رموز اوقاف

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(تنقیط سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
:

رموز اوقاف
رموز اوقاف
علامت حذف ( ' )
قوسین (( )، [ ]، { }، < >)
رابطہ، تفصیلہ ( : )
سکتہ ( ، )
علامت خط ( ، ، ، )
ellipsis ( , ... )
فجائیہ، ندائیہ، علامت تعجب ( ! )
وقف تام، ختمہ ( ۔ )
گیومه ( « » )
علامت خط ( -, )
سوالیہ نشان ( ؟ )
واوین، علامت اقتباس ( ‘ ’, “ ” )
وقفہ ( )
علامت تغیر ( / )
علامت ذیل ( )
علامت تخلص ( ؔ )
کلمات کو جدا کرنے والے
خلا، خالی جگہ ( ) () () ( ) () () ()
interpunct ( · )
عمومی
ampersand ( & )
ایٹ علامت ( @ )
ستارہ ( * )
خط اریب وارو ( \ )
بولت ( )
خارجہ ( ^ )
کرنسی کی علامت عمومی: ( ¤ )
خصوصی: ¢، $، ، £، ¥، ،
یک خنجری نشان، دو خنجری نشان ( , )
درجہ ( ° )
معکوس فجائیہ ( ¡ )
معکوس سوالیہ ( ¿ )
پونڈ ( # )
numero sign ( )
ordinal indicator (º, ª)
فی صد، فی ہزار ( %, ‰, )
علامت پیراگراف ( )
پریم ( )
بند ( § )
مد ( ~ )
دو نقطہ ( ¨ )
underscore/understrike ( _ )
عمودی/پایپ/خط شکسته ( |, ¦
غیر معروف علامتیں
عقد النجوم، تین ستارہ علامت ( )
اشاریہ ( )
therefore sign ( )
because sign ( )
interrobang ( )
علامت استہزا ( )
ہیرے کی شکل ( )
reference mark ( )

رموز اوقاف (انگریزی:Punctuation) وہ علامتیں اور نشانیاں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ عبارت میں کس جگہ اور کس طرح وقف کرنا ہے۔[1] رموز، رمز کی جمع ہے جس کا مطلب ہے علامت یا اشارہ جبکہ اوقاف، وقف کی جمع ہے جس کے معنی ٹہرنے یا رکنے کے ہیں، یعنی رموز اقاف یا علامات وقف اُن اشاروں یا علامتوں کو کہتے ہیں جو کسی عبارت کے ایک جملے کے ایک حصے کو اس کے باقی حصوں سے علاحدہ کرنے کے لئے استعمال کی جاتی ہیں۔ اردو، انگریزی یا دوسری زبانوں کے قواعد میں ان اوقاف اور علامات کو بہت اہمیت حاصل ہے اگر ان کا خیال نہ رکھا جائے تو مفہوم کچھ سے کچھ بلکہ بعض اوقات تو اس کے بالکل اُلٹ ہو جاتا ہے جہاں ٹہرنا یا وقفہ کرنا ہو ان کے لئے اردو میں درج ذیل رموز و اوقاف استعمال ہوتے ہیں۔ ختمہ (۔)، سوالیہ، سکتہ (،) تفصیلہ (:_)، قوسین () واوین (” “) ندائیہ یا فجائیہ (!) علامت شعر(؎) علامت مصرع (ع) علامت وغیرہ۔

رموز اوقاف[ترمیم]

رموز اوقاف کا مفہوم[ترمیم]

اپنے دل کی بات دوسروں تک پہنچانے کے لئے کچھ اور چیزوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ روزمرہ کی بول چال میں ہم چہرے کے تاثرات، لب و لہجے کے تغیرات، آواز کے زیر و بم اور بات کے دوران موزوں جگہوں پر وقفے دے کر اپنی بات کو زیادہ موثر بناتے ہیں لیکن تحریر میں ہمارا قاری ہمارے سامنے نہیں ہوتا ہے اس لئے ہمیں اپنی بات کو زیادہ سے زیادہ موثر بنانے کے لئے اور جو کچھ ہم کہنا چاہتے ہیں اسے اسی طرح دوسروں تک پہنچانے کے لئے تحریر کے دوران میں کچھ علامتوں اور اشاروں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اِن اشاروں اور علامتوں کو رموز اوقاف کہتے ہیں۔

