تبادلۂ خیال:بریلوی مکتب فکر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

Untitled[ترمیم]

یہ مضمون جانبدار کردیا گیا ہے ، اسے 4 اکتوبر والی تحریر (وہاب صاحب کی) پر واپس کرنے کا ارادہ ہے۔ کوئی مشورہ یا راۓ ہو تو براہ کرم آگاہ کیجیۓ۔ افراز

  • زمرہ نا ترمیم کیجیۓ ، اور اگر کرنا ہی چاہتے ہوں تو دیوان عام کے تبادلہ خیال پر گفت و شنید کیجیۓ۔ افراز
  • بڑی محنت کی آپ نے تحریر پر مگر ایک بات تو بتا دیجیۓ ، یہ تحریر کسی مذہب سے تعلق رکھتی ہے کیا ؟ کونسے ؟ اہل کتاب یا غیراہل کتاب ؟ افراز

یہ تحریر اہلسنت والجماعت حنفی بریلوی سے تعلق رکھتی ہے

  • جی بہتر۔ لیکن آپ نے جواب آدھا دیا ہے، کیا یہ اھل کتاب لوگ ہیں ؟ کوئی پیغمبر ہے انکا ؟ افراز

آفراز صاحب آپ اپنی صوابدید پر فیصله کریں ـ کیونکه آپ وکی پیڈیا کے مزاج کو صاحب مضمون سے زیاده سمجهتے هیں ـ میری پیدائش اور پرورش بهی ایک سنّی بریلوی گهرانے میں هوئی ہے ـ مگر یه مضمون میرے خیال میں اس انسائکلوپیڈیا کے مزاج کا نہیں ہے ـ 02:43, 2 نومبر 2006 (UTC)خاورkhawar

  • یہ تحریر مذہب اسلام ، اہلسنت وا لجماعت حنفی بریلوی مسلک سے تعلق رکھتی ہے

اور ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔

محترم خاور صاحب پہلی جو تحریر تھی اس میں واضح طور پر مسلمانوں کو ہندئوں سے متاثر ہوکر یہ مسلک بنانا بتایا گیا تھا وہ آپ کو انسائکلوپیڈیا کے مزاج کےعین مطابق لگی اب جب یہ تصویر کا دوسرا رخ‌سامنے آیا تو آپ کو ۔۔

  • جناب آپ نے خاور صاحب کی بات توجہ سے پڑھی نہیں ، یا پڑھی تو سمجھی نہیں ، انہوں نے خود اپنے ماضی کے ماحول کو سنی بریلوی کہا ہے اور اسکے باوجود وہ آپکی تحریر کی جانب داری سے متفق نہیں۔ دوسری بات یہ کہ آپ نے کہا آپ محمد (ص) کو رسول مانتے ہیں ؟؟!! مگر ہمارا تو خیال ہے کہ محمد (ص) کے پیغام کو ماننے والے مسلمان کہلاتے ہیں نہ کہ بریلوی !! یہ کیا بلا ہے ؟؟ افراز

محترم افراز صاحب آپ ہی کی سائٹ پہ مسلمانوں کی کئی اقسام ہیں ، جن میں بریلویوں کے بارے میں غلط لکھا گیا تھا جو کے میں نے ایڈٹ کیا ۔ اور یہ مضمون آپ مکمل پڑھیں تو پتہ چل جائے گا گا مسلمان سے اہلسنت کیسے ہوئے اور پھر آگے کیسے ۔۔۔

  • کیا آپ اپنا تعارف نہیں کرائیں گے ؟
  • یہ سائٹ میری نہیں ، کسی کی بھی نہیں ، دائرہ عام میں ہے ، آپکی بھی ہے ، سب کی ہے
  • آپکی تحریری صلاحیت ماننی پڑتی ہے، کیا آپ اپنی اس صلاحیت سے تفرقے بازیوں کے علاوہ بھی کچھ لکھ کر دوسروں کو مستفید نہیں کریں گے؟ افراز

سپین والے صاحب[ترمیم]

میں جناب کو کس نام سـے مخاطب کروں ؟ آپ سپین سے ٹیلے فونیکا کا کنکشن استعمال کر رہے هیں ـ جناب آگر کوئی جانبدار یا وکی پیڈیا کے مزاج کے خلاف مضمون نظر میں آنے سے ره گیا هو تو دوسری بات هے ـ ورنه ہم آپنی سي کوشش کرتے هیں که یه انسائکلوپیڈیا معلوماتی اور غیر جانبدار هو ـ آگر آپ کا کبهی میرا بلاگ بڑهنے کا اتفاق هو تو آپ دیکهیں که میں کافی گند بهی لکهتا هوں ـ لیکن ہر چیز کو لکهنے کی ایک جگه بنا رکهی هے ـ آپ کی کاوش کی دادنه دینا بهی کنجوسی هو گی آپ نے واقعی محنت کی هے ـ آپ ایک محنتی آذمی لگتے هیں ـ آپ وکی پیڈیا کے مزاج کو سمجهنے کی کوشش کریں اور ہمارے ساتھ مل کر اس اردو کے انسائکلوپیڈیا کو حقیقی انسائکلوپڈیا بنانے میں مدد کریں ـ 18:23, 2 نومبر 2006 (UTC)خاورkhawar

دوستو افراز میرے خیال میں بالکل حق پر ہیں کیونکہ وکی کا مقصد کی فرقے کی ترویج کرنا نہیں نہ ہی اس کے متعلق کچھ الٹا سیدھا لکھنا ہے۔ فرقوں کے متعلق بس واجبی سے معلومات فراہم کرنا ضروری تھیں اس لیے میں نے یہاں یہ معلومات فراہم کردی تھیں۔ اگر آپ لوگوں کو ہندو تہذیب سے متاثر ہونے والی بات بری لگی تو بے شک اس کو کاٹ دینا چاہیے تھا۔ باقی دوستوں سے گزارش ہے کہ ان فضول قسم کے مباحث اور معلومات سے بہتر ہے کچھ اور لکھ لیا جائے۔ یہاں ہر شعبے میں کام کرنے بہت سے مواقع ہیں۔ تاریخ ، سائنس ، ادب ، کوئی بھی شعبہ ہو۔ کیا فرقے ہی رہ گئے ہیں کہ ان کے لیے ہم صفحات کے صفحات کالے کر لیں۔

Wahab 19:01, 2 نومبر 2006 (UTC)

(space inseted:Ed) محترم افراز صاحب جی میرا نام سلیمان سبحانی اور میں باسلونا اسپین میں ہوتا ہوں ۔ سائٹ کے بارے میں معلومات دینے کا شکریہ محترم خاور صاحب میں اسپین سے ہوں جیسا کہ آپ کو میرے آئی پی کے پتے سے ملک نام اور ٹیلی فونیکا کا پتہ چلا اور آپ چاہیں تو سلیمان چاہیں تو سبحانی چاہیں بھائی یا کسی بھی نام سے مخاطب ہوسکتے ہیں محترم افراز صاحب و محترم خاور صاحب و محترم وہاب صاحب میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں اب تفصیلا بتاتا ہوں میں نے یہاں پڑھا جہ کہ غلط لکھا ہوا تھا میرے پاس آرٹیکل تھا وہ میں نے لکھ کے پوسٹ کردیا اب وہ کس کے مزاج کے خلاف ہے یا نہیں یہ میں نہیں جانتا ۔ مسئلہ صرف یہی ہے کہ اس میں کسی اور کے بارے میں سخت یا جیسے مرضی ہے جملے کہیں وہ لکھیں گئے ہیں پر جو پہلے یہاں آرٹیکل تھا اس میں بھی یہی چیز تھی فرق یہ ہے ہمارے خلاف تھی ۔ خیر کوئی بات نہیں‌کوشش ہوگی اچھی اچھی معلومات شیئر کروں یہاں۔ میری بات کسی کو بری لگی ہو تو معافی کا طلبگار ہوں ۔‌

کوئی ساتھی بتائے گا ؟‌ میری تحریر اتنی بُری حالت میں کوئی آتی ہے پوسٹ ہونے سے پہلے اچھی حالت میں ہوتی ہے۔ (name inserted later:ed) سلیمان سبحانی

  • جی شکریہ آپ نے وضاحت کی۔
  • تحریر کا مسلہ یہ ہے کہ آپ سطر (لائن) کی ابتداء میں خالیہ (اسپیس) دے دیتے ہیں جسکی وجہ سے ویکی کی تدوین خراب ہوجاتی ہے۔ سطری کی ابتداء سے خالیہ ختم کردیجیۓ ٹھیک ہوجاۓ گی
  • وہاب صاحب اور خاور صاحب کے اتفاق کے بعد اب اس تحریر کو 4 اکتوبر والی تحریر پر واپس کرنے کا ارادہ ہے، آپ کو جس جملہ پر اعتراض ہے (ہندوستانی اثرات) تو اسکو حذف کردیا جاۓ گا۔ اگر آپ کو کوئی اعتراض ہو تو براہ کرم مطلع فرمائیۓ۔ ہمارا ارادہ تو کسی بھی فرقے کو نہ رکھنے کا تھا مگر لوگو کی جانب سے طعنے پڑنے کے بعد مجبورا رکھے گۓ ہیں ، اسکے باوجود آپ نے دیکھا ہوگا کہ تفرقے بازیوں کے زمرے کا نام ، مسلمانوں کی تفرقے بازیاں ، رکھا گیا ہے۔ کیونکہ یہ تفرقے بازیاں مسلمانوں کی ہیں نہ کہ اسلام کی۔
  • آپ سے توقع ہے کہ آپ مزید مضامین لکھتے رہیں گے اور ہمارا ساتھ قائم رہے گا۔ افراز

