عبادت بریلوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبادت بریلوی
معلومات شخصیت
پیدائش 14 اگست 1920  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
بریلی،  برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 19 دسمبر 1998 (78 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
لاہور،  برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن سمن آباد،  لاہور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ لکھنؤ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
تعلیمی اسناد پی ایچ ڈی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیمی اسناد (P512) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ پروفیسر،  سفرنامہ نگار،  ادبی تنقید نگار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان اردو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل ادبی تنقید،  خاکہ نگاری،  سفرنامہ،  غالبیات،  خود نوشت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
ملازمت اورینٹل کالج لاہور،  اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹڈیز، یونیورسٹی آف لندن،  جامعہ پنجاب،  جامعہ انقرہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

پروفیسر ڈاکٹر عبادت بریلوی (پیدائش: 14 اگست 1920ء- وفات: 19 دسمبر 1998ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو زبان کے نامور اردو نقاد، محقق، معلم، خاکہ نگار اور سفرنامہ نگار تھے جو اپنی تصنیف اردو تنقید کا ارتقا کی وجہ سے مشہور و معروف ہیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

ڈاکٹر عبادت بریلوی 14 اگست، 1920ء کو بریلی، اترپردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام عبادت یار خان تھا۔[1][2] 1942ء میں انہوں نے لکھنؤ یونیورسٹی سے ایم اے اور 1946ء میں اسی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔[2]

ملازمت[ترمیم]

عبادت بریلوی کی تعلیم مکمل ہوئی تو انہیں اینگلوعریبک کالج، دہلی میں ملازمت مل گئی۔ محمد علی جناح اور لیاقت علی خان بھی اس تعلیمی ادارے کے صدر رہے ہیں۔ یہ 1944ء کا دورتھا، تب تک دہلی مسلم لیگ کا گڑھ بن چکا تھا، لیکن جب پاکستان بن گیا اور مولوی عبدالحق بھارت سے ہجرت کر کے پاکستان منتقل ہو گئے تو اس کالج کی دنیا ہی بدل گئی۔ مسلمانان دہلی بھی پاکستان ہجرت کرنے لگے، لیکن عبادت بریلوی 1950ء تک وہیں رہے۔ آخر مولوی عبد الحق کے مشورے سے پاکستان آئے اور اورینٹل کالج لاہور سے ملازمت کا آغاز کیا۔ اورینٹل کالج میں گیارہ سال گزارنے کے بعد عبادت بریلوی لندن اسکول آف اورینٹل اینڈ افریکن اسٹڈیز، لندن یونیورسٹی چلے گئے۔ وہاں انھوں نے بی اے آنرز کے طلبہ کو پڑھایا۔ ساتھ ساتھ پی ایچ ڈی کے کام کی نگرانی بھی کی۔ وہاں علمی و تحقیقی کام کے نئے میدان سامنے آئے۔ انہوں نے وہاں 6 سال قیام کیا۔ اس دوران بے شمار فارسی و عربی مقالے اور نادر نسخے تلاش کر کے ان کی طباعت کی۔[3]

1966ء میں وطن واپس آئے، تو جامعہ پنجاب کے پروفیسر مقرر ہو ئے۔1970ء میں اورینٹل کالج کے پرنسپل بنائے گئے۔ ان کے دورمیں پوری دنیا سے دانش ور اور پروفیسرز کالج میں لیکچر دینے آتے تھے۔ یوں کالج نے بین الاقوامی شہرت حاصل کر لی اور اسے مشرقی اور اسلامی علوم کا اہم ادارہ سمجھا جانے لگا۔[3]

