انور غازی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

جناب انور غازی صاحب حافظ قرآن، ثقہ عالم دین، معروف صحافی اور بالغ نظر و تجربہ کار مصنف ہیں۔ جامعہ دار العلوم کراچی سے درسِ نظامی کی تکمیل کی۔ اس کے بعد حضرت مفتی رشید احمدؒ کے ہاں تخصص فی الافتاء کیا۔ کراچی یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کرنے کے بعد طلب علم کا سلسلہ ہنوز جاری رکھے ہوئے ہیں۔ درسِ نظامی کی تدریس سے وابستہ رہے۔ کالج میں اردو ادب بھی پڑھاتے رہے۔ متعدد ممالک کے سفر کیے اور پھر سفرنامے لکھے۔ افغانستان میں جاری معرکوں کا آنکھوں دیکھا حال لکھا۔ 2003ء میں کسی سفاک نے گاڑی پر قاتلانہ حملہ کیا۔ دُشمن ناکام ہوا اور آپ غازی ٹھہرے۔ صحافت کے میدان میں اہلِ حق قلم کاروں کا خلا محسوس کرتے ہوئے قلم سے ناتا جوڑ لیا۔ اللہ ربّ العزت نے خصوصی توفیق سے نوازا اور کوچہ صحافت میں بہت مختصر عرصے میں شہرت، مقبولیت اور ترقی پائی۔ اس وقت روزنامہ جنگ، روزنامہ اسلام اور دیگر جرائد کے لیے کالم لکھتے ہیں۔ ایک درجن سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں جبکہ اتنی ہی کتب زیر طبع یا زیرتکمیل بھی ہیں۔ علاوہ ازیں جامعۃ الرشید کے شعبہ صحافت کے استاد ہیں۔ محنت و خلوص آپ کی خصوصی صفات ہیں۔ اللہ نے لکھنے لکھانے کا خصوصی ذوق عطا فرمایا ہے تو اُمت کے مسائل کے لیے تڑپتا دل بھی دیا ہے۔ سہل نگاری، شستہ نویسی اور حکایتی انداز ِتحریر کے ذریعے شائقین مطالعہ میں مقبول ہیں۔ آپ کی کتابوں پر تقریظ لکھنے والوں اور آپ کے اندازِ تحریر کو پسند کرنے والوں میں عطاء الحق قاسمی، عرفان صدیقی، مفتی ابولبابہ، شاہ منصور، حامد میر، جاوید چوہدری، اوریا مقبول جان، پروفیسر متین الرحمن مرتضیٰ، ناول نگار اشتیاق احمد، ڈاکٹر ممتاز احمد، ڈاکٹر عامر لیاقت، مولانا اسلم شیخوپوریؒ اور سیّد عدنان کاکاخیل جیسے ماہرین فن اور مستند قلم کار شامل ہیں۔

تصانیف[ترمیم]

  1. ڈیورینڈ لائن کےاس پار
  2. قلم کی قسم
  3. حرمین کا مسافر
  4. دوراہا
  5. نکتہ در نقطہ
  6. نقوش بندگی کی تازگی
  7. عافیہ
  8. سامراج کا بھیانک منصوبہ