میں نے اپنی تحریر ادھوری کردی ہے اور امید ہے اب اس میں اعتراض والی کوئی بات نہیں ہے اور اب امید کرتا ہوں اس پہ اعتراض بھی نہیں ہوگا ۔

السلام وعلیکم! جن صاحب نے فرقہ نہ رکھنے کی تجویز دی تھی اللہ ان کو اس کا اجر دے گا۔ میرے خیال میں اگر ایسے موضوعات پر کوئی مضمون تحریر بھی کیا جاتا ہے تو وہ مکمل طور پر غیر جانب دار ہونا چاہئے۔ علاوہ ازیں اپنے فرقوں یا مسالک کی ترویج کے لئے لکھے گئے مضامین کو تو حذف کردینا چاہئے ایک بات جو میں اس ضمن میں کہنا چاہوں گا کہ آپ اپنے مضمون کو تصاویر، illustrations اور سانچوں وغیرہ سے جتنا پرکشش بنائیں گے وہ قاری کی توجہ بھی اتنی ہی حاصل کرے گا۔ اگر آپ کا 4 ہزار الفاظ پر مشتمل مضمون ایک ہی پیراگراف میں لکھا گیا ہے تو اسے میری طرح مطالعے کا شوقین شخص بھی کبھی نہیں پڑھے گا۔ کم از کم سرخیوں اور دیگر موجود لوازمات سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ ہمارا تو کام ہی زیادہ سے زيادہ افراد کو وکی پیڈیا کی جانب متوجہ کرکے اس دائرہ المعارف کو بہترین بنانا ہے۔ fkehar 3نومبر 2006ء

(space inseted: Ed) -- افسوس کہ ایک خاص مکتبہ فکر کو یہاں جگہ دی جارہی ہے جب میں نے مکمل مضمون پوسٹ کیا اس وقت مزاج یاد آگیا کے مزاج کے مطابق نہیں ہے ، اب جب میں نے ایڈٹ کیا اور اس میں ایسی کوئی بات ہی نہیں‌تھی پھر اب حوالہ مانگنے اسٹارٹ ہوگئے ہیں ۔ پہلے جو یہاں لکھا گیا تھا اُس کا حوالہ کس نے مانگا تھا اور کس نے دیا تھا ؟ میلاد و قیام ، صلوٰۃ و سلام ، ایصال ثواب ، عرس یہ سب معمولات جو صدیوں ‌سے اہلسنت و جماعت میں رائج ہیں‌ اور علمائے امت نے انھیں ‌باعث ثواب قرار دیا ہے [حوالہ درکار]ان باتوں کو حوالہ مانگا گیا ہے میلاد سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنا میلاد منایا روزہ رکھ کر صلوۃ و سلام کا حکم قرآن میں ہے ۔ایصال ثواب کے انکاری کون ہے ؟ پہلے یہ تو بتائیں عرس بھی حقیقت میں ایصال ثواب ہی کی شکل ہے ۔لیکن نۓ فرقوں [نام درکار] نئے فرقوں کے جب نام دیے تھے اس وقت تو مزاج یاد آگیا تھا کہ کے مزاج کے مطابق نہیں اب خود مجبور کیا جارہا ہے مجھے بتائیے کیا کروں‌؟

غیرجانبدار تعارف بریلی ہندوستان کے ایک ممتاز عالم دین احمد رضا خان نے اسلامی عقائد میں ایک خاص مکتبہ فکر کی بنیاد رکھی تھی۔ بہت سے حنفی علما اُن کے پیروکار ہیں۔ اس فرقے کے علما اور اُن کے پیروؤں کو بریلوی کہتے ہیں۔ بریلوی تیجے، چہلم ، برسی ، نذر و نیاز ، عرس اور گیارہویں وغیرہ کے حق میں ہیں، مولوی احمد رضا خان ، ان چیزوں کو بدعت نہیں قرار دیتے ۔ بہت سی کتابیں اُن علما کے خلاف لکھیں جو ان رسوم کو بدعت قرار دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ رسول محمد صلی اللہ علیہ ولہ وسلم کو بشر کی بجائے نور سمجھتے ہیں۔ اور ان کو ابھی ہر جگہ موجود تصور کرتے ہیں۔ بریلوی حضرات دیو بندی مدرسہ فکر کے سخت مخالف ہیں۔غیرجانبدار تعارف کی حقیقت امام احمد رضا نے ایک خاص مکتبہ فکر کی بنیاد رکھی جھوٹ ہے یہ کوئی ثبوت نہیں دیا گیا ، بریلوی تیجے، چہلم ، برسی ، نذر و نیاز ، عرس اور گیارہویں وغیرہ کے حق میں ہیں، یہ سب ایصال ثواب کی قسم ہے اور ایصال ثواب قرآن و حدیث سے ثابت ہے, بہت سی کتابیں اُن علما کے خلاف لکھیں جو ان رسوم کو بدعت قرار دیتے ہیں۔ یہ سرار جھوٹا الزام ہے ، حقیقت یہ ہے ان علماء کو بُرا کہا جنہوں نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخیاں کی اور صرف خود نہیں کہا بلکہ اس وقت کے نا صرف برصغیر بلکہ حرمین شریفین کے علماء نے بھی تصدیق کی، اس کے علاوہ رسول محمد صلی اللہ علیہ ولہ وسلم کو بشر کی بجائے نور سمجھتے ہیں۔ کیونکہ قرآن و حدیث سے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا نور ہونا ثابت ہے ۔ ان کو ابھی ہر جگہ موجود تصور کرتے ہیں۔ یہ بھی جھوٹا الزام ہے کوئی ثبوت نہیں اسکا ، سلیمان سبحانی (name later inserted:Ed) --

  • کوشش کی جاۓ گی کے آپ کے مشورے (یا اعتراضات) کے مطابق مضمون میں (جہاں تک ممکن ہو) تبدیلی کی جاسکے۔ افراز
  • حوالہ فراہم کیۓ جانے میں ناکامی کی صورت میں پندرہ (15) روز بعد ، حوالہ مطلوب ، دونوں بیانات حذف کردیۓ جائنگے۔ افراز

محترم افراز صاحب سراسر یہ نا انصافی ہے دیگر تمام فرقوں کی کسی بات کا کوئی حوالہ نہیں ہے ۔ اور صرف اس کے لیے یہ شرط لگائی جارہی ہے اور جو میں نے پوسٹ کیا وہ ہضم کر لیا گیا اور صرف یہیں دیگر فرقوں کی رائے کا بھی بتایا جارہا ہے اہل حدیث والے سیکشن میں بتائیں نا کہ سب ان کو کافر کہتے ہیں صرف یہاں ہی کیوں ؟ اور دوسری بات آپ کو کس چیز کا حوالہ چاہیے کچھ تو بتائیں انشاء اللہ ہم دیں گیں پر باقی سب میں بھی حوالہ درکار لگائیے۔

نفرت[ترمیم]

دیکھیں سبحانی صاحب آپ برا نہ مانیں تو میں آپ کو ایک بات بتانا چاہتا ہوں ، میں سرے سے کسی فرقے کو مانتا ہی نہیں اور ویکیپیڈیا میں سے تمام فرقے نکالنا چاہتا تھا کیونکہ میں نہ صرف تمام فرقوں سے بلکہ ان فرقوں کو ماننے والوں سے بھی نفرت کرتا ہوں ۔ مگر طرح طرح کی باتیں بنائی گئیں تو مجبورا رکھے ہیں۔ مجھے نہ بریلوی سے کچھ لینا ہے نہ دیوبندی یا اہلحدیث سے۔ میں نے کسی بھی فرقے کے صفحہ کو کبھی پڑھا ہی نہیں تھا اس لیۓ حوالہ بھی نہیں مانگا مگر آپ نے مجھے بریلوی کے صفحہ پر کھینچ ہی لیا تو میں نے ممکن حد تک اسے سدھارنے کی کوشش کی ہے۔ اگر آپ کو دیوبندی یا شعیہ یا اہلحدیث پر اپنا اظہار خیال کرنا ہے تو آپ ایسا کرنے کے لیۓ آذاد ہیں ، ان کے صفحہ پر جایۓ اور جو تحریر فرمانا ہے فرما دیجۓ، اسکے رکھنے یا حذف کرنے کا فیصلہ بعد میں راۓ شماری سے کرلیا جاۓ گا۔

  • بریلوی میں جس عبارت کو سرخ رنگ دیا گیا ہے اسکا حوالہ درکار ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا میں نے آپکے اعتراض پر عمل کرتے ہوۓ محمد (ص) کو نور ماننے والی بات کا حوالہ بھی مانگا ہے۔ افراز

