عبد الکریم خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
عبد الکریم خان
سنگیت رتن
Abdul Karim Khan.jpg
علاقائی نام अब्दुल करीम खाँ
پیدائش 11 نومبر 1872ء
کیرانہ، مظفر نگر، اتر پردیش، برطانوی ہندوستان
وفات 27 اکتوبر 1937 (عمر 54 سال)
قومیت ہندوستان
وجۂ شہرت کلاسیکی گلوکاری

استاد عبد الکریم خان (انگریزی: Abdul Karim Khan) (پیدائش: 11 نومبر، 1882ء - وفات: 27 اکتوبر، 1937ء) سنگیت رتن کا خطاب پانے والے کیرانہ گھرانے کے شہرۂ آفاق ہندوستانی کلاسیکی گائیک تھے۔ انہیں سنگیت کے روحانی منصب کا احساس ودیعت ہوا تھا۔ انہوں نے تعصب سے رہا ہو کر اپنے گانے میں اسلامی روحیانیت اور ہندو روحانیت کو باہم یک جان کیا[1]۔ ان کے شاگردوں میں پنڈت سوائی گندھرو، سریش بابو، استاد وحید خان، حفیظ اللہ خان، ہیرا بائی بروڈکر، روشن آرا بیگم وغیرہ شامل ہیں۔

حالات زندگی و فن[ترمیم]

عبد الکریم خاں صاحب 11 نومبر، 1882ء کو کیرانہ، مظفر نگر، اتر پردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے[2]۔ کیرانہ کا قصبہ کوروکھیشتر کے قریب واقع ہے جہاں کوروں اور پانڈوؤں میں جنگ ہوئی تھی۔ ان کے والد کالے خان صاحب سارنگی میں اپنا مقام رکھتے تھے۔موسیقی کی ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی۔ والد کی ناگہانی وفات کے بعد استاد عبد اللہ خان اور پھر استاد حیدر خان سے موسیقی کے اسرار و رموز سیکھے[3]۔ ابتدائی 1908ء میں عبدالکریم خان مہاراجہ بڑودا کے درباری گائیک ہوگئے۔ وہیں شاہی خانوادے کی تارہ بائی سے عشق ہوگیا۔ دونوں کو بڑودہ چھوڑ کر بمبئی میں پناہ لینا پڑی۔اس دوران انہوں نے موسیقی کی تعلیم کے باقاعدہ ادارے قائم کئے۔ پونے کے قریب میرج میں مستقل سکونت پزیر ہوئے۔ دربارِ ریاست میسور سے سنگیت رتن کا خطاب پایا۔ 1922ء میں تارہ بائی نے استاد عبدالکریم سے علاحدگی اختیار کی۔ جس گلے سے سُر کا چشمہ بہتا تھا اس پہ برہا کے گز کا باریک تار پھرگیا، استاد کی گائیکی میں ملال اور سوز کی لکیریں گہری ہوگئیں۔[3]

استاد عبد الکریم خاں‌صاحب اور ان کے شاگرد و خلیفہ پنڈت سوائی گندھرو

عبد الکریم خاں صاحب نے سُر لگانے کا انوکھا طریقہ ایجاد کیا جس سے سُر میں ایک پُر ہیبت گہرائی پیدا ہوتی ہے۔ اس طریقے کا گُر یہ ہے کہ آواز پورا دہانہ پھاڑ کر نہ نکالی جائے، دہن صرف اتنا کھلے کہ گلے سے آواز سرسوتی بین کی آواز کی طرح ایک باطنی گونج بن کر نکلے اور یوں احساس ہو کہ یہ آواز جذبے کی مہیب اور پراسرار گہرائیوں سے آ رہی ہے۔ اس ترکیب سے کیرانہ گھرانے کے اونچے مدھ سا میں انہوں (عبد الکریم خاں صاحب) نے گمبھیریا پیدا کی اور اسے شاندار بنا دیا۔[4]

خاں صاحب گیانیوں کی تلاش میں رہتے تھے۔ کرناٹک کے راگیوں سے بھی ان کے روابط تھے اور ان سے انہوں نے کرناٹک کے راگ اخذ کر کے شمالی ہندوستان میں رائج کیے، ان میں گورکھ کلیان، ابھوگی اور ہنس دھن بے حد دلآویز راگ ہیں۔[4]

استاد عبد الکریم خاں صاحب رابندر ناتھ ٹیگور کے ساتھ شعر کی نزاکتوں اور فزکس میں نوبل انعام یافتہ سی وی رامن سے موسیقی کے صوتیاتی اصولوں پر علمی مکالمہ کیا کرتے تھے۔ استاد عبد الکریم کی گائیکی میں الوہی کیفیت تھی، سرگم کی چتر کاری میں وارفتگی اور عبودیت میں فاصلہ نہیں رہتا تھا۔ گاتے وقت استاد کریم کی سر ور کی کیفیت سننے والوں پر یوں اترتی تھی جیسے کوئی عارف اپنے پیروکاروں میں گیان کے موتی بانٹتا ہے۔ استاد عبدالکریم وسطی ہندوستان کے پہلے گائیک تھے جنہوں نے جنوبی ہند کی راگ ودیا کو سمجھا بھی اور اپنی گائیکی میں سمویا بھی[3]۔ عبد الکریم خاں صاحب کی مخملیں آواز تھی اور جو جھلمل کمخواب میں ہوتی ہے، ان کی آوز میں بھی تھی۔ اس گنگاجمنی آواز میں مسلم اور ہندو تہذیبیں گھل مل کر موجزن تھیں۔[5]

ان کے مرغوب راگوں میں تلنگ، بھیرویں، شنکرا، بھیم پلاسی، جھنجوٹی، ماروا، بسنت، درباری، مالکوس، گوجری، کومل رکھب آساوری اور ابھوگی کانڑاشامل ہیں۔[5]

وفات[ترمیم]

1937ء میں جنوبی ہندوستان کی یاترا پر تھے۔ ریل گاڑی میں طبیعت کچھ ناساز ہوئی۔ ایک گمنام سے اسٹیشن پر اتر پڑے اورٹالسٹائی کی طرح پلیٹ فارم پر 27 اکتوبر کو دم توڑ دیا[2]۔ ان کی شاگرد روشن آرا بیگم راوی تھیں کہ استاد کریم آخری وقت میں راگ درباری کے سروں میں کلمہ پڑھ رہے تھے۔ استاد فیاض خان کو خان صاحب عبدالکریم کے ناگہانی انتقال کی خبر ملی تو بے ساختہ کہا ہندوستان میں سُر مرگیا۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]