رموز رمز کی جمع ہے جس کے معنی اشارہ کے ہیں اور اقاف وقف کی جمع ہے جس کا مطلب ہے ٹہرنا یا رکنا ہے۔ رموز اوقاف سے مراد ہے ٹہرنے کے اشارات یا علامات۔ یہ وہ اشارات اور علامتیں ہیں جو مطلب بہتر طور پر واضح کرنے کے لئے تحریرکے دوران استعمال کی جاتی ہیں۔ ان کی مدد سے پڑھنے والا عبارت کو روابی اور آسانی سے سمجھتا چلا جاتا ہے نیز پڑھنے کے دوران سے تہرنے اور سانس لینے کے لئے مناسب مواقع ملتے چلے جاتے ہیں۔ جس سے قاری کو مطالعہ کے دوران تھکن کا احساس نہیں ہوتا۔

علامات وقف[ترمیم]

علامت وقف کا مفہوم[ترمیم]

وہ علامتیں جو عبارت کے درمیان میں بات کے مفہوم کو واضح کرنے کے لئے استعمال ہوتی ہیں، علامت وقف کہلاتی ہیں۔ چند مشہور علامت وقف درج ذیل ہیں:

  1. ختمہ (۔)
  2. سوالیہ (؟)
  3. سکتہ (،)
  4. تفصیلیہ (:_)
  5. قوسین ()
  6. واوین (” “)
  7. ندائیہ یا فجائیہ (!)
  8. علامت شعر (؎)
  9. علامت مصرع (ع)
  10. مخففات( ؒ، ؓ )

ختمہ (۔) کا مفہوم[ترمیم]

ختمہ علامت ایک پورے جملے کے خاتمے پر ایک چھوٹی سی لکیر کی صورت میں لگائی جاتی ہے جہاں کچھ دیر ٹہرنا ہوتا ہے۔ یہ عبارت ایک جملے کو دوسرے جملے سے جدا کرتی ہے۔ اسے وقف کامل، وقف تام اور انگریزی میں فل سٹاپ (.) بھی کہتے ہیں۔

ختمہ (۔) کی مثالیں

ختمہ (۔) کی مثالوں کے چند نمونے ملاحظہ کریں:

  • آج خوب بارش ہوئی ہے، اس لئے موسم بڑا خوشگوار ہو گیا ہے۔
  • آج عید کا دن ہے۔ ہر طرف چہل پہل ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے میلا لگا ہوا ہو۔
  • آج میری طبیعت خراب ہے آپ کل تشریف لائیں۔

سوالیہ(؟) کا مفہوم[ترمیم]

یہ علامت سوالیہ جملے کے آخر میں لگائی جاتی ہے۔ اس علامت کے استعمال سے ایک عام جملے اور سوالیہ جملے میں واضح فرق پیدا ہو جاتا ہے۔ جن جملوں میں کوئی سوال پوچھا جارہا ہو ان جملوں میں یہ علامت استعمال ہوتی ہے۔ اِن جملوں کے آخر میں اگرسوالیہ نشان استعمال نہ کیا جائے تو ان جملوں کا مفہوم صحیح طور پر واضح نہیں ہوتا۔ اسے علامت استدلال بھی کہتے ہیں۔

سوالیہ (؟) جملوں کی مثالیں
  • کیا آپ کراچی جا رہے ہیں؟
  • کیا ہم میچ جیت چکے ہیں؟
  • آپ کو کون سا پھل پسند ہے؟
  • آپ لاہور سے کب واپس آئیں گے؟

سکتہ (،) کا مفہوم[ترمیم]

یہ چھوٹا سا اور مختصر وقفہ ہوتا ہے، جس میں ہلکا سا توقف کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ اس کو انگریزی میں کوما (،) کہتے ہیں۔ اس علامت کی وضاحت کے لئے اکثر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے استعمال سے عبارت کی صحیح طور پر وضاحت ہوجاتی ہے۔

سکتہ (،) کی مثالیں

تفصیلیہ (:_) کا مفہوم[ترمیم]