محترم افراز صاحب جو یہاں غیر جانبدار تعارف لکھا گیا ہے وہ تو صحیح کیجیے جو کہ سراسر جھوٹ پر مبنی ہے اس کی ہر ہر بات کا حوالہ دیجیے یا مانگیے ورنہ 15 دن کی اس کو بھی دھمکی دیکر ہٹا دیجیے ۔ ثابت کیجیے بریلی ہندوستان کے ایک ممتاز عالم دین احمد رضا خان نے اسلامی عقائد میں ایک خاص مکتبہ فکر کی بنیاد رکھی تھی ۔ وہ کونسے معمولات ہیں جو دنیا میں نہیں تھے اور امام احمد رضا نے ان کی بنیاد رکھی ۔ بہت سی کتابیں اُن علما کے خلاف لکھیں جو ان رسوم کو بدعت قرار دیتے ہیں۔ یہ ثابت کیجیے حقیقت میں گستاخیوں کی وجہ سے لکھی گئی ہیں اور جو کتابیں ہیں کسی ایک میں سے بھی یہ ثابت کررا دیجیے کہ یہ میلاد نہیں مناتے ہیں اسی لیے کافر ہیں ۔ یہ بھی سراسر جھوٹ ہے ۔ اس کے علاوہ رسول محمد صلی اللہ علیہ ولہ وسلم کو بشر کی بجائے نور سمجھتے ہیں اور ان کو ابھی ہر جگہ موجود تصور کرتے ہیں [حوالہ درکار] یہ بھی جھوٹا حوالہ ہے ہماری کسی کتاب میں ہے ہی نہیں مجھے پہلے حوالہ دیں تبھی کچھ بتا سکوں گا ۔ تو براہ کرم غیرجانبدار حوالہ سراسر جھوٹ پر مبنی ہے حوالہ مانگے جائیں ساتھ ساتھ ان کو دھمکی بھی دیں حوالہ نہ آنے کی صورت میں 15 دن بعد ڈیلیٹ ۔۔ اگر غیرجانبدار کی بات ہے تو اور اگر کسی خاص وہابیہ نجدیہ فرقے کو ہی جگہ دینی ہے تو میں کچھ نہیں‌کرسکتا۔

محترم افراز صاحب میں حوالہ جات دینے سے انکار نہیں کیا میں انشاءاللہ جلد پوسٹ کروں گا ، باقی رہا غیر جانبدار تعارف جھوٹ پر مبنی ہے اور پہلے ہے ترتیب کے لحاظ سے اسی لیے وہ پہلے آیا پر ابھی سے واضح طور پر آپ کی جانبداری سامنے آرہے ہے جب میرا مضمون ڈیلیٹ کیا گیا اُس وقت مجھے وقت نہیں دیاگیا اب آپ وقت مانگ رہے اور جھوٹا مضمون جوں کا توں موجود ہے ۔

  • دیکھیں سبحانی صاحب ، نہ پریشان ہوں ، نہ کریں۔ پانچ وقت کی نہ سہی دو وقت کی ہی سہی ، نماز ادا کریں اور فرقے بازوں کے جال میں نہ آئیں۔ افراز

وقت دیجیۓ[ترمیم]

جناب سبحانی صاحب اگر آپ مطلوبہ حوالہ جات فراہم کرنے سے قاصر ہیں تو براہ کرم دوٹوک الفاظ میں بتا دیجیۓ اور مجھے تھوڑا وقت دیجیۓ میں وہابی بریلوی دیوبندی سنی شیعہ اہلدحدیث نجدیوں سمیت آپکے سارے فـرقـہ بـازوں کا سچ جھوٹ کھول کر آپکے سامنے پیش کردوں گا۔ افراز

محترم افراز صاحب الحمداللہ پانچ وقت کا نمازی ہوں میں اور فرقہ بازی آپ کی طرف سے ہورہی ہے یہاں غلط لکھا گیا ہے ہمارے بارے میں جس کا کوئی حوالہ بھی موجود نہیں ہے اور اوپر سے اس کو غیر جانبدار کہا گیا ہے جہ کہ سراسر جھوٹ ہے میں نے تو اس حوالہ مانگا اور انصاف مانگا جیسا کہ آپ کا دعوٰی ہے کہ ویکیپڈیا آزاد ہے جوکہ اب تک تو جھوٹا ثابت ہورہا ہے کیونکہ خصوصی طور پہ ایک خاص وہابی فرقہ کی یہاں‌ترویح و اشاعت ہورہی ہے ۔اور نا ہی آپ نے ابھی تک کوئی حوالہ مانگا کسی سے اور نا دھمکی دی ۔

  • دیکھیۓ سبحانی صاحب آپ ہی بتایۓ کہ میں کیا کروں ؟ آپ نے کہا کہ محمد (ص) کو نور ماننے والی بات جھوٹ ہے اور میں اسکا بھی حوالہ مانگ لیا۔ پھر بھی آپ جانبداری کا الزام لگا رہے ہیں ؟ اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ میں نے اور دوسرے فرقے بازوں کے حوالے کیوں نہیں مانگ رہا تو اسکا جواب میں نے پہلے بھی دیا ہے کہ میں ان صفحات کو ابھی تک پڑھ ہی نہیں سکا اس لیۓ مجھے معلوم ہی نہیں کہ ان میں کیا ہے؟ اگر آپ کو ان میں کوئی بات قابل اعتراض یا جانبدار ملی ہے تو براہ کرم اس صفحہ کے تبادلہ خیال پر بیان کردیجیۓ تا کہ اسکو بھی سدھارا جاسکے ، جیسے بریلوی کو سدھارا جارہا ہے۔ افراز

Citation[ترمیم]

Afraz sahib, i think we should not restrict to 15 days.

Normally when in article you see {{citation needed}} this mean that the information is doubtfull.


Citation is need to approve or disapprove both.

You are not bound to cite from internet, or specific Text.

If you dont agree with anyline, please provide us exact source, we will try to remove it.

Saqib

  • pardon me, are you saif ullah? who are you? OK, I dont want to waste my time on useless things. I leave this matter

forever without deleting it after 15 days. afraz

  • محترم افراز صاحب اگر آپ غیر جانبدار ہیں جیساکہ آپ کا دعوٰی ہے تو نام نہاد غیر جانبدار تجزیہ کے بھی حوالہ جات مانگیں اور نا ملنے پر ان کو بھی دھمکی دیں اور صرف ریڈ کلر والی بات نہیں‌اوپر میں نے لکھا ہے اُن تمام باتوں کا حوالہ مانگا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم بشر بھی مانتے ہیں اور نور بھی دونوں‌قرآن و حدیث سے ثابت ہیں جبکہ یہاں تحریر ہے بشر کے بجائے نور تو صحیح کیجیے یا پھر ڈیلیٹ ۔ امید کرتا ہوں جلد آپ نام نہاد غیر جانبدار تجزیہ کا قلع قمع کرینگے اور میرے حوالاجات اس کے بعد ہی آئیں گیں۔
  • کونسی آیت میں درج ہے یہ؟ سورہ کا نام اور آیت کا عدد بتایۓ۔
  • حدیث کے مضمون میں حذف شدگی کی وجہ جانبداری نہیں تھی بلکہ وہ عبارت پڑھنے میں نہیں آرہی تھی ، میں نے درست کر کے اس صفحہ پر منتقل کردیا ہے، بعد از حیات انبیاء کے بارے میں احادیث۔ اب تو جانبداری کا طعنہ نہ دیجیۓ حضرت۔ افراز
  • محترم افراز صاحب

آپ نے ابھی تک نام نہاد غیر جانبدار تعارف کی ایک ہی لائن پہ حوالہ درکار ہے لگایا جس سے واضح ہورہا ہے کہ جانبداری سے کام لیا جارہا ہے ، آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نور ہونے پر حوالہ مانگا یہ لنک لیجیے یہاں حوالاجات موجود ہیں‌۔

.raza.co.za/Aqeeda/Aqeeda_Prophet%20is%20Noor.htm

باقی رہا دیگر حوالاجات یا بات چیت کا تو محترم اگر تو حقیقتا غیر جانبدار اور آزاد ہی ویکیپیڈیا تو فی الفور غیر جانبدار تجزیہ کے حوالہ مانگے جائیں اور دھمکی بھی دی جائے نہیں‌تو کوئی فائدہ نہیں بات چیت کا جب آپ نے وہابیہ کی ہی تبلیغ کرنی ہے تو۔۔۔

  • آپ کا دیا ہوا حوالہ ، مطلوبہ حوالہ درکار کی جگہ پر لگا دیا گیا ہے۔ افراز

میری رائے[ترمیم]

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

امید ہے کہ سب ساتھی خیریت سے ہونگے

اس ٘مضمون کے متعلق میری رائے ہے کہ اس کو بالکل دیوبندی والے مضمون کی طرح غیر جانبدار بنا دیا جائے ۔

http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%8C


کیونکہ یہاں جانبدار بہت زیادہ ظاہر ہو رہی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


خوش رہیں Pls find reference from Quran اس کے علاوہ رسول محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو بشر کی بجائے نور سمجھتے ہیں اور ان کو ابھی ہر جگہ موجود تصور کرتے ہیں [حوالہ درکار

as per Quran " Or Humnay tumhari taraf roshan kitab or noor bheja". SO Kitab is Quran and what you think about Noor, that is our Mummad Mustufa PBUH) Kuchnahee

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نور ہونے کا حوالہ[ترمیم]

جن حضرات کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نور ہونے کا حوالہ درکار ہے اَن کی خدمت میں یہ حدیث نبوی پیش ہے۔

عنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اﷲِ رضي اﷲ عنھما قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُوْلَ اﷲِ بِاَبِي اَنْتَ وَاُمِّي، اَخْبِرْنِي عَنْ اَوَّلِ شَيءٍ خَلَقَھُ اﷲُ تَعَالَي قَبْلَ الْاَشْيَاءِ؟ قَالَ : يَا جَابِرُ، اِنَّ اﷲَ تَعَالَي قَدْ خَلَقَ قَبْلَ الْاَشْيَاءِ نُوْرَ نَبِيِکَ مِنْ نُورِھِ، فَجَعَلَ ذَلِکَ النُّوْرَ يَدُوْرُ بِالْقُدْرَۃِ حَيْثُ شَاءَ اﷲُ تَعَالَي، وَلَمْ يَکُنْ فِي ذَلِکَ الْوَقْتِ لَوْحٌ وَلَا قَلَمٌ، وَلَا جَنَّۃ وَلَ نَارٌ، وَلَا مَلَکٌ وَلَا سَمَاءٌ، وَلَا اَرْضٌ وَلَا شَمْسٌ وَلَ قَمَرٌ، وَلَا جِنِّيٌّ، وَلَا اِنْسِيٌّ، فَلَمَّا اَرَادَ اﷲُ تَعَالَي اَنْ يَخْلُقَ الْخَلْقَ قَسَمَ ذَلِکَ النُّورَ اَرْبَعَةَ اَجْزَاءٍ : فَخَلَقَ مِنَ الْجُزْءِ الْاَوَّلِ الْقَلَمَ، وَمِنَ الثَّانِيِّ : اللَّوْحَ وَمِنَ الثَّالِثِ : الْعَرْشَ، ثُمَّ قَسَمَ الْجُزْءَ الرَّابِعَ اَرْبَعَةَ اَجْزَاءٍ فَخَلَقَ مِنَ الْاَوَّلِ : حَمَلَةَ الْعَرْشِ، وَمِنَ الثَّانِيِّ : الْکُرْسِيَّ وَمِنَ الثَّالِثِ : بَاقِيَ الْمَلَائِکَۃِ، ثُمَّ قَسَمَ الْجُزْءَ الرَّابِعَ اَرْبَعَۃَ اَجْزَاءٍ، فَخَلَقَ مِنَ الْاَوَّلِ : السَّمَوَاتِ، وَمِنَ الثَّانِيِّ : الْاَرْضِيْنَ وَمِنَ الثَّالِثِ : اَلْجَنَّةَ وَالنَّارَ . . . الحديث. رَوَاھُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ.

الحديث رقم 76 : اخرجھ عبد الرزاق في المصنف (الجزء المفقود من الجزءالاول من المصنف) 1 / 63، الرقم : 63، والقسطلاني في المواھب اللدنيۃ 1/ 71، وقال : اخرجھ عبد الرزاق بسندھ، والزرقاني في شرح المواھب اللدنيۃ 1 / 89 -91، والعجلوني في کشف الخفاء 1 / 311، الرقم : 827، وقال : رواھ عبد الرزاق بسندۃ عن جابر بن عبد اﷲ رضي اﷲ عنھما 1 / 8، والعيدروسي في تاريخ النور السافر وقال : رواھ عبد الرزاق بسندۃ، والحلبي في السيرۃ 1/ 50، والتھانوي في نشر الطيب، 1 / 13.

ترجمعہ:۔ حضرت جابر بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے فرمایا کہ میں نے بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں عرض کیا : یا رسول اﷲ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! مجھے بتائیں کہ اﷲ تعالیٰ نے سب سے پہلے کس چیز کو پید کیا؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے جابر! بے شک اﷲ تعالیٰ نے تمام مخلوق (کو پیدا کرنے) سے پہلے تیرے نبی کا نور اپنے نور سے پیدا فرمایا، یہ نور اللہ تعالیٰ کی مشیت سے جہاں اس نے چاہ سیر کرتا رہا۔ اس وقت نہ لوح تھی نہ قلم، نہ جنت تھی نہ دوزخ، نہ (کوئی) فرشتہ تھا نہ آسمان تھا نہ زمین، نہ سورج تھا نہ چاند، نہ جن تھے اور نہ انسان، جب اﷲ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ مخلوق کو پیدا کرے تو اس نے اس نور کو چار حصوں میں تقسیم کر دیا۔ پہلے حصہ سے قلم بنایا، دوسرے حصہ سے لوح اور تیسرے حصہ سے عرش بنایا۔ پھر چوتھے حصہ کو (مزید) چار حصوں میں تقسیم کیا تو پہلے حصہ سے عرش اٹھانے والے فرشتے بنائے اور دوسرے حصہ سے کرسی اور تیسرے حصہ سے باقی فرشتے پیدا کئے۔ پھر چوتھے حصہ کو مزید چار حصوں میں تقسیم کیا تو پہلے حصہ سے آسمان بنائے، دوسرے حصہ سے زمین اور تیسرے حصہ سے جنت اور دوزخ بنائی۔ ۔ ۔ یہ طویل حدیث ہے

مندرجہ بالا کتب کے علاوہ اس کو معدرجہ ذیل کتب میں بھی روایت کیا گیا

علامہ حسین بن محمد دیار بکری تاریخ الخمیس ج 1 ص 22 شاہ عبد الحق محدث دہلوی مدارج النبوۃ ج 2 ص 2 علامہ قسطلانی مواہب مع زرقانی ج 1 ص 55 علامہ زرقانی شرح مواہب ج 1 ص 55 علامی فاسی مطالع المرات ص 221

اور عالم محقق عارف باللہ سیدی عبداق الغنی نابلسی قدس سرہ القدسی حدیقئہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ میں فرماتے ہیں قد خلق کل شیء من نورہ صلی اللہ علیہ وسلم کما ورد بہ الحدیث الصحیح علامہ عبد الغنی نابلسی الحدیقہ الندیہ ج 2 ص 305 ۔

میں حیران اس بات پر ہوں کہ دیوبند حضرات حوالے کی فرمائش کر رہے ہیں[ترمیم]

لیکن یہ فتوی تو خود دارلعلوم دیوبند کی آفیشل ویب سائٹ پر بھی موجود ہے۔ دیکھئے لنک http://darulifta-deoband.com/urdu/viewfatwa_u.jsp?ID=6673

اسکے علاوہ اگر قرآن پاک کا حوالہ چاہے تو ذیل میں سورہ نور کی آیتِ نور کی تفسیر میں مستند امام کی تفسیر میں پڑہ لیں اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكَاةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُوقَدُ مِن شَجَرَةٍ مُّبَارَكَةٍ زَيْتُونِةٍ لَّا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ نُّورٌ عَلَى نُورٍ يَهْدِي اللَّهُ لِنُورِهِ مَن يَشَاء وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ۔ النور:35

امام مقاتل بن سلیمان اپنی تفسیر مقاتل، حافظ ابنِ کثیر اپنی تفسیر ابنِ کثیر، امام ابن جرير الطبري اپنی تفسير الطبري، امام سیوطی اپنی تفسير الجلالين اور تفسیر ابن عباس سمیت دیگر مفسرین اس آیت کے تحت اپنی تفاسیر میں لکھتے ہیں کہ مَثَلُ نُورِهِ میں هِ کا مسدر و مرجع حضور علیہ سلام کی ذاتِ مبارکہ ہے۔ یعنی اللہ عزوجل نے اپنے نور کی مثال آپ سلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے دی۔ اس طرح اس آیتِ مبارکہ سے مندرجہ بالا حدیث کی مزید تائید ہو جاتی ہے۔

  • صاحب آپ نے تو ایک بازارِ شور و غوغا بپا کر ڈالا ہے۔ جو حدیث آپ نے درج فرمائی ہے وہ بھی اور آپ کا مشار فتویٰ بھی اپنی کاملیت سے محروم ہے، اسے مکمل درج کیجیۓ تو کوئی بات کی جاسکے۔ رہی بات سورت النور کی آیتِ معلن بہ عددِ پینتیس کی تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ کہیں بھی آپ کا مذکورہ بالا دعویٰ ثابت نہیں ہو رہا۔ ایک چیز ہوتی ہے تفسیر اور ایک ہوتی ہے تاویل؛ علیل البیانی کے جواہر سے تو فنِ مقرری کے ماہرین ، چوکور کو گول ثابت کر دیا کرتے ہیں۔ --سمرقندی 04:26, 17 جنوری 2009 (UTC)


سمرقندی صاحب[ترمیم]

آپ شائد فنِ علمِ حدیث و تفسیر اور اسکے اصولوں سے واقف نھیں اس لے چکور اور گول والی بے معنی اور غیر منطقی باتیں کررہے ہیں۔ جو آپ نے مکمل حدیث کی بات کی ہے تو میں نے متعلقہ حصہ آپ حضرات کی خدمت میں پیش کردیا ہے اور امام عبدالرزاق کی مصنف عبدالرزاق سے حوالہ بھی دے دیا ہے، مزید برآں بیسیوں مزید اَن کتب کا حوالہ بھی دے دیا جنھوں نے اس حدیثِ مبارکہ کی تخریج کی۔ اکر آپ نے مذید مطالعہ کرنا ہے تو آپ متعلقہ کتابِ حدیث کا مطالعہ مطلعہ کیوں نھیں کرلیتے؟

یہاں امام عبدالرزاق کے بارے میں مزید آپ حضرات کی معلومات کیلئے عرض کردوں کہ امام عبدالرزاق رضی اللہ تعالی عنہ پہلی صدی ھجری کی تابعی بزرگ، امام سیدنا امام مالک رضی اللہ عنہ کے شاگرد اور سیدنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ کے استاد اور امام بخاری و امام مسلم کے استاذ الاستاذ ہیں۔ مزید امام عبداق الغنی نابلسی قدس سرہ القدسی حدیقئہ ندیہ نے اپنی شرح طریقہ محمدیہ اس حدیث کو حدیثِ صحیح کہا۔

