سید نذیر حسین دہلوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(سید نذیر حسین سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
سید نذیر حسین دہلوی
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1805  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ہلتھوا،  سورج گڑھ (مونگیر)،  بہار،  برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 13 اکتوبر 1902 (96–97 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
چاندنی چوک،  دہلی،  برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش مونگیر ضلع (1805–1826)
دہلی (1826–13 اکتوبر 1902)  ویکی ڈیٹا پر (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ مذہبی لکھاری  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

سید نذیر حسین دہلوی (پیدائش: 1805ء — وفات: 13 اکتوبر 1902ء) تحریک اہل حدیث کے نامور رہنما اور مصلح تھے۔ بھارت میں تحریک اہل حدیث کی تشریح میں ان کا کردار نمایاں نظر آتا ہے۔ انہیں شیخ الکُل کا خطاب ملا ہے۔[1][2] وہ اور نواب صدیق حسن خان (1832ء–1890ء) تحریک اہل حدیث کے بانیان میں شمار کیے جاتے ہیں۔[3][4][5] سید نذیر حسین کو مسلک کی ترویج اور تشہیر میں سب سے موثر مانا جاتا ہے۔[4]

مسلک اہل حدیث میں ان جیسا محدث نہیں گزرا ساٹھ سال دہلی میں حدیث شریف پڑھائی اس لیے آپ کو شیخ الکل فی الکل کا لقب دیا گیا۔ جماعت اہل حدیث کے ہزاروں شیوخ الحدیث آپ کے شاگرد ہیں۔ حدیث شریف پڑھانے میں آپ کو خاص ملکہ حاصل تھا یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے علاوہ حجاز، مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، یمن، نجد، شام، حبش، افریقا، تونس، الجزائر، کابل، غزنی، قندھار، سمرقند، بخارا، داغستان، ایشیائے کوچک، ایران، خراسان، ہرات، چین، سری لنکا و دیگر ممالک سے طلبہ حدیث شریف پڑھنے کے لیے آپ رحمہ اللہ کے پاس آتے تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

ابتدائی زندگی[ترمیم]

1887ء میں ملکہ وکٹوریہ کی تخت نشینی کے پچاس سالہ جشن کے موقع پر نذیر حسین کا اُن کے لیے اردو میں لکھی غنائی نظم۔

نذیر حسین کی ولادت معتبر خاندان اشراف میں ہوئی۔ ان کی جائے ولادت مونگیر، بہار، بھارت ہے۔[6] انہوں نے بطور شیعہ پرورش پائی مگر بعد میں بدظن ہو گئے۔[7] انہوں نے اپنی تعلیم کا آغاز صادق نگر بہار سے کیا جہاں ان کی ملاقات تحریکی مزاج رکھنے والے سید احمد بریلوی (1786ء–1831ء) سے 1820ء کی دہائی میں ہوئی۔[8] بعد میں وہ 1826ء میں دہلی چلے گئے اور شاہ ولی اللہ (1703ء–1762ء) کے فرزند شیخ عبد العزیز محدث دہلوی (1746ء–1824ء) کی شاگردی اختیار کرلی۔ ان کے بعد ان کے شاگرد اور بیٹے اور مشہور محدث محمد اسحق (1778ء–1846ء) سے تعلیم حاصل کی۔[7] محمد اسحٰق نے حجاز کر سفر کیا اور وہیں کے ہو رہے۔ ادھر نذیر حسین کو ان کی جانشینی کا شرف حاصل ہوا اور استاد کے مسند پر درس دینے لگے۔[9] دہلی کا مدرسہ رحیمیہ ہندوستان مذہبی تحریکی تاریخ میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔ شیخ محمد اسحق کی وفات کے بعد یہیں سے مختلف کی تحریکیں اٹھیں اور نذیر حسین نے وہابی تحریک کی سرپرستی کی۔[10]

برطانوی حکومت کے ساتھ برتاؤ[ترمیم]

نذیر حسین ان بہت سے مسلم علماء میں سے جنہوں نے برطانوی حکومت کی تائید کی اور ان کے خلاف جہاد کو غلط قرار دیا۔[11][12] مفتی مکہ کی طرح نذیر حسین نے بھی برطانوی ہندوستان کو دارالاسلام قرار دیا۔ ان کا ماننا تھا کہ ہندوستان دارالکفر نہیں ہے۔[13]

جمعیت اہل حدیث کی بنیاد[ترمیم]

1868ء میں وہ جیل سے رہا ہوئے اور بھوپال کے نواب صدیق حسن خان اور محمد حسین بٹالوی (1840ء–1920ء) کے ساتھ مل کر جمعیت اہل حدیث کی بنیاد رکھی۔ آخر الذکر دونوں مدرسہ رحیمیہ کے ہی پروردہ تھے۔ جمعیت ایک مذہبی و سیاسی جماعت تھی۔[14]

اہم شاگرد[ترمیم]

سید نذیر حسین کے اہم شاگردوں میں امداد اللہ مہاجر مکی[15]، محمد قاسم نانوتوی اور رشید احمد گنگوہی[16] تھے۔ یہ تینوں دیوبندی مکتب فکر[17] کے بنیاد گزار اور سرخیل کہے جاتے ہیں۔ احمدیہ متکب فکر کے بانی مرزا غلام احمد بھی ان سے متاثر تھے[18] جن کا دوسرا نکاح 1884ء میں نذیر حسین نے ہی پڑھایا تھا۔[19] حکیم نورالدین کو بھی ان کی شاگردی کا شرف ملا ہے۔[20] ان کے علاوہ عبد اللہ غزنوی، ثناء اللہ امرتسری، شمس الحق عظیم آبادی اور سرسید احمد خان نے نذیر حسین کی شاگردی اختیار کی ہے اور یہ تمام کسی نہ کسی تعمیری کالم میں ملوث رہے اور ہندوستانی اسلام کی تاریخ میں اہم شخصیت قرار پائے۔[21][22][23]