یہ علامت کسی چیز کی تفصیل یا وضاحت کے لئے استعمال ہوتی ہے۔

تفصیلیہ کی مثالیں
  • ورزش کے درج ذیل فائدے ہیں:_
  • علامہ اقبال فرماتے ہیں:_
  • ایک عمدہ غزل میں حسب ذیل خوبیاں ہونی چاہئیں۔
  • علم کے بے شمار فائدے ہیں۔

قوسین () کا مفہوم[ترمیم]

قوسین یا خطوط واحدانی میں عبارت کے ایسے حصے لکھے جاتے ہیں جو جملہ معترضہ کے طور پر آتے ہیں۔ جملہ معترضہ ایسے جملے کو کہتے ہیں جو عبارت میں آجائے لیکن اصل عبارت سے اس کا تعلق نہ ہوبلکہ حوالے کے طور پر اس کا ذکر آئے۔ عام طور پر یہ علامت مکالموں اور ڈراموں میں استعمال کی جاتی ہے۔

قوسین () کی مثالیں
  • چوہدری اسلم (جو میرے ہم جماعت تھے) آج کل ڈاکٹر ہیں۔
  • عوا م نے اسے (اگرچہ وہ نااہل تھا) اپنا نمائندہ چن لیا۔
  • اشرف علی (جو میرے بچپن کے دوست تھے) آج وہ مجھے اچانک بازار میں مل گئے۔

واوین (” “) کا مفہوم[ترمیم]

یہ علامت کسی تحریر کا اقتباس (ٹکڑا) پیش کرتے وقت یا کس کا قول پیش کرتے وقت اُس قول یا اقتباس کے شروع اور آخرمیں لگائی جاتی ہے۔

واوین (” “) کی مثالیں
  • رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے: ”تم میں سے بہتر وہ ہے جو علم سیکھے اور سکھائے“
  • میں نے اپنے ملازم کو آواز دی: ”انورخان!“ اُس نے جواب دیا ”جی میرے آقا!“
  • نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: ”تم میں سے بہترین وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں“

ندائیہ یا فجائیہ (!) کا مفہوم[ترمیم]

یہ علامت کسی کو آواز دینے یا پکارنے کے وقت استعمال کی جاتی ہے یا اس علامت کو ایسے الفاظ یا جملوں کے آخر میں لگایا جاتا ہے جن میں کسی جذبے جیسے جوش، غم، نفرت، غصہ، تعجب، حیرانی، خوشی، افسوس، خوف، تنبیہ، تحسین اور تحقیر کا اظہار پایا جاتا ہو۔

ندائیہ یا فجائیہ (!) کی مثالیں
  • آہا! بس آگئی۔
  • ہائے! یہ کیا ہو گیا؟
  • خبردار! اب ایسی حرکت نہ کرنا۔
  • صدر ذی وقار! خواتین و حضرات۔
  • افسوس! میرا دوست حادثے میں ہلاک ہو گیا۔

علامت شعر (؎) کا مفہوم[ترمیم]

یہ علامت عبارت میں کسی شعر کا حوالہ دینے کہ موقع پر شعر کے شروع میں لگائی جاتی ہے۔

علامت شعر (؎) کی مثال
  • ؎ آ تجھ کو بتائوں تقدیر امم کیا ہے

شمشیر و سنان اول طائوس و رباب آخر

علامت مصرع (ع) کا مفہوم[ترمیم]

یہ علامت عبارت میں کسی مصرعے کا حوالہ دینے کے لئے استعمال ہوتی ہے۔

علامت مصرع (ع) کی مثال
  • ع کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے

مخففات( ؒ، ؓ ) کا مفہوم[ترمیم]

جو مختصر علامت اصل فقرے کی جگہ استعمال کی جائے اسے مخففات کہتے ہیں۔

مخففات( ؒ، ؓ ) کی مثالیں
  • رضی اللہ عنہ کی جگہ ( ؓ ) مخفف استعمال ہوتا ہے
  • رحمتہ اللہ علیہ کی جگہ ( ؒ ) مخفف استعمال ہوتا ہے

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

[1]

[2]

  1. آئینہ اردو قواعد و انشاء پرزادی
  2. آئینہ اردو