ماجد دیوبندی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ڈاکٹر ماجد دیوبندی
ماجدؔ دیوبندی
پیدائش 07 جولائی 1964ء
دیوبند، یوپی، انڈیا
رہائش نئی دہلی
اسمائے دیگر ماجد دیوبندی
پیشہ ادب سے وابستگی
وجہِ شہرت شاعری، نثر نگاری، صحافت
مذہب اسلام
یادہانی

ڈاکٹر ماجدؔ دیوبندی : ماجد ؔ دیوبندی، شاعری، نثر نگاری، صحافت، تشہیر اردو ادب کی ایک جامع شخصیت کے طور پر مانے جاتے ہیں۔ ان کی پیدائش دیوبند کے ایک علمی گھرانے میں 7؍جولائی 1964ء کو ہوئی۔ ان کے والد اردو فارسی کی اعلیٰ صلاحیت رکھتے تھے۔گھر کے ماحول اور والد کی وجہ سے وہ اردو کی طرف راغب ہوئے۔ ہائی اسکول سے لے کر پی۔ ایچ۔ ڈی۔ تک اول نمبروں سے کامیابی حاصل کی۔12 سال کی عمر میں پہلا شعر کہا، وہ یہ تھا۔

جس کو اللہ پر بھروسا ہے—وہ کبھی بھی نہیں بھٹکتا ہے

پیشہ ورانہ سفر[ترمیم]

تقریباً 18 سال انھوں نے آل انڈیا ریڈیو، دہلی میں بحیثیت اناؤنسر کام کیا۔ عرصہ دراز تک دور درشن (انڈین ٹیلی ویژن) دہلی میں اردو خبریں پڑھ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے ٹی۔ وی۔ چینلوں میں بحیثیت شاعر ان کی تخلیقات نشر ہوتی رہتی ہیں۔ ’’ذی سلام‘‘ چینل پر باقائدہ پروگرام ’’ملاقات‘‘ میں ملک کی اہم ترین شخصیات کے انٹرویو کر چکے ہیں۔

ادبی سفر[ترمیم]

ماجد دیوبندی کی تصنیف ؛ لہو لہو آنکھیں۔
ذکرِ رسول۔
ہندی تصنیف - لہو لہو آنکھیں۔

چوں کہ بچپن سے شعر ادب سے لگاؤ تھا، بچپن سے شعر گوئی کرتے تھے۔ علم و فراست ورثہ میں ملی تھی۔ مشاعروں میں شرکت عام بات تھی۔ 1978ء سے ملک اور بیرون ملک مشاعروں میں شرکت کر رہے ہیں۔ دنیا کے بہت سے ملکوں میں نہ صرف شاعر ی بلکہ بہت سے مشاعروں کی نظامت بھی کر چکے ہیں۔

ہندوستان سے باہر سعودی عرب، پاکستان،دبئی،شارجہ،العین،ابو ظہبی،مسقط(عمان)،دوحہ(قطر) ،[1] کویت ،[2] بحرین، ماریشس، نیپال، ایران اور عراق وغیرہ ملکوں میں شرکت کر چکے ہیں۔1991ء سے جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی میں ملازمت کر رہے ہیں۔ ماجدؔ دیوبندی اردو ماہنامہ ’’ادبی میزان‘‘ کے ایڈیٹر بھی ہیں۔ اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی سے شائع رسالہ ’’تدریس نامہ‘‘ کے وہ معاون ایڈیٹر بھی رہ چکے ہیں۔ ڈاکٹر ماجد ؔ دیوبندی کی سرپرستی میں دہلی سے اردو روزنامہ ’’قومی میزان‘‘ بھی شائع ہو رہا ہے۔ یہ اخبار ملی اور قومی سوچ کی ترجمانی کر رہا ہے ساتھ ہی ملی مسائل پر ایمانداری سے لکھ رہا ہے۔ وہ نعت کونسل آف انڈیا کے بانی اور سکریٹری ہیں جبکہ آل انڈیا مائنورٹی ایجوکیشن ٹرسٹ رجسٹرڈ کے وہ صدر بھی ہیں۔ حکومت ہند نے ماجد ؔ دیوبندی کوقومی نگرانی کمیٹی برائے اقلیتی تعلیم کا رکن بھی نامزد کیا ہوا ہے۔ پوری دنیا میں ان کی پہچان اسلامی فکر کی شاعری کے حو الے سے بہت نمایاں ہے۔ انھوں نے اپنی شاعری میں فکر اقبال کو آگے بڑھانے میں اہم کام انجام دیا ہے۔

