اکادمی جندیشاپور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

متناسقات: 32°17′N 48°31′E / 32.283°N 48.517°E / 32.283; 48.517 اکادمی جندیشاپور (فارسی : فرهنگستان گندی‌شاپور/دانشگاہ جندی‌شاپور) ایک قدیم ساسانی مرکز تعلیم تھا۔ ساسانیوں نے تین شہروں مدائن، راس العین اور جندیشاپور میں مراکز تعلیم قائم کیے تھے۔[1] یہ ساسانی سلطنت کا فکری مرکز تھا، اس مرکز میں طب کی تربیت دی جاتی، نیز فلسفہ، الٰہیات اور سائنس کی تعلیم دی جاتی تھی۔ اساتذہ فارسی روایات میں خاص مہارت رکھتے تھے۔ کیمبرج ہسٹری آف ایران کے مطابق، یہ چھٹی اور ساتویں صدی عیسوی میں قدیم دنیا کا سب سے اہم طبی مرکز تھا۔[2]

پہلوی دور میں، 1955ء میں اہواز شہر کے قریب جندیشاپور کے ورثے کو یادگار بنانے کے لیے جڑواں جامعات جامعہ جندیشاپور اور جامعہ جندیشاپور برائے طب کی بنیاد رکھی گئی۔ 1979ء کے انقلاب ایران کے بعد، مصطفیٰ چمران کی یاد میں، 1981ء میں اس جامعہ کا نام تبدیل کر کے، جامعہ شہید مصطفیٰ چمران اہواز (فارسی : دانشگاہ شهید چمران اهواز) کر دیا گیا۔ اور دوسری طبی جامعہ کا نا محالیہ برسوں میں تبدیل کر کے، جامعہ اہواز جندیشاپور برائے طب (فارسی: دانشگاه علوم پزشکی جندی شاپوراهواز) کر دیا گیا۔

اہمیت[ترمیم]

بڑی حد تک، موجودہ ہسپتالوں کےنظام کا سہرا فارس کے سر باندھتا ہے۔[3]

— سائرل الگاڈ، فارس کی طبی تاریخ

طبی علوم اور علاج کو منظم کرنے کے علاوہ، اکادمی کے ماہرین طب، طب کی تعلیم بھی دیتے تھے، بجائے اس کے کہ صرف ایک طبیب کی شاگردی اختیار کی جائے، طب (میڈیکل) کے طالب علموں کو پورے طبی عملے (میڈیکل فیکلٹی) کی نگرانی میں ہسپتال میں کام کرنے کا پابند کیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ ثبوت بھی موجود ہیں کہ گریجویٹوں کو مستند طبیب (ڈاکٹروں) کے طور پر کام کرنے کے لیے امتحان پاس کرنا ہوتا تھا (جیسا کہ ایک عربی متن تاریخ الحکمہ میں درج ہے)۔ اکادمی جندیشاپور کا ریاضی کی تعلیم میں بھی اہم کردار تھا۔[4]

اسلامی دور حکومت میں[ترمیم]

832ء میں، خلیفہ مامون الرشید نے مشہور بیت الحکمت قائم کیا۔ وہاں یقیناً جندیشاپور کے طریقکار کی پیروی کی گئی، کیوں کہ بیت الحکمت میں، اکادمی جندیشاپور کے فضلا کی خدمات حاصل کی گئیں۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ بیت الحکمت کو مامون الرشید کے جانشین المتوکل علی اللہ نے تحلیل کیا۔ البتہ، اس وقت تک عباسی خلافت کا فکری/علمی مرکز بغداد بن چکا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس دور کے معاصر طبی ادب میں جندیشاپور اکادمی یا جامعہ کے حوالے ملتے ہیں۔ آہستہ آہستہ یہ ادارہ اپنی اہمیت کھو گيا۔ المقدسی نے جندیشاپور کی تاریخ میں اس کے زوال کے اسباب بیان کیے ہیں۔[5]

اہم طبیب[ترمیم]

جدید جندیشاپور[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

ملاحظات[ترمیم]

  1. سپنگلر، مغرب کا زوال، ص200
  2. جلد 4, ص396. ISBN 0-521-20093-8
  3. الگاڈ، سائرل۔ فارس کی طبی تاریخ، کیمبرج یونی ورسٹی پریس، 1951, ص۔ 173
  4. Joseph, George Gheverghese۔ The crest of the peacock : non-European roots of mathematics۔ London: I. B. Tauris۔
  5. Le Strange, Guy۔ The lands of the eastern caliphate : Mesopotamia, Persia, and Central Asia, from the Moslem conquest to the time of Timur۔ Cambridge UK: University Press۔ صفحہ 238۔

حوالہ جات[ترمیم]

  • کیمبرج ہسٹری آف ایران، جلد 4, ISBN 0-521-20093-8
  • ڈیٹمر ڈبلیو۔ ونلکر؛ ولہیلم بیم، مشرقی کلیسیا: ایک جامع تاریخ، ٹیلر اینڈ فرانسس، آئی ایس بی این 978-0-415-60021-7
  • Dols, Michael W. "The origins of the Islamic hospital: myth and reality" بلٹن آف دی ہسٹری آف میڈیسن، 61:3: 1987, pp 367–90
  • Frye, Richard Nelson۔ The Golden Age of Persia، Weidenfeld & Nicolson, 1993.
  • Hau, Friedrun R. "Gondeschapur: eine Medizinschule aus dem 6. Jahrhundert n. Chr.،" Gesnerus, XXXVI (1979)، 98-115.
  • Piyrnia, Mansoureh. سالار زنانہ ایران۔ 1995. میری لینڈ: مہران ایران پبلشنگ۔
  • Hill, Donald. اسلاملک سائں س اینڈ انجئرنگ۔ 1993. ایڈن برگ یونی ورسٹی پریس۔ ISBN 0-7486-0455-3

بیرونی روابط[ترمیم]