مذہبی قومیت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

دنیا کے کئی ترقی پزیر ممالک سیکیولر ازم کے علم بردار ہیں جو ایک ملی جلی تہذیب میں اور گہرا رچاؤ پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ ایک طرح سے وہ تہذیب ہوتی ہے جو اُس زمین پر بسنے والے لوگوں کے غم اور خوشیاں، رشتے ناتے، کھانا پینا، جشن اور سوگ اور یہاں تک کے معاشی ضرورتوں کو بھی ایک دوسرے سے جوڑے رکھتی ہے۔ یہ لوگوں کو حوصلہ دیتی ہے کہ وہ اس روایت کو اپنے ثقافتی ڈھانچے سے الگ نہیں ہونے دیں گے–[1] اس کے بر عکس دنیا کے کئی ممالک ایسے بھی ہیں جن کا وجود یا ان کی پہچان کسی خاص مذہبی یا مسلکی پہچان اور اسی کے غلبے پر مرکوز ہوتی ہے۔ یہ مذہبی قومیت (انگریزی: Religious nationalism) کہلاتی ہے۔ دنیا میں اس کی ایک مثال پاکستان ہے، جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا تھا۔ اسی طرح سے اس کی مثالیں مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان ہیں جو اپنی الگ مسیحی مذہبی شناخت کے تحفظ کے لیے وجود میں آئے تھے۔

پاکستان کے بر عکس بھارت ایک سیکیولر ملک ہے۔ تاہم بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے اپنی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی عام انتخابات میں دوسری مدت کیلئے تاریخی فتح یقینی بنانے کے ایک برس بعد، اب ان کی جماعت کورونا وائرس کی وبا کیخلاف اپنے ردعمل کے سبب ہمیشہ کی طرح مقبول دکھائی دینے لگی۔ تاہم محض اس سے کچھ عرصہ قبل، شمال مشرقی دہلی کے فسادات نئی دہلی میں ہندو مسلم خون خرابے کا باعث بننے والے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرے کی وجہ سے بھارت جل اٹھا تھا۔ 25 فروری کو ایک ہنگامے میں ماتھے پر زعفرانی رنگ کی پٹیاں باندھے، لوہے کے راڈ لہراتے مشتعل زیادہ تر اکثریتی فرقے کے ہجوموں نے مقامی مسلمانوں کی دکانوں اور گھروں پر حملے کئے اور مکینوں کو مارا پیٹا۔ تشدد کی اس ابتدائی لہرکے بعد محض تین دن میں 40 سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور 200 زخمی ہوئے جن میں زیادہ تر مسلمان تھے۔ دہلی پولیس براہ راست وزیرداخلہ امیت شاہ کے ماتحت آتی ہے۔ امیت شاہ ایک عرصہ دراز سے مودی کے دائیں بازو کے طور پر کام کرتے آ رہے ہیں، اور کچھ سیاسی ماہرین کے مطابق انہوں نے فرقہ وارانہ ہندو قوم پرستی کو کسی بھی دوسرے حکومتی رکن سے زیادہ بھڑکایا ہے۔ تشدد کی یہ لہر بھارت میں مہینوں سے بڑھتے تناؤ میں سب سے پریشان کن پیش رفت تھی۔ ابھی حال ہی میں کورونا کی وبا خطرناک مسلم مخالف جذبات کو بھڑکانے کا ایک اور موجب ثابت ہوئی ہے[2]، کچھ حلقوں سے ملک کے کئی مقامات اس وباکے شروع شروع میں ایک تاثر کو فروغ بھی دیا گیا کہ مسلمان بحیثیت مجموعی یا ان کے کچھ خاص زمرے جیسے کہ تبلیغی جماعت یہ وبا ملک میں پھیلانے میں مصروف ہیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]