اسی طرح سورہ نور کی آیت 35 کا حوالہ بھی آپ کی خدمت میں پیش کردیا ہے آپ کو چاہے کہ متعلقہ کتبِ تفاسیر کو اس آیت کے ذیل میں پڑھیں تاکہ آپ کی مزید تشفی ہوجائے۔ مذید یہ کہ میں نے کسی بھی غیر مستند تفسیر کی کتاب کا حوالہ نھیں دیا۔ کوئی حوالہ بھی کسی تھانوی چھکڑانوی جھنگوی مودودی وغیرہ یا کسی اور متنازعہ یا موجودہ دور کے مفسر کی لکھی ہوئی تفسیر سے نھیں بلکہ براہ راست صحابہ اکرام تابعیں اور تبع تابعیں کی لکھی ہوئی تفاسیر ہیں۔ اور یہ کتبِ تفاسیر نہ صرف پاک و ہند بلکہ تمام عالم عرب بشمول سعودی عرب، شام، مصر و یمن میں مقبول اور وہاں کے مدارس میں پڑھائی جاتی ہیں، بلکہ ہر فرقہ اور مسلک میں مقبول عام ہیں۔

اسی طرح دارلعلوم دیوبند کا فتوی کوئی میں نے گھڑا ہے؟ اگر آپ کو اس میں کوئی خامی نظر آتی ہے تو دیو حضرات سے پوچھیں۔ میں نے آپ کو صرف یہ بتایا ہے کہ وہ بھی حضور علیہ سلام کے نور ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں۔

اب آخر میں[ترمیم]

کیا وکیپیڈیا کسی کے مذہب کا ٹھکیدار ہے جو کسی کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ کرنے بیٹھ گیا ہے؟ کیا وکیپیڈیا پر مختلف فرقوں کو چھپا دینے سے فرقے ختم ہوجائیں گے؟ کیا قادیانی کو وکیپیڈیا پر چھپانے سے وہ ختم ہوجائیں گے؟ کیا شیعہ کو وکیپیڈیا پر چھپانے سے وہ ختم ہوجائیں گے؟ کیا دیوبندی یا وہابی کو وکیپیڈیا پر چھپانے سے وہ ختم ہوجائیں گے؟ کیا یھودیوں کو وکیپیڈیا پر چھپانے سے وہ ختم ہوجائیں گے؟ کیا وکیپیڈیا کا یہ مقصد رہ گیا ہے کہ وہ فرقوں کو چھپاتا پھرے؟

اگر کوئی غلط یا صحیح عقیدہ رکھتا ہے تو یہ وکیپیڈیا کا مسئلہ نھیں[ترمیم]

وکیپیڈیا کا کام چھپانے کے بجائے ظاہر کرنا ہے اور آگے عوام کا کام ہے کہ وہ حقائق کا پتہ چلائیں۔

بریلوی مسلک کے بارے میں دیوبندی وھابی یا شیعہ زیادہ جانتا ہے یا خود بریلوی مسلک کا فرد؟[ترمیم]

انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ بریلوی مسلک کے عقائد اَس موضوع کے تحت بیان جائیں اور صرف یہ خیال رکھا جائے کہ وہ اس مسلک کے عقائد ہی ہوں نہ یہ کہ وہ صحیح ہیں یا غلط، یہ کام پرھنے والوں پر چھوڑ دیا جائے اسی طرح دیوبند و وھابی و شیعہ و قادیانی مضامین کے تحت انکے اپنے عقائد بیان ہونے چاہیں۔ صحیح ہیں یا غلط، یہ کام لوگوں پر چھوڑ دیا جائے

  • مضمون کو نیم محفوظ کر دیا گیا ہے آپ جو اندارجات کرنا چاہتے ہیں کر سکتے ہیں۔ مذکورہ بالا حدیث کے بارے میں عرض ہے کہ اس کا اختتام ایک مرتبہ پھر نور کے چار حصے کرکہ ایک سے بصارت ، دوسرے سے قلب اور تیسرے سے عضوِ گفتار بنایا گیا۔ تو اس سے تو یہ صاف عیاں ہے کہ تمام انسان نور سے ہی تخلیق کیۓ گۓ ہیں۔ آپ اصل میں لفظ نور کا فلسفہ سمجھ نہیں پا رہے۔ اب رہی بات سورت النور کی آیت پینتیس کی تو جناب اسی سورت کی مزید آیات بھی ملاحظہ فرما لیجۓ میرا خیال ہے کہ براہ راست خود پڑھنے سے تفاسیر میں بھول بھلیاں کھیلنے کی نسبت زیادہ فائدہ ہوگا۔ سیاق و سباق ملاحظہ کیجۓ ، اللہ نے نا صرف قرآن کو بلکہ تمام آسمانی کتب کو نور کہا ہے، یعنی ان میں موجود تعلیمات اور ہدایات کو انسانوں کے لیۓ نور کہا گیا ہے۔ بہر حال مضمون اب غیر مقفل ہے ، جو اضافہ آپ کو کرنا ہے کر دیجیۓ جو ناچیز سے ہو سکے گا ناچیز کرتا رہے گا۔ --سمرقندی 13:53, 17 جنوری 2009 (UTC)

شکریہ سمرقندی صاحب[ترمیم]

سمرقندی صاحب میں آپ کا ممنون ہوں کہ آپ نے وسعتِ قلبی اور حقیقت آشنائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اندراج کو ممکن بنایا۔ انشاء اللہ میں پوری تن دہی کے ساتھ وکیپیڈیا کی ترقی کے لئے کوشاں رہوں گا۔ میں پیشے کے لحاظ سے سوفٹ ویَر انجینیئر ہوں، پھلے چھ سال سے ٹورنس کیلی فورنیا میں مقیم تھا حال ہی میں پاکستان منتقل ہوا ہوں اور آجکل مائیکروسافٹ پاکستان سے منسلک ہوں۔ اردو وکیپیڈیا کیلئے ہر ممکن خدمت میرے لئے باعث اعزاز ہِوگی خاص طور پر اگر مائییکروسافٹ پاکستان سے متعلق کوئی معاونت درکار ہو تو فلفور مجھے زحمت دیں۔ خدا کیلئے کوئی مائیکروسافٹ کے Pirate سافٹ ویئر کی فرمائش نہ کرے۔

  • دخل اندازی کی معذرت، جلال صاحب۔ آج کل لینکس کا زمانہ ہے، م‌س کی قزاقی کی کسی کو ضرورت نہیں۔ یقین نہ آئے تو "اردو محفل (اردو ویب ڈاٹ آرگ سلیش محفل)" پر جا کر دیکھیں کہ لینکس اب ماہرین نہیں بلکہ قوم ابنتو استعمال کر رہی ہے۔ --Urdutext 02:06, 18 جنوری 2009 (UTC)
  • اردو ٹیکسٹ صاحب کی بات میں جو وزن ہے اس سے میں انکار نہیں کرسکتا کہ وہ علم شمارندہ اور بطور خاص اردو دنیا میں شمارندے سے متعلق ہونے والی تبدیلیوں سے میری نسبت بہت زیادہ واقفیت رکھتے ہیں۔ ویسے جلال صاحب چند ایک باتیں ہیں جن پر آپ کی راۓ جاننا چاہوں گا۔
  1. microsoft کے keyboard پر اعراب (حرکات) کا اضافہ نہیں کیا جاسکتا؟ کیا windows کے کسی اگلے version میں ایسا ممکن ہوسکتا ہے؟
  2. کیا اردو کے لیۓ tahoma, sans serif اور arial جیسے بھدے fonts کے ساتھ ساتھ traditional arabic نامی خوشخط font میں اردو کے چند حروف (ے ڑ ں وغیرہ) کا اضافہ کر کہ traditional arabic font میں اردو لکھنے کا اختیار دینا کوئی ناممکن کام ہے؟
  3. آخر میں ایک گذارش کہ اگر یاد رہا کرے تو اپنی تحریر یا پیغام کے اختتام پر edit box میں دیۓ گۓ sign کے button کو دبا دیا کیجیۓ اس سے آپ کے خودکار دستخط پیدا ہو جائیں گے --سمرقندی 06:27, 18 جنوری 2009 (UTC)
  4. کیا مائیکروسافٹ ایسا کرے گی کہ اردو کی بورڈ کو تھوڑا ذہین کر دیا جائے تاکہ شفٹ کی دبانے کی ضرورت نہ رہے۔ مثلا "ک" لکھنے پر کی بورڈ خود ہی اندازہ لگا لے کہ یہاں "ک" آنا چاہیے یا "گ" اسی طرح "ن" اور "ں" میں بھی خود کار طریقے سے حروف لکھے جا سکیں۔ اطلاعا عرض ہے کہ چینی زبان لکھنے کے لیے ایسی ہی سہولت (بلکہ ممکنہ طور پر بہت زیادہ پچیدہ)ونڈو ایکس پی میں پیش کی جا چکی ہے --202.125.156.122 08:28, 3 فروری 2009 (UTC)

قابل اعتراض جملے[ترمیم]

مزید برآں حضور علیہ صلوۃ و سلام کی ذاتِ مبارکہ کے ادب و تعظیم اور آپ علیہ صلاۃ و سلام کی تعریف و توصیف میں حد درجہ مبالغہ آرائی اور غلو کو باعثِ سعادت قرار دیا جاتا ہے۔ اور اسے شرک پر محمول نھیں کیا جاتا
میرے نزدیک مندرجہ بالا جملے انتہائی قابل اعتراض ہیں اور انہیں حذف کیا جانا چاہیے۔ میرے خیال سے کسی خاص فرقے کے متعلق معلومات بڑی احتیاط سے پیش کی جانی چاہیئیں اور ان میں الزام تراشی بہت غلط حرکت ہے۔ ہاں دلائل کے ساتھ اگر بات کی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں چاہے وہ بات ناگوار ہی کیوں نہ ہو۔ مجھے امید ہے کہ آپ حضرات مجھ سے اتفاق کریں گے۔

noor sy roshani hai noori makloq nai[ترمیم]

noor sy mard roshani hai, hadyit,na kh noor sy noori makloq, noori ki fazelt insan sy km hai, kh in ko ilam dia gia, or noor sy sajda krwya gia.