وفات[ترمیم]

سید نذیر حسین کی وفات 13 اکتوبر 1902ء کو دہلی میں ہوئی۔[24]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Claudia Preckel. (2013, p.174)، 'Screening Ṣiddīq Ḥasan Khān's Library: The Use of Ḥanbalī Literature in 19th century Bhopal' in B. Krawietz & G. Tamer (eds.)، Islamic Theology, Philosophy and Law: Debating Ibn Taymiyya and Ibn Qayyim al-Jawziyya، Berlin: Walter de Gruyter, pp.162–219
  2. Chanfi Ahmed (2015). West African ʿulamāʾ and Salafism in Mecca and Medina: Jawāb al-Ifrῑqῑ – The Response of the African. BRILL. صفحہ 99. ISBN 978-90-04-27031-2. 
  3. Sophie Gilliat-Ray (2010). Muslims in Britain: An Introduction. Cambridge University Press. صفحہ 104. ISBN 978-0-521-83006-5. 
  4. ^ ا ب Daniel W. Brown, Rethinking Tradition in Modern Islamic Thought: Vol. 5 of Cambridge Middle East Studies, pg. 27. کیمبرج: Cambridge University Press، 1996. آئی ایس بی این 9780521653947
  5. M. Naeem Qureshi (1999). Pan-Islam in British Indian Politics: A Study of the Khilafat Movement, 1918–1924. BRILL. صفحہ 458. ISBN 90-04-11371-1. 
  6. Chanfi Ahmed (2015). West African ʿulamāʾ and Salafism in Mecca and Medina: Jawāb al-Ifrῑqῑ – The Response of the African. BRILL. صفحہ 98. ISBN 978-90-04-27031-2. 
  7. ^ ا ب Kenneth W. Jones (1989). Socio-Religious Reform Movements in British India, Volume 3 (ایڈیشن reprint). Cambridge University Press. صفحہ 56. ISBN 978-0-521-24986-7. 
  8. Charles Allen (2006). God's Terrorists: The Wahhabi Cult and the Hidden Roots of Modern Jihad. Abacus. صفحہ 136. ISBN 978-0-349-11879-6. 
  9. Chanfi Ahmed (2015). West African ʿulamāʾ and Salafism in Mecca and Medina: Jawāb al-Ifrῑqῑ - The Response of the African. BRILL. صفحہ 98. ISBN 978-90-04-27031-2. 
  10. Charles Allen (2006). God's Terrorists: The Wahhabi Cult and the Hidden Roots of Modern Jihad. Abacus. صفحہ 137. ISBN 978-0-349-11879-6. 
  11. Ayesha Jalal (2008). Partisans of Allah. Harvard University Press. صفحات 115–116, 129–131. ISBN 978-0-674-02801-2. 
  12. M. Naeem Qureshi (1999). Pan-Islam in British Indian Politics: A Study of the Khilafat Movement, 1918–1924. BRILL. صفحات 178–180. ISBN 90-04-11371-1. 
  13. M. Naeem Qureshi (1999). Pan-Islam in British Indian Politics: A Study of the Khilafat Movement, 1918–1924. BRILL. صفحات 178–180. ISBN 90-04-11371-1. 
  14. Charles Allen (2006). God's Terrorists: The Wahhabi Cult and the Hidden Roots of Modern Jihad. Abacus. صفحات 205–206. ISBN 978-0-349-11879-6. 
  15. Charles Allen (2006). God's Terrorists: The Wahhabi Cult and the Hidden Roots of Modern Jihad. Abacus. صفحات 158, 300. ISBN 978-0-349-11879-6. 
  16. Charles Allen (2006). God's Terrorists: The Wahhabi Cult and the Hidden Roots of Modern Jihad. Abacus. صفحہ 160. ISBN 978-0-349-11879-6. 
  17. Charles Allen (2006). God's Terrorists: The Wahhabi Cult and the Hidden Roots of Modern Jihad. Abacus. صفحات 160, 302. ISBN 978-0-349-11879-6. 
  18. Adil Hussain Khan (2015). From Sufism to Ahmadiyya: A Muslim Minority Movement in South Asia. Indiana University Press. صفحہ 180. ISBN 978-0-253-01529-7. 
  19. Adil Hussain Khan (2015). From Sufism to Ahmadiyya: A Muslim Minority Movement in South Asia. Indiana University Press. صفحہ 172. ISBN 978-0-253-01529-7. 
  20. Adil Hussain Khan (2015). From Sufism to Ahmadiyya: A Muslim Minority Movement in South Asia. Indiana University Press. صفحہ 133. ISBN 978-0-253-01529-7. 
  21. Charles Allen (2006). God's Terrorists: The Wahhabi Cult and the Hidden Roots of Modern Jihad. Abacus. صفحہ 205. ISBN 978-0-349-11879-6. 
  22. Adil Hussain Khan (2015). From Sufism to Ahmadiyya: A Muslim Minority Movement in South Asia. Indiana University Press. صفحہ 31. ISBN 978-0-253-01529-7. 
  23. Adil Hussain Khan (2015). From Sufism to Ahmadiyya: A Muslim Minority Movement in South Asia. Indiana University Press. صفحہ 133. ISBN 978-0-253-01529-7. 
  24. تواریخ عجیب یعنی کالا پانی، ص 264