اعلامیہ لندن برائے عالمی امن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

24 ستمبر، 2011ء کو تحریک منہاج القرآن، برطانیہ نے پاکستانی سکالر طاہر القادری کی صدارت میں ویمبلے ایرینا لندن میں ’’عالمی امن برائے انسانیت کانفرنس‘‘ منعقد کروائی۔ عالمی امن کے قیام، بین المذاہب رواداری کے فروغ اور انتہاء پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے منعقدہ اس کانفرنس میں 12,000 کے قریب افراد شریک ہوئے۔[1][2] کانفرنس میں مسلم، مسیحی، یہودی، ہندو، سکھ اور بدھ مت کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ طاہر القادری کی صدارت میں ہونے والی اس کانفرنس میں شریک چھ مذاہب کے رہنماؤں نے دنیا میں امن کے قیام کے لیے درج ذیل قرارداد منظور کی:

قرارداد کا متن[ترمیم]

  1. ہم تمام جو اس کانفرنس کے دستخط کنندگان ہیں، وہ تمام انسانیت، معاشروں اور اقوام کو امن اور بھائی چارے کا پیغام دیتے ہیں اور تمام لوگوں کوآپس میں محبت، اخوت، عظمت، تحریم و تکریم اور باہم عدل و انصاف کی دعوت دیتے ہیں۔
  2. ہم اپنی آواز امن، برداشت اور تمام لوگوں کے احترام کے لیے بلند کرتے ہیں، خاص طور پر سیاسی اور مذہبی قائدین، علما، اساتذہ اور صحافی حضرات کے لیے۔
  3. اگرچہ ہم مختلف مذاہب، عقائد، ثقافت اور معاشروں میں اختلافات پاتے ہیں، تاہم، ہم اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ تمام لوگوں کو بے شمار حقوق اور اقدار حاصل ہیں اور ان سب سے بڑھ کر سیاسی حدیں اور فلسفے جو فطری طور پر موجود ہوتے ہیں اور جنہیں تمام مذاہب اور عقائد میں بہت اہمیت حاصل ہے۔
  4. یہودی، مسلمان، مسیحی، ہندو، بدھ مت اور تمام دوسرے مذاہب اور بلاشبہ وہ لوگ بھی جن کے مذہب کی کوئی نشان دہی نہیں ہے، ان تمام کو لازمی طور پر مساوی حقوق حاصل ہونے چاہیں اور وہ اپنی طرح کے لوگوں کے ساتھ امن اور باہمی ہم آہنگی کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔
اعلامیہ لندن برائے عالمی امن 2011ء میں شریک مختلف مذاہب کے نمائندگان
  1. ہم دہشت گردی کو کھلم کھلا طور پر مسترد کرتے ہیں (مذمت کرتے ہیں)، کیونکہ ہر مذہب کا یہ عقیدہ ہوتا ہے کہ معصوم لوگوں کے تقدس کا احترام کیا جائے۔ دہشت گردی کی غیر معینہ قسم میں عام شہریوں کا جنگجوئیوں کی نسبت زیادہ قتل ہوا ہے۔ یہ غیر اسلامی ہے۔ ناانصافی، مسیحیت کے خلاف اور یقیناً تمام مذاہب کے تمام عقائد کے خلاف ہے۔ ہم ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں۔
  2. ہم واضح طور پر اسلام کے نام پر کی جانے والی ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف ہیں، نہ صرف یہ بلکہ ہم اسلام اور دیگر تمام مذاہب کے نام پر کی جانے والی دہشت گردی کی نہ صرف مخالفت کرتے ہیں، بلکہ کھلم کھلا طور پر مذمت کرتے ہیں۔
  3. ہم ان تمام بین الاقوامی ایجنسیوں، حکومتوں اور ان معاشروں کے ساتھ ہیں، جو دنیا کے معصوم لوگوں کی جانیں بچانے کے لیے کوشاں ہیں۔
  4. ہم ظلم اور جبر کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ خاص طور پر The Arab Spring کو، جو ہمیں یقین ہے کہ انسانی حقوق کی بنیاد پر بنی ہوئی ہے اور بالا مذکورہ تمام انسانی حقوق سے لیس ہے۔ ہم ان تمام نظریات اور افکار کو رد کرتے ہیں کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان کسی قسم کی کوئی جنگ موجود ہے۔ ہم غیر یقینی صورت حال جو مختلف ریاستوں، قوموں اور معاشروں میں موجود ہے اس کا مقابلہ باہمی بات چیت سے کر سکتے ہیں۔
  5. جہاں تک پر تشدد کارروائیوں کا سوال ہے اور لوگوں کی شکایات کا سوال ہے، تمام ممالک کی حکومتوں کو ان کا ازالہ کرنا چاہیے۔ ہم آج اکٹھے اس لیے کھڑے ہیں کہ تمام مسائل کا پر امن حل تعلیم اور مذاکرات کے ذریعے ممکن بنائیں۔
  6. ہم تمام بین الاقوامی ایجنسیوں اور حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ کھلے دل اور مصمم ارادے سے مسلمانوں اور آزادی کے لیے متحرک عربوں کی حمایت کریں اور ہم ان سے یہ مطالبہ بھی کرتے ہیں کہ وہ یہ کام غیر عسکری، غیر جانبداری پر مبنی انصاف اور موثر ابلاغ کے ذریعے سر انجام دیں، جس سے خیر سگالی کے تعلق اور باہمی اعتماد کو فروغ ملے گا۔
  7. اس قرارداد پر دستخط کرنے والے سارے ارکان یہ یقین کر لیں کہ ایک طویل عرصے سے اسرائیل اور فلسطین کے مابین تنازعے کو کامل انصاف اور ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا انتہائی ضروری ہے۔
  8. ہم اس ضرورت پر بھی مستحکم طریقے سے زور دیتے ہیں کہ یہ تنازع اس طرح حل کر لیا جائے کہ فلسطینیوں کو مکمل آزادی حاصل ہو جائے اور فلسطینیوں کو ایک الگ ریاست مل جائے۔ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کو پائیدار اور حتمی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ بین الاقوامی برادری متحدہ طور پر اس کی پر زور حمایت کرے اور اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ معاہدے کی شرائط دونوں ریاستوں کے شہریوں کے لیے یکساں مفید ہوں، جن کے مابین ایک عرصے سے خوف اور عدم اعتماد کی فضاء قائم ہے۔
  9. ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ انسانی حقوق، بنیادی آزادیوں، مرد اور عورت کے درمیان مساوات، صلح، عفو درگزر، کشادہ دلی اور یکجہتی جیسی اعلیٰ انسانی قدروں کو فروغ دیا جائے۔
  10. ہم مشترکہ طور پر یہ اعلان کرتے ہیں کہ تمام انسان برابر ہیں اور سب کے ساتھ یکساں عزت و احترام، حلیمی برد باری، انصاف اور یکجہتی کے ساتھ پیش آ یا جائے، کسی گورے کو کالے پر اور کالے کو گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں سوائے تقویٰ کے۔
  11. ہم نسل پرستی کی ہر شکل کی واشگاف الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
  12. ہم مغربی ممالک میں بسنے والے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ اپنے اپنے ملک کے قوانین کا احترام کریں۔ خواہ انہیں شہری حقوق حاصل ہوئے ہوں یا نہیں۔
  13. ہم تمام مغربی حکومتوں اور مسلمانوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ معاشرتی وحدت اور شہریت کو فروغ دیں، کیونکہ وحدت اور پر امن بقائے باہمی کے حصول کا یہی ایک راستہ ہے۔
  14. ہم دنیا کی تمام حکومتوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ نفرت، تشدد، مذہبی عدم رواداری اور قومیت پرستی کے خلاف اپنی اقلیتوں کو تحفظ فراہم کریں۔
  15. ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ افریقہ اور دنیا کے دیگر غربت اور افلاس زدہ اقوام کی امداد میں اضافہ کیا جائے۔ تا کہ ان کا معیار زندگی بہتر کیا جا سکے، انہیں معاشرتی، اقتصادی اور سیاسی استحکام فراہم کیا جا سکے اور صحیح جمہوریت کے مقاصد کے شعور کو عام کیا جا سکے۔
  16. ہم دنیا کی اقتصادی قوتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مالی ترجیحات میں انسان دوستی کو بھی شامل کریں، عالمی جنگوں کے بعد یورپی ریاستوں کا استحکام ایک لازمی امر ہے۔
  17. ہم دنیا کی جملہ حکومتوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ غربت و افلاس کے انسداد، جہالت کے خلاف جنگ، ہتھیاروں کی دوڑ اور قدرتی ماحول کو لاحق خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی جدوجہد تیز تر کر یں۔
  18. لندن میں آج Peace for humanity کے گیارہ ہزار شرکاء عالمی امن اور انتہا پسندی کے خلاف مزاحمت کے اس Declaration کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔
  19. آخر میں اس قرارداد کے تمام دستخط کنندگان عوام الناس پر زور دیتے ہیں کہ وہ جہاں کہیں بھی ہیں، ہمارے ان عقائد، توقعات اور خواہشات کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کریں۔[3]