بریلوی نیا فرقہ نہیں اہل سنت وجماعت ہیں[ترمیم]

میں نے اردو وکیپیڈیا کی اس تحریر کو دیکھا "دوبارہ یا از سر نو لکھنے کی ضرورت" لکھا ہوا تھا۔ تبادلہ خیال دیکھا، بہت زیادہ گفتگو تھی۔ ساری نہیں پڑھی۔ پھر تحریر کو مکمل پڑھا۔ دراصل میرے پاس آن لائن حوالہ جات اس وقت نہیں ہیں۔ ورنہ میں حوالے بھی پیسٹ کرتا۔ ان شاءاللہ تلاش کرنے کے بعد ضرور لکھوں گا۔ تحریر میں اگرچہ اہل سنت و جماعت کے عقائد و نظریات ہی لکھے ہوئے ہیں اور اہل سنت کو صرف بریلوی ، بریلوی کہا گیا ہے۔ اوپر ایک حوالہ درکار تھا۔ مجھے وہاں حوالہ باقاعدہ لکھنا بھی نہیں آتا۔ ان میں سے ایک یہ کہ علامہ محمد ارشد القادری نے اپنی ایک کتاب "عید میلا د البنی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی شرعی حیثیت" میں اس اعتراض کہ "میلاد کا لفظ ہی نئے دور کی بدعت ہے" کا جواب لکھا ہے کہ امام ترمذی اپنی جامع میں ایک باب کا عنوان میلاد یا مولدالنبی وغیرہ جیسا باندھا ہے اور امام ترمذی کی سوانح حیات سے پتا چل سکتا ہے کہ کس دور میں مسلمان میلاد کو مانتے تھے ۔ حالانکہ خود ساختہ اہل سنت(غیر مقلد اور دیوبندی) جو کہ اصل میں ہمفرے کی محنت سے نو آبادیاتی نظام نے تیار کروائے وہ کبھی دیوبندی کہلوائے کبھی برطانوی ہند کی کافر حکومت سے اہل حدیث کا سر ٹیفکیٹ لیا۔ اب آ جا کے جب دیکھا کہ عوام تو اہل سنت ہی کو اہل حق مانتے ہیں تو اپنی تنظیموں کے نام اہل سنت والجماعت وغیرہ رکھ لیے۔ اور اہل سنت کے نام پر قبضہ جمانے کی کوشش میں مصروف ہو گئے۔ اعلی حضرت احمد رضا خان قادری اہل سنت تھے۔ اور وہی پچھلی صدی کے مسلمان مجدد تھے۔ انہوں نے مجتہد ہونے تک کا دعوی نہیں کیا۔ اگر بریلوی ایک جدید مسلک یو فرقہ مانا جائے تو پاکستان کی قومی اسمبلی میں جب مرزائیوں(قادیانیوں) کو اقلیت قرار دلوانے کے حوالے سے مولانا شاہ احمد نورانی کا بل 30 جون 1974 میں پیش کیا گیا تھا۔ جس پر بحثیں ہوئیں۔ پھر مرزائی تنظیم کے سربراہوں کو صفائی کو موقع دیا گیا۔ جب اس وقت کے مرزائی سربراہ نے ایک طویل عرصہ تک سوالات کے جوابات کے بعد اپنے علاوہ دیگر کو کافر کہا تو 7 ستمبر 1974 کو وہ بل پاس ہو کر آئین کا حصہ بنا۔ تب اس نے دیوبندی فرقہ کے بانی مولانا محمد قاسم نانوتوی "پنجابی وکیپیڈیا میں مولانا قاسم نانوتوی(محمد قاسم نانوتوی اک اسلامی مزھبی پڑھاکو سی۔ اونے رشید احمد گنگوہی نال رل کے دارالعلوم دیوبند دی دیوبند شہر چ نیو رکھی۔ محمد قاسم نانوتوی اک پنڈ نانوتہ چ 1832 چ جمے تے 1880 چ مریا۔ مولانا قاسم نانوتوی کو کون نہیں جانتا یہ ہستی محتاجِ تعارف نہیں ، ہر مکتبہ فکر چاہے مرزائی ہی کیوں نا ہو ان سے بخوبی واقف ہے ، یوں تو اپنوں کیلئے نانوتوی صاحب کی بہت سی خدمات ہیں جن میں سے ایک چھوٹا سا کارنامہ قارئین کی خدمت میں پیش ہے بانی دیوبند قاسم نانوتوی نے اہل اسلام کے اجتماعی عقیدہ ختم نبوت کا انکار کیا ہے اور خاتم النبیین کے معنی میں تحریف کی ہے۔ نانوتوی کی چند ایک عبارات ہدیہ قارئین کی جاتی ہیں۔ بانی دیوبند قاسم نانوتوی لکھتے ہیں: سو عوام کے خیال میں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا خاتمہ ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانہ کے بعد اور آپ سب میں آخری نبی ہیں۔ مگر اہل فہم پر روشن ہوگا کہ تقدم یا تآخر زمانہ میں بالذات کچھ فضیلت نہیں، پھر مقام مدح میں ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین فرمانا اس صورت میں کیوں کر صحیح ہو سکتا ہے۔ (تحذیر الناس صفحہ3 طبع دیوبند) اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔ (تحذیرالناس صفحہ 28 طبع دیوبند) آپ موصوف بوصف نبوت بالذات ہیں اور سو آپ کے اور نبی موصوف بوصف نبوت العرض۔ (تحذیرالناس صفحہ4 طبع دیوبند) تمام اہل اسلام خاتم النبیین کا معنی آخری نبی کرتے ہیں اور کرتے رہے مگر نانوتوی نے اسے جاہل عوام کا خیال بتایا۔ یہ تحریف فی القرآن ہے۔ پھر حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے بعد نبی پیدا ہونے کو خاتمیت محمدی، حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے آخری نبی ہونے میں کوئی فرق نہ پڑنا بتایا جو کہ ختم نبوت کا انکار ہے۔ واضح طور پر خاتم النبیین کا ایسا معنی تجویز کیا گیا جس سے مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوٰی نبوت کا رستہ ہموار ہو گیا اور مرزائی اپنی حمایت میں آج بھی تحذیرالناس پیش کرتے ہیں تو دیوبندی اپنا سا منہ لے کر رہ جاتے ہیں۔ قادیانیوں نے اس پر مستقل رسالہ بھی لکھ کر شائع کیا ہے۔ “افادات قاسمیہ“ نبوت کی تقسیم بالذات بالعرض نانوتوی کی ایجاد ہے۔ دیوبندی حکیم الامت اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں: جب مولانا محمد قاسم صاحب۔۔۔۔۔۔۔ نے کتاب تحذیرالناس لکھی تو سب نے مولانا محمد قاسم صاحب کی مخالفت کی بجز مولانا عبدالحئی صاحب نے۔ (قصص الاکابر صفحہ 159 طبع جامعہ اشرفیہ لاہور) جس وقت مولانا نے تحذیرالناس لکھی ہے کسی نے ہندوستان بھی میں مولانا کے ساتھ موافقت نہیں کی بجز مولانا عبدالحئی صاحب کے۔ (افاضات الیومیہ ج5 صفحہ 296 طبع ملتان)") کی "تخذیرالناس" کا حوالہ دے کر (جو کہ پنجابی وکیپیڈیا پر موصوف کے نام پر موجود ہے) غلو خلاصی چاہی تو مولانا شاہ احمد نورانی نے مفتی محمود صاحب اور سید ابوالاعلی مودودی کی جانب اشارہ کیا کیونکہ وہ ہی صاحب تخذیرالناس کے ماننے والے تھے۔ ان دونوں حضرات سے جواب نہ بن پڑا۔ اور پاکستان کی قومی اسمبلی میں حق عیاں ہو گیا۔ قادیانی نمائندہ دونوں کو باطل فکر کا ترجمان ثابت کر گیا۔ حالانکہ وہ خود کو صحیح ثابت کرنا چاہتا تھا۔ دیوبندیت کی چھتری میں پناہ لینا چاہتا تھا۔ لیکن ان کی باطل فکر نہاں ہو گئی۔ اس طرح کل کلاں کو کوئی اور ایک "نورانی فرقہ" بھی کہہ ڈالے گا۔ یہ سراسر زیادتی ہے۔ اور مولانا قاسم نانوتوی دیوبندی فرقے کے اکابرین میں سے تھے نہ کہ اہل سنت وجماعت کے۔ ہاں ویسے میں نے مولانا رشید احمد گنگوہی کے فتاوی میں انہیں خود کو اہل سنت وغرہ کہتا دیکھا ہے لیکن وہ محمد بن عبدالوہاب کو بھی ٹھیک مانتے تھے یعنی وہابی الاصل عقائد کے حامل تھے۔ اور فرقہ وہابیہ ہمفرے کی محنت سے تیار ہوا۔ اس کے پیچھے مستشرقین جو کہ اسلام کے دشمن ہیں ان کا فکری کام تھا۔ اور ابن تیمیہ ، ابن کثیر اور ابن قیم کے غیر مقلدانہ عقائد کی کھچڑی کا امتزاج تھا۔ حالانکہ وہ اہل سنت نہ تھے بلکہ غیر مقلد تھے اور قرآن کی ڈائریکٹ ذاتی تفسیر کے قائل تھے۔ کہ ہر بندہ وحی الہی کو خود سمجھ سکتا ہے۔ اسی طرز پر برصغیر میں شاہ اسماعیل شہید دہلوی نے اپنی کتاب "تقویۃ الایمان" کا آغاز اسی فکر سے کیا۔ کہ عام لوگ خود قرآن کو ترجمہ کرکے سمجھ لینے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ شاہ صاحب دلیل لائے کہ آقا کریم کو اللہ عزوجل نے عام لوگوں کی طرف بھیجا اور اب ہر ایرا غیرا نتھو کھیرا بذات خود مفسر اور مترجم ہو سکتا ہے۔ اس طرح کی بنیاد پر پروان چڑھنے والے اہل حدیث وہابی، سلفی، نجدی، دیوبندی،مودودی، ذاکر نایکی، نیچری، چکڑالوی، آزاد کلامی، مشرقی، جدیدی، بنیاد پرست، جدت پسند، صلح کلی، اور نجانے کیا کیا آج خود کو سنی اور سنیوں کو بریلوی کہہ کر ایک کونے سے لگانا چاہتے ہیں۔ یہ زیادتی ہے۔ حوالے مجھ پر اُدھار رہے۔ اس کے بعد امید ہے کہ اس صفحے کو اہل سنت اور باطل جدید فرقوں کو اہل بدعت لکھا جائے گا۔ اگر میری تحریر میں جانب داری کا شبہ یا جانب داری نمایاں ہے تو عرض ہے کہ یہ تبصرہ کیا ہے نہ کہ صفحہ تخلیق کیا۔ اور یہ حقائق ہیں۔ بریلوی دراصل اہل سنت وجماعت ہیں۔ اگر اعمال میں خرافات مثلا دربار پر ڈھول ڈمکا وغیرہ ہے یا چرسی بھنگی ہیں تو ان کا رد بریلوی اہل سنت علماء نے بڑے زوردار طریقے سے کیا ہے۔ بریلوی اہل سنت علماء کے نزدیک سجدہ صرف اللہ کو ہے۔ تعظیمی بھی حرام ہے۔ شرک اس سے آگے کا فتوی ہے۔ ان شاءاللہ دوبارہ حوالہ جاتی تحریر لکھوں گا۔ ہاں

