالمی اتحاد کے خیالات ایک ساتھ پروان چڑھتے رہے ہیں“۔[15]

وفات[ترمیم]

جبران خلیل کی واشنگٹن میں یادگار
لبنان میں جبران میوزیم اور آخری آرامگاہ

جبران خلیل 10 اپریل 1931ء کو نیویارک میں وفات پا گئے۔ ان کی موت جگر کی خرابی اور تپ دق کی وجہ سے ہوئی۔ اپنی موت سے پہلے جبران نے خواہش ظاہر کی کہ انھیں لبنان میں دفن کیا جائے۔ ان کی یہ آخری خواہش 1932ء میں پوری ہوئی جب میری ہاسکل اور جبران کی بہن ماریانہ نے لبنان میں مارسرکاس نامی خانقاہ خرید کر وہاں ان کو دفن کیا اور جبران میوزیم قائم کیا۔ جبران کی قبر کے کتبے پر جو الفاظ کشیدہ کیے گئے وہ کچھ اس طرح ہیں، “ایک جملہ جو میں اپنی قبر کے کتبے پر دیکھنا چاہوں گا: میں زندہ ہوں تمھاری طرح اور میں تمھارے ساتھ ہی کھڑا ہوں۔ اپنی آنکھیں بند کرو اور اردگرد مشاہدہ کرو، تم مجھے اپنے سامنے پاؤ گے“۔ [حوالہ درکار]
جبران نے اپنے سٹوڈیو کی تمام اشیاء اور فن پارے میری ہاسکل کے نام وصیت میں سپرد کر دیے۔ اس سٹوڈیو میں ہاسکل کو 23 سال تک اپنے اور جبران کے بیچ ہوئی خط و کتابت بھی ملی، جس کے بارے پہلے ہاسکل نے یہ فیصلہ کیا کہ انھیں جلا دیا جائے، لیکن ان کی تاریخی اہمیت کے پیش نظر انھیں محفوظ کر دیا گیا۔ ان خطوط کو میری ہاسکل نے اس کو لکھے گئے جبران کے خطوط سمیت شمالی کیرولینا کی جامعہ کی لائبریری کو اپنی 1964ء میں وفات سے پہلے سپرد کر دیے۔ بعد ازاں ان خطوط کا کچھ مواد 1972ء میں کتاب Beloved Prophet میں شائع ہوا۔

یادگاریں[ترمیم]

جبران خلیل کا مجسمہ
  • لبنان میں 1971ء میں جبران خلیل کی یادگار کے طور پر ڈاک ٹکٹ جاری کیا گیا۔
  • لبنان میں جبران میوزیم کا قیام۔
  • لبنان کے شہر بیروت میں باغ جبران کا قیام۔
  • کینیڈا میں سینٹ لارنٹ کے مقام پر 27 ستمبر 2008ء کو جبران کی 125ویں سالگرہ کے موقع پر ایک سڑک کو خلیل جبران سٹریٹ کا یادگاری نام دیا گیا۔
  • لبنان میں ایک پرفضا مقام لبنان سیڈار میں جبران خلیل کی یادگار کی تعمیر۔
  • امریکہ کے شہر واشنگٹن ڈی سی میں جبران خلیل کے نام پر باغ۔
  • بوسٹن میں جبران خلیل کی یادگار کی تنصیب۔
  • بروک لین، نیویارک میں جبران خلیل انٹرنیشنل سکول کے نام سے تعلیمی ادارے کا قیام۔
  • رومانیہ میں خلیل جبران پارک کا قیام۔
  • برازیل کی عرب میموریل بلڈنگ میں جبران خلیل کے مجسمے کی تنصیب۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ Gibran 1998: 12
  2. ^ 2.0 2.1 2.2 2.3 2.4 جوان اووسیانا (جنوری 7, 2008ء). "پیغامبری صفت". نیویارکر.
  3. ^ http://www.newyorker.com/arts/critics/books/2008/01/07/080107crbo_books_acocella کتاب پیغمبری
  4. ^ جگادسیان "زندگی کی پکار", دی ہندو, جنوری 5, 2003, accessed July 11, 2007
  5. ^ "خلیل جبران (1883-1931)", آپ بیتی
  6. ^ 6.0 6.1 6.2 6.3 Cole, جووان. "اس کی زندگی کے دور". جووان جووان: خلیل بارے نئے تراجم. جووان آر کوئی. http://www-personal.umich.edu/~jrcole/gibran/chrono.htm. Retrieved 2009-01-02. 
  7. ^ والبرج, جان. "جبران اور اس کے تخیل کی کائنات". جووان: خلیل کے بارے نئے تراجم. جواون آر کوئی. http://www-personal.umich.edu/~jrcole/gibran/papers/gibwal1.htm. Retrieved 2009-01-02. 
  8. ^ 8.0 8.1 8.2 شیراک, سناء (2006-03-03) (pdf). خلیل جبران اور دوسرے عربی پیغامبر. فلوریڈا ریاستی جامعہ. http://etd.lib.fsu.edu/theses/available/etd-04102006-114344/unrestricted/Mcharek2006.pdf. Retrieved 2009-01-02. 
  9. ^ خلیل جبران (1883-1931) کورنیل یونیورسٹی لائبریری
  10. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام Gibran_1998:_29 کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  11. ^ "Passenger Record". Records of Ellis Island. مجسمہ آزادی پبلشر. http://www.ellisisland.org/search/passRecord.asp?MID=19582761730245745888&LNM=GIBRAN&PLNM=GIBRAN&bSYR=1878&bEYR=1888&first_kind=1&last_kind=0&TOWN=null&SHIP=null&RF=8&pID=102754150222. Retrieved 2009-01-02. 
  12. ^ 12.0 12.1 تھامپسن, جولیٹ (Summer 1978). "جولیٹ کی جبران بارے یادیں، بحولہ گیلی". ورلڈ آرڈر، ابوہا میگزین 12 (04): pp. 29–31. http://bahai-library.com/file.php?file=gail_thompson_remembers_gibran. 
  13. ^ http://www.alhewar.com/Gibran.html
  14. ^ جبران خلیل کی نظم
  15. ^ ہوائی، خلیل جبران: پس منظر، کردار اور کام۔ 1972ء صفحہ: 219

بیرونی روابط[ترمیم]