تصانیف و شعری مجموعے[ترمیم]

تقریباً پچاس آڈیو کیسٹیں [3] اور نعت اور غزلوں کی دس ویڈیوسی۔ ڈی ان کی اپنی آواز میں بازار میں موجو د ہیں۔[4]

  • شعری مجموعے : غزل کے دو شعری مجموعے’’ لہو لہو آنکھیں ‘‘اور’’ شاخِ دل‘‘ کے علاوہ دو شعری مجموعے ہندی میں شائع ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک نعتوں کا مجموعہ ’’ذکرِ رسول‘‘ شائع ہو کر عوام میں مقبول ہو چکا ہے۔ نثر میں ان کی ایک بہت اہم کتاب’’خواجہ حسن نظامی: ایک تحقیقی مطالعہ‘‘ بھی شائع ہو کر ادبی حلقوں میں داد و تحسین حاصل کر چکی ہے۔ ایک نثر کی کتاب ’’میری تحریریں‘‘شائع ہو کر منظر عام پر آچکی ہے۔ اس میں ادب کے مشاہیر پر ان کی شخصیت ،شاعری اور تنقیدی مضامین شامل ہیں۔ تازہ شعری مجموعہ ’’جگنو بولتا ہے‘‘ بھی جلد شائع ہونے والا ہے۔
  • نعت کی تازہ کتاب ’’ وہ میرا نبی ہے‘‘ جلد شائع ہونے والی ہے۔ سابق وزیر اعظم اندر کمار گجرال بھی ماجدؔ دیوبندی کو اُن کی ادبی خدمات کے اعتراف میں اعزاز سے نواز چکے ہیں۔

فہرست اعزازات[ترمیم]

ماجد صدر ایوارڈ لیتے ہوئے۔ ڈاکٹر شنکر دیال شرما سابق صدر ہند۔
ماجد دیوبندی، سعودی عرب میں اعزاز حاصل کرتے ہوئے۔
ماجد دیوبندی ایوارڈ لیتے ہوئے۔

ہندوستان کی اہم ترین سیاسی اور ادبی شخصیات کے علاوہ بہت سی تنظیموں نے ان کو بہت سے اعزازات سے نوازا ہے جو مندرجہ ذیل ہیں۔[5]

  1. صدر جمہوریہ ایوارڈ - 1993
  2. ابوالکلام آزاد ایوارڈ- 1995
  3. اردو شاعری ایوارڈ - 1996
  4. فروغ اردو ایوارڈ- 1996
  5. راجیو گاندھی ایوارڈ - 1997
  6. مرزا غالب ایوارڈ- 1998
  7. تسمیہ اردو شاعری ایوارڈ- 1999
  8. یو۔ پی۔ اردو اکیڈمی ایوارڈ- 2000
  9. فضا ابن فیضی شاعری ایوارڈ- 2000
  10. نامور شاعر ایوارڈ- 2000
  11. ممتاز نوجوان اردو شاعری ایوارڈ- 2001
  12. عزیز بارہ بنکوی نعتیہ ایوارڈ- 2001
  13. آئنہ حق اردو شاعری ایوارڈ - 2002
  14. آفاقِ اردو ایوارڈ- 2002
  15. کیفی اعظمی اردو شاعری ایوارڈ- 2005
  16. اردو سبھا شاعری ایوارڈ -2005
  17. ۔ راشد مسعود اردو شاعری ایوارڈ -2006
  18. فخر دیوبند ایوارڈ- 2006
  19. کمال مدراسی اردو شاعری ایوارڈ -2006
  20. علامہ اقبال اردو شاعری ایوارڈ- 2007
  21. مولانا محمد علی جوہر اردو شاعری ایوارڈ -2008
  22. مولانا کاشف اردو شاعری ایوارڈ -2009
  23. سماجی خدمت ایوارڈ- 2009
  24. اسپیکر عبد الشکور اردو شاعری ایوارڈ -2010
  25. وقار الملک ایوارڈ - 2011
  26. سماجی خدمت ایوارڈ- 2012
  27. فروغِ اردو ایوارد - (کویت)2013
  28. ادبی خدمات ایوارڈ- 2013 [6]
  29. قومی یکجہتی شاعری ایوارڈ2013
  30. آبروئے غزل ایوارڈ- 2014
  31. فخرِ اردو شاعری ایوارڈ -2015