پر ایک حوالہ جاتی تحریر موجود ہے جو"اہل سنت و جماعت حنفی بریلوی مسلک کامختصر تعارف‘ مختصر تاریخ اور عقاید ملک اظہر" ہے۔ وہ بھی دیکھ لی جائے۔ علامہ محمد ارشد القادری نے اپنی کتاب "الجھا ہے پاؤں یار کازلفِ دراز میں" وہابی اہل حدیث علماء کی کتاب "کرامات اہلحدیث" سے وہ سارے افعال ان کے گھر سے بھی دکھائے ہیں جن کی بناء پر بریلی سنیوں کو مشرک کہا جاتا ہے۔ عبدالرزاق قادری عبدالرزاق قادری (تبادلۂ خیال) 11:58, 2 نومبر 2012 (UTC)

عجیب بات ہے کہ یہ دائرۃ المعارف ہے یا میدان مناظرہ۔ کیا بریلوی مسلک کچھ اشخاص کی مخالفت کا نام رہ گیا ہے۔ ہر تقریر و تحریر میں اپنے عقائد کے اثبات سے زیادہ دوسروں کے محاسبہ کو اپنا شعار بنا رکھا ہے۔ ہونا یہ چاھیے کہ بریلوی مسلک کے بنادی معتقدات واضح انداز میں لکھ دیے جائیں اور ان کا یہ دعوے بھی کہ حقیقی اھل السنت و الجماعت ہونے کے مدعی ہیں۔ اس کی کیا تک کہ مولانا قاسم نانوتوی نے ختم نبوت کا انکار کیا یا نہیں۔ ان کی عبارت کا کیا مطلب ہے۔کسی بھی مسلک و مذھب کے عقائد کی کتب سے نقل کی جانی چاھیے۔ آپ محض کتب عقائد سے اپنے عقائد دلائل کے ساتھ ارقام فرمائیں۔ ھر جگہ وھابی،دیوبندی ، نانوتوی،تھانوی اور مودودی کا رونا نہ رویا کریں۔(بسمل سیماب)

نور اور ذوالنورين[ترمیم]

حضرت عثمان ابن عفان

ذوالنورين کا مطلب ہے دو نور والا۔ آپ کو اس لئے ذوالنورين کہاجاتاہے کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کي دو صاحبزادیاں یکےبا دیگرے آپ کے نکاح میں آئیں یہ وہ واحد اعزاز ھے جو کسی اور حاصل نہ ھو سکا.آپ کا شمار عشرہ مبشرہ میں کیاجاتا ہے یعنی وہ دس صحابہ کرام جن کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی حیات مبارکہ ہی جنت کی بشارت دی تھی. عبدالرزاق قادری (تبادلۂ خیال) 08:40, 5 نومبر 2012 (UTC)

تبصرہ 17 فروری 2013[ترمیم]

اہلسنّت کے حوالے سے تمام تر معلومات www.dawateislami.net سے حاصل کی جاسکتی ہیں. اہلسنّت (تبادلۂ خیال) 20:29, 17 فروری 2013 (م ع و)

بریلوی کون ہیں؟[ترمیم]

اس تحریر کے لیے میں نے انگریزی وکیپیڈیا سے بہت سا مواد لیا ہے جو 28 دسمبر، 2013ء تک وہاں موجود تھا لیکن میں نے اسے اپنے انداز میں ڈھال کر لکھا ہے اگر اردو وکیپیڈین انتظامیہ کو بہتر لگے تو اس تحریر کو بطور مضمون یا مضمون کا کچھ حصہ بنا لے۔ میں بالکل یہی تحریر اپنے بلاگ سمیت مختلف سوشل میڈیا فورمز پر شائع کر چکا ہوں۔ عبدالرزاق قادری

