جامعہ فریدیہ
| Faridia University | |
| فائل:جامعہ فریدیہ1.jpg جامعہ فریدیہ کے مرکزی کیمپس کا منظر | |
| شعار | قُلْ هَلْ يَسْتَوِی الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَالَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ |
|---|---|
شعار به انگلیسی | ’’فرما دیجیے: کیا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو لوگ علم نہیں رکھتے برابر ہو سکتے ہیں؟’ |
| نوع | اسلامی یونیورسٹی |
| بنیانگذاری شده | 1971 |
| بنیانگذار | مولانا محمد عبداللہ غازی |
وابستگی مذهبی | دیوبندی اسلام |
| وابستگی آکادمیک | وفاق المدارس العربیہ پاکستان |
| رئیس دانشگاه | مولانا عبدالعزیز غازی |
| اعضای هیئت علمی | 95 |
| دانشجویان | 1,700 |
| موقعیت | |
| وبگاه | |
جامعہ العلوم الاسلامیہ آلفریدیہ (انگریزی: The Al Faridia University) اسلام آباد میں فیصل مسجد کے قریب ایک اسلامی یونیورسٹی ہے ، جو 1971 میں شیخ الحدیث مولانا محمد عبد اللہ غازی نے قائم کیا تھا اور وہ اکتوبر 1998 تک چانسلر رہے.
یہ اسلام آباد کا سب سے بڑا مدرسہ ہے اور اس میں 1,700 طلبہ اور 60 سے زیادہ اساتذہ موجود ہیں۔[1]
تعارف
[ترمیم]
1967 میں ، ایک چھوٹا سا مدرسہ لال مسجد میں قائم کیا گیا تھا جس میں حفظ کی کلاس کے تقریبا 20 سے 25 طلبہ موجود تھے۔ جگہ کی ضرورت بڑھنے پر کچھ عرصے کے بعد یہ ضرورت محسوس کی گئی کہ اس مدرسے کو چلانے کے لیے ایک بڑی جگہ کی ضرورت ہے تاکہ وقت گزرنے کے ساتھ بڑھتی ہوئی طلبہ کی ایک بڑی تعداد کو جگہ دی جاسکے۔ لہذا سیکٹر ای سیون میں مارگلہ پہاڑیوں کے دامن میں ایک مقام سیٹھ ہارون جعفر (Jaffer Brothers Pakistan)، حاجی اختر حسن (او ایس ڈی کشمیر افیئر اینڈ فنانس سیکرٹری آزاد کشمیر) اور ایڈمرل محمد شریف کی مدد اور تعاون سے حاصل کیا گیا۔ زمین کا یہ ٹکڑا ایک پرانی مسجد سے منسلک تھا۔ اس کاوش کے نتیجے میں ایک مدرسہ تعمیرکا کام شروع کر دیا گیا اور 1971 میں جامعہ کو موجودہ عمارت میں منتقل کر دیا گیا، جامعہ کا نام "مدرسہ عربیہ اسلامیہ" تھا تاہم جب سیکٹر E-7 میں مارگلہ پہاڑیوں کے میدانوں میں منتقل کیا گیا تو سیٹھ ہارون جعفر کی تجویز پر اس کا نام فریدیہ انسٹی ٹیوٹ رکھ دیا گیا اور بعد میں جامعہ فریدیہ کے نام سے مشہور ہوا۔[2]
مولانا عبد اللہ کے قتل کے بعد، ان کے بیٹے مولانا عبدالعزیز کو چانسلر/مہتمم مقرر کیا گیا اور ان کے چھوٹے بھائی اور جامعہ کے نائب چانسلر/مہتمم مولانا عبدالرشید غازی، جو قائد اعظم یونیورسٹی سے فارغ التحصیل تھے اور اقوام متحدہ کے سابق سفیر تھے۔[1] انہو نے الفریدیہ اسکول قائم کیا، جو ایک مفت ہائی اسکول ہے جس میں ساتویں سے میٹرک تک کلاسز پڑھائی جاتی ہیں۔[2]
شہرت
[ترمیم]یہ جامعہ اسلام آباد کا سب سے بڑا اسلامی مدرسہ ہے اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان جامعہ کو پاکستان کے ٹاپ 5 مدارس میں شمار کرتا ہے۔[3]
روایتی درس نظامی کی تعلیم کے ساتھ ساتھ یہ ادارہ اپنے متعلقہ تدریسی پروگراموں کے لیے بھی جانا جاتا ہے۔ جس میں اسلامی معاشیات، اسلامی فقہ اور عربی زبان شامل ہیں۔[4]