منتخب اشعار[ترمیم]

ان کا ایک شعر ان کی پہچان ہے جو پوری دنیا میں مشہور ہے:

اللہ میرے رزق کی برکت نہ چلی جائے

دو روز سے گھر میں کوئی مہمان نہیں ہے

؛کچھ مختلف چنندہ اشعار؛

جب کبھی ہاتھ گناہوں کی طرف بڑھتے ہیں

روک لیتی ہے یہ ایمان کی طاقت ہم کو

کر دیا جاتا ہے ظالم کو مسلط اس پر

گمرہی جب بھی مسلمان میں آ جاتی ہے

اردو فقط اردونہیں تہذیب ہے میری

اعزاز ہے یہ باعث تحقیر نہیں ہے

تپش ممکن ہے ان کی عرش ِ اعظم تک پہنچ جائے

مرے جلتے ہوئے آنسو دعا کے ساتھ چلتے ہیں

یہ پستیاں بھی حقارت سے دیکھتی ہیں ہمیں

نہ جانے کیسی بلندی سے ہم اتر آئے

تاثرات[ترمیم]

شعری تخلیقات پر ہندوستان کے اہم ترین نقاد اور مشہور شخصیات نے اپنے تاثرات قلم بند کیے ہیں جن میں پروفیسر گوپی چند نارنگ، پروفیسر عبد الحق ،پروفیسر مظفر حنفی، پروفیسر شمیم حنفی، پروفیسر تنویر علوی، پروفیسرعبدالحق، پروفیسر نثار فاروقی، پروفیسر ملک زادہ منظور، مجروح سلطانپوری، شمیم جے پوری ،ندا فاضلی، مظہر امام، ڈاکٹر مفتی محمد مکرم، پرفیسر غلام یحیٰ انجم، ڈاکٹر ناصر انصار، منور رانا، انور جلالپوری، راحت اندوری وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔

احمد علی برقی اعظمی[ترمیم]

ماجد دیوبندی عہد حاضر کے ایک معروف و مقبول سخنور ہیں جنھوں نے نہ صرف اپنے آبائی وطن دیوبند بلکہ اپنے وطنِ عزیز ہندوستان کا بھی نام اقصائے عالم میں روشن کیا ہے۔ ان کے کلام کا منفرد اور دلکش اسلوب اور ساتھ ہی ساتھ ان کا دلنواز ترنم بے اختیار دامن دل کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ وہ اپنی خداداد استعداد اور بصیرت و بصارت کی وجہ سے مقبول خاص و عام ہیں اور شاید ان کے انھیں محاسن کی وجہ سے ریاستی دہلی حکومت نے انھیں دہلی اردو اکادمی کا وائس چیئرمین منتخب کیا ہے تاکہ وہ دہلی اردو اکامی کی ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کو نہ صرف اندرونِ ملک بلکہ عالمی سطح پر بھی فروغ دے کر اپنا مثبت اور موثر کردار ادا کرسکیں۔

موجودہ سرگرمیاں[ترمیم]

اگست 2015 میں اردو اکادمی دہلی کے وائس چیرمن مقرر ہوئے ہیں[7] مشہور پروڈیوسر صہیب الیاسی کی نئی فلم"The Wedding Gift – 498A" میں وہ نغمے لکھ چکے ہیں۔ یہ فلم بہت جلد دنیا بھر میں دکھائی جانے والی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]