جنوبی ایشیا میں عقیدے کے لحاظ سے ابتدائی اہل سنت وجماعت سنی مسلمانوں کو جدید دور میں بریلوی کہا جاتا ہے۔ انگریزی وکیپیڈیا کے مطابق ان کی 200 ملین سے زائد ہے۔ انگریزی وکیپیڈیا کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق انڈیا ٹائم کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارت میں مسلمانوں کی اکثریت بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتی ہے اسی طرح ہیریٹیج فاؤنڈیشن ، ٹائم اور واشنگٹن پوسٹ کے اندازے کے مطابق اسی طرح کی اکثریت پاکستان میں ہے۔سیاسیات کے ماہر روہن بیدی کے تخمینہ کے مطابق پاکستان کے مسلمانوں میں سے 60 فیصد بریلوی ہیں۔ برطانیہ میں پاکستانی اور کشمیری تارکین وطن (مسلمانوں) کی اکثریت بریلوی ہے، جو دیہات سے آئے ہیں۔ لفظ بریلوی اہل سنت و جماعت کے راسخ العقیدہ مسلمانوں کے لیے ایک اصطلاح (پہچان) ہے۔ اس کی وجہ 1856ء مطابق 1272 ہجری میں پیدا ہونے والے ایک عالم دین کا علمی کام ہے ان کا نام مولانا احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ تھا وہ بھارت (برطانوی ہند) کے شمالی علاقہ جات میں واقع ایک شہر بریلی کے رہنے والے تھے1921ء مطابق 1340 ہجری میں ان کا نتقال ہوابریلی ان کا آبائی شہر تھا۔ انہیں امامِ اہل سنت اور اعلیٰ حضرت کے القابات سے یاد کیا جاتا ہے۔ دنیا بھر کے اکثریتی مسلم علماء کی نظر میں وہ چودھویں صدی کے ابتدائی دور کے مجدد تھے انہیں مجدد دین و ملت کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ آج کے دور میں میڈیا اور تعلیمی ادارے مسلمانوں کی بین الاقوامی اکثریت اہل سنت وجماعت کو بریلوی کے عنوان سے جانتے ہیں۔ یہ وہی جماعت ہے جو پرانے اسلامی عقائد پر سختی سے قائم ہے اور مغربی مستشرقین کے بنائے ہوئے جدید شرپسند اور فتنہ پرور فرقوں کے خلاف پرسرِ پیکار رہتی ہے۔ اہل سنت بریلوی جماعت پرانے دور کے بزرگ صوفیاء اور اولیاء کے طور طریقے اپنائے ہوئے ہے اور جنوبی ایشیا میں صدیوں پہلے سے موجود سنی اکثریت کی نمائندہ ہے البتہ پچھلے چند برسوں سے چند جدید فرقوں کے پروپیگنڈے سے اہل سنت و جماعت کو بریلوی جماعت یا بریلوی مسلک کہا جاتا ہے حالانکہ اپنے عقائد اور طرز عمل میں یہ قدیم اہل سنت و جماعت کی نمائندہ ہے۔ ان کے عقائد قرآن مجید اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے واضح (ثابت) ہیں۔ ان کے عقائد کی بنیاد توحید باری تعالیٰ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی نبوت پر کامل ایمان، تمام نبیوں اور رسولوں پر یقین، فرشتوں پر،عالَم برزخ پر،آخرت پر، جنت اور دوزخ پر، حیات بعد از موت پر، تقدیر من جانب اللہ پراور عالَم امر اور عالَم خلق پر ہے۔ وہ ان تمام ضروریات دین اور بنیادی عقائد پر ایمان رکھتے ہیں جن پر شروع سے اہل اسلام، اہل سنت و جماعت کا اجماع چلا آرہا ہے۔ فقہی لحاظ سے وہ چاروں اماموں کے ماننے والوں کو اہل سنت وجماعت ہی سمجھتے ہیں۔ وہ ائمہ اربعہ امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمۃ اللہ علیہ، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے باہمی علمی تحقیقی اجتہادی اختلاف کو باعث برکت اور رحمت سمجھتے ہیں اور چاروں مذاہب حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی کے ماننے والے راسخ العقیدہ لوگوں کو اہل سنت وجماعت سمجھتے ہیں چاہے ان میں سے کوئی اشعری ہو یا ماتریدی مسلک کا قائل ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ تصوف کے چاروں سلسلوں کے تمام بزرگوں کا احترام کرتے ہیں اور ان کے معتقد ہیں۔ صدیوں سے اہل سنت وجماعت لوگ قادری ، چشتی ، سہروردی یا نقشبندی سلسلوں سے وابستہ رہے ہیں اور ان سلسلوں میں اپنے پیروں کے ہاتھ پر بیعت کرتے رہے ہیں اب بیسویں صدی کے اختتام سے منہ زور میڈیا کے بل بوتے پر ان سب سلاسل کو بریلوی مکتبہ فکر کی شاخیں بتایا جا رہا ہے۔ شاید مغربی میڈیا اور اس کے پروردہ لوگ پاک و ہند سے باہر دنیائے اسلام کو کوئی غلط تاثر دینا چاہتے ہیں اور اہلسنت والجماعت کے نام پر چھوٹی چھوٹی فرقہ ورانہ دہشت گرد جماعتیں بنا کر فتنہ پھیلانا چاہتے ہیں افریقہ کے مسلم ممالک بھی اس قسم کی سازشوں کی زد میں ہیں جیسا کہ صومالیہ وغیرہ۔ مسلمان ہمیشہ سے اپنے نبی پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم سے بے پناہ محبت کرتے آئے ہیں اور آج اکیسویں صدی کی دوسری دہائی تک یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے، سن 2012 ء میں جب عالم مغرب خصوصاً امریکی انتظامیہ کی درپردہ حمایت میں ایک گستاخانہ فلم منظر عام پر آئی تو ملک مصر سے شروع ہونے والا احتجاج پوری دنیا میں پھیل گیا خصوصاً مسلم ممالک نے اس کا شدت سے رد کیا۔ پاکستان چالیس سے زائد اہل سنت وجماعت بریلوی تحریکوں کے ایک اتحاد نے ایک ہی وقت میں فلم کے خلاف احتجاج کیا اور اس فلم کی شدید مذمت کی۔ اسی جذبہ حب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تحت اہل سنت بریلوی کثرت سے درود پاک پڑھتے ہیں، ان کی ایک پہچان الصلوٰۃ والسلام علیک یارسول اللہ وعلیٰ آلک واصحابک یا حبیب اللہ پڑھنا ہے اپنے محبوب نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں وہ کسی قسم کے نازیبا الفاظ سننے یا کہنے کے قائل نہیں ہیں اس معاملے میں وہ انتہائی حساس پائے گئے ہیں ان کے عقیدہ کے مطابق اللہ عزوجل نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے پہلے اپنے نور سے پیدا فرمایا اس کے لیے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی ایک مستند حدیث کا علمی حوالہ بھی دیتے ہیں۔ وہ اپنے نبی پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر لحاظ سے آخری نبی اور آخری رسول مانتے ہیں وہ عیسیٰ علیہ السلام کے ایک امتی کے طور پر لوٹ آنے پر ایمان رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک انبیاء کرام علیھم السلام کی ارواح ظاہری موت کے بعد پہلے سے برتر مقام پر ہیں اور وہ ان کوعام لوگوں سے افضل مانتے ہوئے زندہ سمجھتے ہیں ان کے نزدیک ان مقدس ہستیوں کو اللہ تعالیٰ نے غیب کا علم عطا فرمایا ہوا ہے اور وہ نزدیک و دور سے دیکھنے کی طاقت رکھتے ہیں اہل سنت وجماعت بریلوی کے نزدیک اللہ عزوجل نے انبیاء کرام علیھم السلام کو بہت سے اختیارات دے رکھے ہیں جیسے عیسیٰ علیہ السلام کا مردوں کو زندہ کر دینا وغیرہ۔ اہل سنت وجماعت بریلوی اپنے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی سالگرہ بارہ ربیع الاول کے دن کو عید میلاد النبی کے عوامی جشن کے طور پر مناتے ہیں۔ وہ اللہ کے نیک بندوں کی تعظیم کرتے ہیں اولیاء اللہ کے مزارات پر حاضری دیتے ہیں ان کے لیے ایصال ثواب کرنے کو جائز سمجھتے ہیں اور ان کے اعلیٰ مرتبے کے قائل ہیں ان کے نزدیک اللہ عزو جل جسے اپنا محبوب بنالے اسے دین اسلام کا خادم بنا دیتا ہے۔ وہ لوگ اللہ کی عبادت کرتے ہیں اللہ کے لیے قربانی کرتے ہیں اللہ کے لیے جیتے ہیں اور اللہ کے لیے ہی مرتے ہیں ایسے لوگ جب یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے تو پھر اس پر قائم بھی رہتے ہیں ان پر اللہ کی طرف سے فرشتے اترتے ہیں ان کے لیے نہ دنیا میں کوئی ڈر ہے اور نہ آخرت میں وہ غمگین ہوں گے۔ اور ان کے لیے اللہ کے ہاں ایک بہترین مقام جنت ہے جس کا ان کے لیے وعدہ ہے۔ اس دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں اللہ عز وجل ان کا دوست ہے۔ اور ان کے لیے آخرت میں جو مانگیں اس کا ان کے رب کی طرف سے وعدہ ہے۔ چونکہ وہ اللہ کے دوست اور اللہ ان کا دوست ہے لہذا ان کے نیک کاموں کا صلہ انہیں ظاہری زندگی ختم ہو جانے کے بعد ملتا ہے۔ کیونکہ اللہ نے ان کے ساتھ اپنی دوستی کا وعدہ دونوں جہانوں میں فرمایا ہے۔ انہیں انبیاء کرام علیھم السلام، صدیقین، شہیدوں اور صالحین کا ساتھ ملے گا جن پر اللہ نے فضل کیا اور یہ اللہ کا فضل ہی تو ہے کہ نیک لوگ دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب اور کامران ہیں۔ جب ایسے لوگوں کے لیے اللہ کے انعامات اس قدر ہیں تو وہ بخشش و مغفرت کے بھی ضرور حق دار ہیں۔ اہل سنت وجماعت ان بزرگوں سے دعا کرانے کے قائل ہیں اور ظاہری زندگی ختم ہو جانے کے بعد ان کی عظمت کے قائل ہیں اور ان کے توسل سے اللہ تعالیٰ سے مانگنے کو جائز سمجھتے ہیں بلکہ ان کے نزدیک اگر اللہ چاہے تو یہ مقدس ہستیاں مدد بھی فرما سکتی ہیں ان کے نزدیک اپنے آقا کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ کے اصحاب، اہل بیت کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین اور نیک مسلمانوں کےمزارات پر حاضری دینا کتاب و سنت کی تعلیمات کےعین مطابق ہے۔ لیکن وہ ان میں سے کسی بھی مزار، دربار یا قبر کی عبادت کفرسمجھتے ہیں اور ان کو تعظیمی سجدہ کرنا حرام جانتے ہیں۔ اہل سنت بریلوی جماعت کے نزدیک مرد حضرات کا ایک مٹھی تک داڑھی رکھنا ضروری ہے اس کا تارک گنہگار ہے۔ امام اہل سنت مولانا احمد رضا خان قادری محدث بریلوی علیہ الرحمۃ الرحمان نے 1904 میں جامعہ منظر اسلام بریلی شریف قائم کیاان کے علمی کام کا پاکستان میں بہت چرچا ہے۔ ان کی تحریک پاکستان کے قیام عمل میں آنے سے قبل کام کررہی تھی بنیادی طور پر یہ تحریک جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کے بنیادی عقائد کے دفاع کے لئے قائم کی گئی تھی عقائد کے دفاع کے لئےاہل سنت بریلوی جماعت نے مختلف باطل مکاتب فکر اور تحریکوں کا تعاقب کیا اور ان کے ڈھول کا پول کھول دیا۔ دیگر تحریکوں کے برعکس خطے میں سب سے زیادہ اہل سنت بریلوی جماعت نے موہن داس کرم چند گاندھی کا ساتھ نہ دیا اور اس ہندو لیڈر کی سربراہی میں تحریک خلافت، تحریک ترک موالات اور تحریک ہجرت کا مقاطعہ (بائیکاٹ) کیا وہ تمام ہر قسم کے کافر و مشرک کو مسلمانوں کا دشمن سمجھتے رہے۔ اہل سنت بریلوی جماعت تحریک پاکستان کے بنیادی حامی تھے اس کے قیام کے لیے انہوں نے بہت جدوجہد کی۔ عبدالرزاق قادری (تبادلۂ خیال) 18:44, 30 دسمبر 2013 (م ع و)