ذکاء اللہ دہلوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ذکاء اللہ دہلوی
معلومات شخصیت
پیدائش 1 اپریل 1832  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
دہلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 7 نومبر 1910 (78 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
دہلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Fictional flag of the Mughal Empire.svg مغلیہ سلطنت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ مترجم،  مؤرخ،  معلم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

مولوی محمد ذکاء اللہ دہلوی (پیدائش: یکم اپریل 1832ء— وفات: 7 نومبر 1910ء) مؤرخ اور مترجم تھے۔

سوانح[ترمیم]

29 شوال 1247ھ مطابق یکم اپریل 1832ء کو دہلی دہلی کے محلہ کوچہ بلاتی بیگم میں پیدا ہوئے۔ بارہ برس کی عمر میں قدیم دہلی کالج میں داخل ہوئے تعلیم ختم کرنے کے بعد وہیں ریاضی کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ پھر ڈپٹی کمشنر مدارس ہوئے۔ 1872ء میں میور سنٹرل کالج الہ آباد میں عربی اور فارسی کے پروفیسر ہو گئے۔ 26 برس کی ملازمت کرنے کے بعد پینش پائی اور دہلی میں فوت ہوئے۔ تعلیم نسواں کی خدمات کے صلے میں گورنمنٹ سے خلعت پایا۔ علمی اور تاریخی خدمات کی وجہ سے پندرہ سو روپے انعام اور خان بہادر شمس العلما کے خطاب ملے۔ عربی فارسی کے علاوہ ریاضی میں بھی بڑی دسترس تھی۔ تاریخ، جغرافیہ، ادب، اخلاق، طبیعیات، کیمیا اور سیاسیات میں ماہر کی حیثیت رکھتے تھے۔ تقریباً ڈیڑھ سو کتب لکھیں۔ تاریخ ہند دس جلدوں میں ہے۔

وفات[ترمیم]

مولوی ذکاء اللہ کا انتقال بروز پیر 4 ذیقعد 1328ھ مطابق 7 نومبر 1910ء کی صبح دہلی میں بعمر 78 سال ہوا۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مالک رام: تذکرہ ماہ و سال، صفحہ 157۔ مطبوعہ دہلی، 2011ء۔