جنگ فخ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جنگ فخ
بسلسلہ ابتدائی نام نہاد خلافتوں کے خلاف آل علی کی بغاوتیں
تاریخ11 جون 786
مقاموادی فخ (موجودہ وادی زاہر)، نزد مکہ
21°27′11.34″N 39°48′24.42″E / 21.4531500°N 39.8067833°E / 21.4531500; 39.8067833متناسقات: 21°27′11.34″N 39°48′24.42″E / 21.4531500°N 39.8067833°E / 21.4531500; 39.8067833
نتیجہ عباسیوں کی جیت
محارب
خلافت عباسیہ اہل بیت
کمانڈر اور رہنما
موسیٰ بن عیسی بن علی عباسی اور محمد بن سلیمان بن منصور حسین بن علی العابد بن حسن مثلث علوی 
طاقت
ت 330 گُھر سوار، پیادہ فوجی نامعلوم تعداد میں 300 سے زائد
ہلاکتیں اور نقصانات
نامعلوم 100 سے زائد جنگ میں مقتول؛ مزید سزائیں
جنگ فخ is located in سعودی عرب
جنگ فخ
سعودی عرب میں نقشہ

جنگ فخ یا معرکہ فخ مکہ مکرمہ کے قریب وادی فخ کے مقام پر 8 ذو الحجہ 169ھ مطابق 11 جون 786ء کو پیش آیا۔ یہ جنگ خلفائے عباسیہ اور سادات علویہ کے مابین ہوئی تھی، علویوں کی طرف سے اس کی قیادت حسین بن علی بن حسن مثلث بن حسن مثنی بن حسن مجتبیٰ بن علی بن ابی طالب کر رہے تھے، ان کے چچا عبد اللہ کامل کے لڑکے ادریس، سلیمان اور یحیی ان کے ساتھ شریک تھے، اور ان کے دوسرے چچا زاد بھائی سلیمان بن عبد اللہ رضا اور اسماعیل عباسیوں کے ساتھ شریک تھے اور دونوں مارے بھی گئے۔

فَخّ مکہ مکرمہ کے قریب ایک قدیم تاریخی وادی کا نام ہے، اب اس کا نام وادی زاہر ہے، اسی مناسبت سے اس معرکہ کو "جنگ فخ" کہا جاتا ہے، اس جنگ میں حسین بن علی عابد کے ساتھ اہل بیت رسول اللہ کے بہت سے حضرات شہید ہوئے۔ موجودہ زمانے میں اس علاقے کا نام حی الشہداء (شہدا کا محلہ) کہا جاتا ہے۔[1]

جنگ کا پس منظر[ترمیم]

معرکہ کربلا میں امام حسین بن علی کی شہادت کے بعد، اور محمد ذو النفس زکیہ اور ابراہیم بن عبد اللہ کامل کی بغاوتوں کی ناکامی کے بعد اور اہل بیت کی دوسری بغاوتوں کی ناکامی کے بعد یمن اور خراسان میں بھی علوی اہل بیت نے کچھ دوسری تحریکیں چلائیں، لیکن وہ بھی کامیاب نہ ہوسکیں اور اس کا بھی انجام گزشتہ بغاوتوں جیسا ہوا۔ اس کے بعد باقی بچے علوی اہل بیت خاموش ہو گئے، ہر طرح کی ظاہری تحریک سے پیچھے ہٹ گئے اور خاموشی سے قوت جمع کرنے لگے، یہاں تک کہ مدینہ کے والی اور بعض اہل بیت میں کچھ معاملہ ہوا اور سخت ہوتا چلا گیا، بغاوت کی شکل اختیار کر گیا۔ چنانچہ اہل بیت حسین بن علی بن حسن مثلث علوی کی قیادت میں نکل پڑے، اور یہ بغاوت مکہ پہنچ گئی، مکہ میں حسین بن علی نے بیعت کا اعلان کیا اور لوگوں جوق در جوق ان کی بیعت کرنے لگے۔

جب اس بغاوت کی خبر عباسی خلیفہ موسیٰ الہادی کو پہنچی تو اس نے جلدی سے اس بغاوت کو ناکام بنانے کے لیے فوج بندی کا حکم دیا۔ اس کی فوج مکہ کی طرف بڑھی، مکہ میں مقابل علوی فوج 8 ذو الحجہ کو حج کا احرام باندھ چکی تھی اور مکہ سے تین میل دور وادی فخ میں تھے، وہیں فوج نے حملہ بول دیا اور حسین بن علی عابد کی فوج کو شکست ہوئی ان کے اصحاب اس جنگ میں شہید ہو گئے۔[2]

جنگ کے بعد[ترمیم]

مکہ کے قریب وادی زاہر جس کا تاریخی نام وادی فخ ہے اس میں 8 ذو الحجہ کے 169ھ کو عباسی حکمران موسیٰ الہادی اور علوی اہل بیت حسین بن علی بن مثلث علوی کے درمیان جنگ ہوئی، اصحاب اہل بیت احرام کی حالت میں تھے،شہید فخ حسین بن علی اور ان کے اصحاب کی بڑی تعداد شہید ہوئی۔ ان کے سر کو موسی الہادی کے دربار میں لے جایا گیا، اس نے ان کی حرکت اور ان کے قتل پر ناگواری کا اظہار کیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "حي الشهداء أرض معركة فخ التاريخية". Makkah (بزبان عربی). 2015-04-09. 14 دسمبر 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 11 اگست 2019. 
  2. Bosworth, C.E., ed. (1989). The History of al-Ṭabarī, Volume XXX: The ʿAbbāsid Caliphate in Equilibrium: The Caliphates of Mūsā al-Hādī and Hārūn al-Rashīd, A.D. 785–809/A.H. 169–192. SUNY Series in Near Eastern Studies. Albany, New York: State University of New York Press. pp. 14–39. ISBN 978-0-88706-564-4.