عبادت نے عمر عزیز کے 32 سال جامعہ پنجاب اور اورینٹل کالج میں گزارے،ایک معلم کی حیثیت سے ہزا رہا لیکچر دیے، بحیثیت ادیب ہزا رہا صفحے لکھے۔ دہلی،لاہور، لندن اور ترکی میں بے شمار تحقیقی مقالوں کی نگرانی کی۔ 14 اگست 1980ء کو ان کی مدتِ ملازمت ختم ہوئی۔ انہوں نے چالیس سالہ ملازمت کے دوران پروفیسر و صدرشعبہ، اورینٹل کالج کے پرنسپل، اسلامک اور اورینٹل لرننگ کے ڈین اور تاریخ ادبیات مسلمانِ پاکستان و ہند کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کیا۔ اس دوران 125 کتابیں تحریر کیں۔ سبکدوشی کے بعد مدت ملازمت میں توسیع ہوئی، تو دو سال کے لیے حکومت نے انہیں انقرہ، ترکی بھیج دیا۔ انقرہ یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے پروفیسر کی کرسی خالی تھی۔ عبادت صاحب نے وہاں بھی محنت اور لگن سے کام کیا۔ اردو کی انڈر گریجویٹ کلاسوں کے ساتھ ساتھ پوسٹ گریجویٹ کلاسوں کا بھی اجرا کیا، جہاں تحقیقی کام باقاعدگی سے ہونے لگا۔ قیامِ ترکی کی روداد عبادت بریلوی نے ایک سفرنامے ترکی میں دو سال کے نام سے قلمبند کی۔ جدید ترکی کے بارے میں یہ واحد کتاب ہے جس سے ترکی اور پاکستان کے دیرینہ تعلقات اور باہمی محبت آشکار ہوتی ہے۔ تقریباً تین سال ترکی میں گزارنے کے بعد وہ فراغت کی زندگی بسر کرنے لگے۔[3]

ادبی خدمات[ترمیم]

ڈاکٹر عبادت بریلوی کی پہچان اردو تنقید ہے، وہ اردو کے صفِ اول کے نقاد مانے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ محقق اور سفر نامہ نگار بھی ہیں۔ ان کی تصانیف میں اردو تنقید کا ارتقا، تنقیدی زاویے، غزل اور مطالعۂ غزل، غالب کا فن، غالب اور مطالعۂ غالب، تنقیدی تجربے، جدید اردو تنقید، جدید اردو ادب، اقبال کی اردو نثر اور شاعری، شاعری کی تنقید' کے نام سرفہرست ہیں۔ ان کے سفرناموں میں ارضِ پاک سے دیارِ فرنگ تک، ترکی میں دو سال، دیارِ حبیب میں چند روز اور لندن کی ڈائری اور آپ بیتی یاد عہد رفتہ کے نام شامل ہیں۔[2]

تصانیف[ترمیم]

تنقید و تحقیق[ترمیم]

  • اردو تنقید کا ارتقا
  • تنقیدی زاویے
  • تنقید اور اصول تنقید
  • اردو تنقید نگاری
  • غزل اور مطالعۂ غزل
  • غالب کا فن
  • غالب اور مطالعۂ غالب
  • تنقیدی تجربے
  • جدید اردو تنقید
  • جدید اردو ادب
  • جدید شاعری
  • اقبال کی اردو نثر اور شاعری
  • شاعری کی تنقید
  • مراثیٔ جرأت
  • روایت کی اہمیت
  • مادھونل اور کام کندلا
  • خطوطِ عبد الحق بنام ڈاکٹر عبد اللہ چغتائی
  • گلزارِ دانش

خاکے[ترمیم]

  • آوارگان عشق
  • جلوہ ہائے صد رنگ
  • بلا کشان محبت
  • آہوان صحرا
  • غز لان رعنا
  • شجر ہائے سایہ دار
  • یاران دیرینہ

سفرنامے[ترمیم]

  • ارض پاک سے دیار فرنگ تک
  • ترکی میں دو سال
  • دیار حبیب میں چند روز
  • لندن کی ڈائری

آپ بیتی[ترمیم]

  • یاد عہد رفتہ

ڈاکٹر عبادت بریلوی کے فن و شخصیت پر تحقیقی مقالات[ترمیم]

ڈاکٹر عبادت بریلوی کی ادبی خدمات کا تنقیدی جائزہ (پی ایچ ڈی مقالہ)، روبینہ شائستہ وحید، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد، 2005ء

وفات[ترمیم]

ڈاکٹر عبادت بریلوی 19 دسمبر، 1998ء کو لاہور، پاکستان میں وفات پاگئے۔ وہ لاہور میں سمن آباد کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔[1][2][3]

حوالہ جات[ترمیم]