صارف:Minhajian/اسلام میں خواتین کے حقوق (کتاب)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اسلام میں خواتین کے حقوق[1]
مصنف ڈاکٹر محمد طاہرالقادری
ملک پاکستان
زبان اردو
موضوع اسلام سے قبل عورت کا معاشرتی، مغربی معاشرہ اور عورت، اسلام میں عورت کا مقام
صنف انسانی حقوق، حقوق نسواں
ناشر منہاج القرآن پبلیکیشنز، لاہور
تاریخ اشاعت
2005ء
طرز طباعت لطیف اور کثیف جلد
صفحات 158
قبل ازاں اسلام میں انسانی حقوق
بعد ازاں اسلام میں اقلیتوں کے حقوق

حقوق نسواں کے ضمن میں ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی کتاب اسلام میں خواتین کے حقوق اسلامی معاشرے میں خواتین کیلئے سات قسم کے حقوق کا بیان ہے۔ یہ خواتین کے ان حقوق کا بیان ہے جو قرآن و سنت کی رو سے اسلامی معاشرہ انہیں دینے کا پابند ہے۔ کتاب 158 صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں 130 کتابوں کے حوالہ جات شامل ہیں۔[2]

پیش لفظ ڈاکٹر طاہر حمید تنولی نے لکھا ہے، جہاں انہوں نے بیان کیا ہے کہ اسلام نے خواتین کو زمانہ جاہلیت سے نجات دلا کر وہ بنیادی انسانی حقوق آج سے چودہ سو سال قبل عطا کر دیئے تھے جن کے حصول کیلئے مغربی معاشرے میں خواتین کو بیسویں صدی تک ایک طویل جدوجہد کرنا پڑی۔ روزِ اول سے اسلام نے عورت کے مذہبی، سماجی، معاشرتی، قانونی، آئینی، سیاسی اور انتظامی کرادر کا نہ صرف اعتراف کیا بلکہ اس کے جملہ حقوق کی ضمانت بھی فراہم کی۔ تاہم یہ ایک المیہ ہے کہ آج مغربی اہل علم جب بھی عورت کے حقوق کی تاریخ مرتب کرتے ہیں تو اس باب میں اسلام کی تاریخی خدمات اور بے مثال کردار سے یکسر صرف نظر کرتے ہوئے اسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔

اسلام سے قبل عورت کا معاشرتی[ترمیم]

اس حصے میں اسلام سے قبل عورت کے معاشرتی مقام کا ذکر ہے کہ کس طرح اس دور میں عورت اپنے بنیادی انسانی حقوق سے عاری تھی، زمانہ جاہلیت میں نومولود بچیوں کو زندہ دفن کرنے کا رواج عام تھا۔ اسی طرح شادی کے ایسے مختلف طریقے رائج تھے، جو سراسر خواتین کی تذلیل پر مشتمل تھے اور بدکاری کے اعلانیہ اظہار کا رواج بھی عام تھا۔ زمانۂ جاہلیت میں عورت اپنے حق ملکیت تک سے محروم تھی۔

مغربی معاشرہ اور عورت[ترمیم]

اس حصے میں امریکہ سمیت بعض مغربی ممالک میں خواتین میں طلاق کی شرح میں خطرناک اضافہ، خاندانی ڈھانچے کی تباہی اور بعد از طلاق خواتین کی بے سروسامانی کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس حصے میں اقوام متحدہ کی ایسی رپورٹس بھی شامل ہیں جن میں انسانی حقوق کی علمبردار قوموں میں خواتین کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں اور حق تلفیوں کا ذکر موجود ہے۔ ’’دنیا کی آدھی آبادی عورتوں پر مشتمل ہے، دنیا کے دوتہائی کام کے گھنٹوں میں عورت کام کرتی ہے مگر اسے دنیا کی آمدنی کا دسواں حصہ ملتا ہے۔ اور وہ دنیا کی املاک کے سوویں حصہ سے بھی کم کی مالک ہے۔‘‘

اسلام میں عورت کا مقام[ترمیم]

اس حصے میں سات قسم کے ان حقوق کا تفصیلی بیان ہے جو اسلام نے خواتین کو عطا کئے:

  1. عورت کے انفرادی حقوق کے تذکرہ عصمت و عفت کا حق، عزت اور رازداری کا حق، تعلیم و تربیت کا حق، حسن سلوک کا حق، ملکیت اور جائیداد کا حق اور حرمت نکاح کا حق شامل ہیں۔
  2. عورت کے عائلی حقوق کے بیان میں خواتین کے بحیثیت ماں، بیٹی، بہن اور بیوی الگ الگ حقوق بیان کئے گئے ہیں۔
  3. عورت کے ازدواجی حقوق کے ضمن میں شادی کا حق، خیارِ بلوغ کا حق، مہر کا حق، حقوق زوجیت، کفالت کا حق، اعتماد کا حق، حسن سلوک کا حق، تشدد سے تحفظ کا حق، بچوں کی پرورش کا حق اور خلع کا حق شامل ہیں۔
  4. عورت کے طلاق کے بعد حقوق کا ذکر کرتے ہوئے مہر کا حق، میراث کا حق اور حضانت کا حق شامل کئے گئے ہیں۔
  5. عورت کے معاشی حقوق کے ضمن میں وراثت کا حق، والدین، شوہر اور کلالہ کے مالِ وراثت میں حق شامل ہیں۔
  6. عورت کے قانونی حقوق کے بیان میں عورت کے ایک قانونی شخصیت (legal person) ہونے کا حق اور عورت کی گواہی کا حق مذکور ہے۔ نیز یہاں ان امور کو بطور خاص بیان کیا گیا ہے جن میں صرف عورت ہی کی گواہی معتبر ہے، جیسے ولادت اور بچے کے رونے پر گواہی، رضاعت اور ماہواری پر گواہی۔
  7. عورت کے سیاسی حقوق کے ضمن میں عورت کا ریاستی کردار اور رائے دہی کا حق شامل کیا گیا ہے۔ یہاں سیرت طیبہ کی روشنی میں ریاستِ مدینہ میں حق رائے دہی کے ضمن میں مقننہ (parliament) میں نمائندگی کا حق، عورت بطور سیاسی مشیر، انتظامی ذمہ داریوں پر تقرری کا حق، سفارتی مناصب پر فائز ہونے کا حق، ریاست کی دفاعی ذمہ داریوں میں نمائندگی کا حق، عورت کا حق امان دہی اور مسلم معاشرے میں عورت کا کردار جیسے موضوعات زیربحث آئے ہیں، جو خواتین کے حقوق کے حوالے سے اسلام مخالف پروپیگنڈا کا دلائل کے ساتھ بھرپور جواب دیتے ہیں۔

کیا عورت آدھی ہے؟[ترمیم]

یہاں ’’عورت کا حصہ تقسیم وراثت کی اکائی ہے‘‘، ’’ میراث میں حصوں کے تعین کی بنیاد جنس نہیں‘‘، ’’ مرد و عورت کی حق وراثت میں برابری‘‘ اور ’’ مرد و عورت کے مساوی حصہ کی نظیر‘‘ جیسے عنوانات بھرپور دلائل کے ساتھ شامل کئے گئے ہیں، جو قاری کو اسلام کی مساوات پر مبنی تعلیمات سے روشناس کراتے ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

زمرہ:اردو کتب زمرہ:اسلامی کتب زمرہ:تصانیف ڈاکٹرطاہرالقادری زمرہ:منہاج القرآن زمرہ:اسلام زمرہ:جنس زمرہ:خواتین زمرہ:حقوق نسواں زمرہ:انسانی حقوق