اہم شرکاء[ترمیم]

  1. ڈاکٹر طاہرالقادری
  2. صاحبزادہ پیر سید عبد القادر جمال الدین الگیلانی
  3. پیر سید عبد القادر شاہ جیلانی
  4. صاحبزادہ پیر امین الحسنات شاہ
  5. پروفیسر ڈاکٹر اسامہ العبد (وائس چانسلر الازہر یونیورسٹی، مصر)
  6. ڈاکٹر عبد الدیام النصیر
  7. شیخ ڈاکٹر محمد النناوی (یو ایس اے)
  8. شیخ احمد بابکر (یوکے / سوڈان)
  9. ڈاکٹر حسن محی الدین قادری (صدر سپریم کونسل منہاج القرآن انٹرنیشنل)
  10. ڈاکٹر جوئل ہیورڈ (یوکے)
  11. نور محمد جرال میثوت کرتئس
  12. مسز نعیمہ جلیل
  13. محترمہ غزالہ حسن قادری
  14. محترمہ خدیجہ ایٹکنسن
  15. محترمہ ثوابا
  16. کمیونٹی منسٹر ائیرک
  17. صاحبزادہ پیر فیاض الحسن شاہ
  18. ڈاکٹر رحیق احمد عباسی (ناظم اعلیٰ تحریک منہاج القرآن)
  19. قاری سید صداقت علی
  20. جی ایم ملک
  21. جواد حامد

حوالہ جات[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]