فرح دیبا پہلوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
فرح دیبا پہلوی، 1972ء میں دورۂ امریکہ کے موقع پر

فرح دیبا (پیدائش: 14 اکتوبر 1938ء) ایران کی آخری ملکہ اور پہلوی خاندان کے آخری فرمانروا محمد رضا پہلوی کی تیسری اہلیہ تھیں۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

وہ ایران کے دارالحکومت تہران میں پیدا ہوئیں۔ اپنے والدین سہراب دیبا اور فریدہ قطبی کی واحد اولاد تھیں۔ والدہ کا تعلق گیلان سے تھا جبکہ والد ایران کی شاہی فوج میں عہدیدار تھے جن کے آبا و اجداد ایرانی آذربائیجان سے تعلق رکھتے تھے۔ فرح کے والد کا انتقال ان کے بچپن میں ہی ہو گیا تھا۔

تعلیم و شادی[ترمیم]

فرح نے تہران کے فرنچ اسکول اور پیرس کے École Spéciale d'Architecture میں تعلیم حاصل کی۔ طالبعلمی کے زمانے میں ان کا شاہ سے تعارف ہوا اور 21 دسمبر 1959ء کو وہ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔ فرح سے شاہ کی چار اولادیں ہوئیں جن میں دو صاحبزادے اور ایک دو صاحبزادیاں تھیں۔

شادی اور تاجپوشی کے بعد بھی ملکہ کی حیثیت سے وہ فن و ثقافت کے شعبے میں متحرک رہیں۔

انقلاب و جلاوطنی[ترمیم]

فرح پہلوی 1967ء میں تاجپوشی کے بعد اہل خانہ کے ہمراہ

انقلاب ایران کے ساتھ ہی وہ شاہ کے ہمراہ ملک چھوڑ گئیں۔ اس سے چند روز قبل ہی تمام بچوں کو امریکہ میں رہائش پذیر فریدہ دیبا (والدۂ ملکہ) کے پاس بھیج دیا گیا تھا۔ شاہ اور ملکہ پہلے مصر گئے پھر مراکش، بہاماس، میکسیکو، امریکہ اور پاناما میں قیام کے بعد دوبارہ مصر واپس آئے جہاں دونوں 27 جولائی 1980ء کو شاہ کی وفات تک قیام پذیر رہے۔ بعد ازاں فرح نے گرینوچ، کنیکٹیکٹ میں ایک گھر خریدا اور 2001ء میں لیلا پہلوی کے انتقال (خودکشی) کے بعد اس گھر میں بھی رہائش ترک کر دی اور اور واشنگٹن ڈی سی کے قریب پوٹوماک، میری لینڈ میں ایک گھر خرید لیا تاکہ اپنے بیٹوں اور پوتوں کے قریب رہ سکیں۔ اب ان کا بیشتر وقت واشنگٹن، نیویارک، پیرس اور قاہرہ میں گذرتا ہے۔ ان کے صاحبزادے رضا پہلوی ایران میں شہنشاہیت کی بحالی کے لیے سیاسی طور پر متحرک ہیں۔ رضا اور ان کی اہلیہ یاسمین سے فرح کے تین پوتے پوتیاں (ایمان، نور اور فرح) ہیں۔

سوانح عمری[ترمیم]

2003ء میں فرح پہلوی نے اپنی سوانح عمری تحریر کی جس کا نام انہوں نے " An Enduring Love: My Life with the Shah" رکھا۔ یہ کتاب 2004ء میں امریکہ میں شائع ہوئی۔

خطابات[ترمیم]

حالانکہ انقلاب کے بعد حکومت ایران نے سابق شاہی خاندان کو تمام اعزازات اور خطابات سے محروم کر دیا ہے اور قانونی طور پر کوئی بھی شاہی خطاب ممنوع ہے لیکن فرح دیبا اپنے نام کے ساتھ ملکہ یا شاہبانو استعمال کرتی ہیں جبکہ ایران کی موجودہ حکومت سے ناراض مغربی ذرائع ابلاغ اور شاہ کے حامیان بھی انہیں ملکہ یا شاہبانو کے نام سے پکارتے ہیں۔

نگار خانہ[ترمیم]