جامعہ نے متعدد پاکستانی اور عالمی شخصیات کی میزبانی کی ہے جن میں سعودی رہنما عبد اللہ عمر نصف، سابق امام کعبہ محمد بن عبد اللہ السبیل، پاکستانی سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور دیگر علما جن میں مفتی تقی عثمانی، زاہد الراشدی، عبد الرزاق اسکندر، ڈاکٹر قبلہ ایاز اور محمد حنیف جالندھری شامل ہیں۔[5]
کیمپس
[ترمیم]جامعہ فیصل مسجد سے ملحقہ سیکٹر ای 7 اسلام آباد کے شمال مشرق میں واقع ہے،[6]
کیمپس کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جس کا نام چار خلفاء راشدین کے نام پر رکھا گیا ہے۔[5]
جامع مسجد
[ترمیم]تاریخی طور پر جامعہ کی تعمیر سے پہلے، "طوبہ مسجد" کے نام سے ایک پرانی مسجد قریبی گاؤں کے مکینوں نے تعمیر کی تھی، تاہم کچھ عرصے بعد اس مسجد کو جامعہ میں شامل کر کے جامع مسجد میں توسیع کر دی گئی جسے بعد میں جامع مسجد عبداللہ غازی شہید کا نام دیا گیا۔[5]

الفریدیہ ہائی اسکول
[ترمیم]الفریدیہ ہائی اسکول ایک پبلک ہائی اسکول ہے، جو ساتویں سے میٹرک تک طلبہ کو کلاسز فراہم کرتا ہے جسے مولانا عبد الرشید غازی نے قائم کیا تھا۔[5]
لائبریری
[ترمیم]مرکزی عمارت کے سامنے واقع بیت الحکمہ لائبریری کا نام اسلامی سنہری دور کے دوران بغداد میں ایک فکری مرکز کے نام پر رکھا گیا ہے، اس میں تین ہزار سے زائد کتابیں اور جرائد موجود ہیں جن میں دائرۃ المعارف بریٹانیکا کی تمام 32 جلدیں ہیں۔[1]
مکتبہ فریدیہ
[ترمیم]مکتبہ فریدیہ کتابوں کی دکان جو جامعہ فریدیہ کی ایک ذیلی کمپنی ہے، مکتبہ فریدیہ 1982 میں طلبہ کو تعلیمی کتابیں اور دیگر لوازمات حاصل کرنے کے لیے قائم کیا گیا۔[7]
اے کیو خان ٹریل
[ترمیم]2002 میں جامعہ نے فیصل مسجد سے جامعہ تک پیدل چلنے والا راستہ بنایا، یہ پاکستانی سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی مالی مدد سے تعمیر کیا گیا، اس لیے اسے "اے کیو خان ٹریل" کا نام دیا گیا۔[8]
حوالہ جات
[ترمیم]- ^ ا ب پ https://www.dawn.com/news/1167809۔ اخذ شدہ بتاریخ https://www.dawn.com/news/1167809
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|تاریخ رسائی=(معاونت)،میں بیرونی روابط (معاونت)، وپیرامیٹر|تاریخ رسائی=|title=غیر موجود یا خالی (معاونت) - ^ ا ب "importance of madrassas"
- ↑ "Top 5 Wifaq List"
- ↑ "darse nizami"
- ^ ا ب پ ت
- ↑ "madrasas-gear-up-for-exams-plan-to-resume-classes-from-august"
- ↑ "Maktaba Faridia"۔ 2022-07-15 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2022-07-19
- ↑ "rda-completes-carpeting-on-aq-khan-road"
مزید دیکھیے
[ترمیم]- 1966ء میں قائم ہونے والے تعلیمی ادارے
- اسلام آباد میں یونیورسٹیاں اور کالج
- اسلامی جامعات و دانشگاہیں
- پاکستان میں 1966ء کی تاسیسات
- پاکستان میں اسلام
- 1992ء میں قائم ہونے والے تعلیمی ادارے
- پاکستان میں 1992ء کی تاسیسات
- پاکستان میں 1971ء کی تاسیسات
- 1971ء میں قائم ہونے والے تعلیمی ادارے
- پاکستان میں اسلامی درسگاہیں
- پاکستان میں اسلامی جامعات اور کالج
- پاکستان میں مدارس
- دیوبندی تعلیمی ادارے
- پاکستان میں یونیورسٹیاں اور کالج